واشنگٹن (نیشنل ٹائمز) امریکی ارب پتی ایلون مسک کی کمپنی سپیس ایکس چاند پر مستقل اڈہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جبکہ جیف بیزوس اپنی کمپنی بلیو اوریجن کے منصوبوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ دونوں کمپنیاں 2030 میں چین کے متوقع مشن سے پہلے انسانوں کو دوبارہ چاند پر بھیجنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔اس سال متوقع عوامی پیشکش کے تناظر میں مسک نے کہا ہے کہ وہ مون بیس الفا قائم کریں گے اور چاند کی سطح پر سیٹلائٹ بھیجنے کا نظام نصب کریں گے ، یہ اڈہ مصنوعی ذہانت پر مبنی کمپیوٹنگ نیٹ ورک کے قیام میں مدد دے گا، جس میں لاکھوں سیٹلائٹس خلا میں تعینات کئے جا سکتے ہیں۔مسک کی چاند کی جانب تیز پیش قدمی نے سپیس ایکس کی توجہ مریخ پر نوآبادیاتی مشن سے ہٹا دی ہے ، جسے وہ کمپنی کے قیام سے فروغ دیتے آئے تھے ۔ گزشتہ موسم گرما تک انہوں نے بغیر انسان کے اسٹارشپ کو مریخ بھیجنے کی امید ظاہر کی تھی اور چاند کو وقتی طور پر توجہ ہٹانے والی چیز کہا تھا۔ادھر جیف بیزوس کی کمپنی نے بھی اپنے قمری پروگرام پر توجہ بڑھائی ہے ۔انہوں نے خلا سیاحت کے منصوبے بند کر کے وسائل بلیو مون پروگرام کی جانب منتقل کر دیے ہیں، جس کے تحت اس سال چاند کی سطح پر بغیر انسان کے مشن کی منصوبہ بندی ہے ۔مسک اب سرمایہ کاروں کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ عوامی پیشکش سے پہلے اسپیس ایکس خلائی صنعت میں اپنی برتری برقرار رکھے گی، اور اندازہ ہے کہ کمپنی کی مالیت ایک کھرب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے ۔اس ہفتے مسک کی جانب سے سوشل پلیٹ فارم ایکس پر چاند کی جانب رخ موڑنے کی پوسٹس کے بعد بیزوس نے سیاہ و سفید کچھوے کی تصویر شیئر کی، جو ثابت قدمی کے سبق کی یاد دہانی کراتی ہے ۔ بلیو اوریجن نے اپنے نصب العین میں اس سبق کو شامل کیا ہے :قدم بہ قدم، پوری شدت کے ساتھ\”۔دیگر خلائی کمپنیوں کے عہدیدار بھی امریکی حکومت کے قمری منصوبوں پر بڑھتے ہوئے اخراجات سے فائدہ اٹھانے کی توقع رکھتے ہیں۔بلیو اوریجن کا اس سال کا بغیر انسان کا قمری مشن خلا بازوں کی لینڈنگ کی تیاری کا حصہ ہے ۔ یہ منصوبہ ناسا کے قمری پروگرام سے منسلک ہے اور بڑی حد تک اسپیس ایکس کے اسٹارشپ پر انحصار کرتا ہے ۔سیئٹل میں قائم کمپنی کا قمری لینڈر گزشتہ ہفتے ٹیکساس منتقل کیا گیا، جہاں اس کی حرارتی اور ویکیوم جانچ کی جا رہی ہے ۔ یہ لانچ سے قبل تیاری کا اہم مرحلہ ہے ۔
امریکی ارب پتیوں کی چین کے ساتھ خلائی دوڑ تیز



