اسلام آباد،لاہور،پشاور،کراچی (نیشنل ٹائمز) بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ذاتی معالج تک رسائی دینے کے مطالبے پر تحریک انصاف اور اپوزیشن اتحاد کے ارکان ڈی چوک پر دھرنا نہ دے سکے تاہم انہوں نے پارلیمنٹ ہائوس کے احا طے میں ایوان صدر جانے والے راستے پر دھرنا دیا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی ، اسلام آباد کے ریڈ زون میں غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کئے گئے تھے ، پارلیمنٹ ہاؤس، پارلیمنٹ لاجز اور کے پی کے ہاؤس کے دروازے بند رکھے گئے ، تحریک تحفظ آئین کے رہنماؤں نے پارلیمنٹ ہاؤس سے نکل کر ڈی چوک کی جانب جانے کی کوشش کی تاہم پولیس نے مرکزی دروازے بند کر کے انہیں روک دیا،پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر موجود ارکان ریلی کی شکل میں باہر آئے ،قیادت علامہ راجہ ناصر عباس کر رہے تھے۔مرکزی گیٹ سے باہر نکلنے میں ناکامی پر اپوزیشن اراکین نے پارلیمنٹ کے احاطے کے اندر ایوان صدر کی طرف جانے والے گیٹ پر دھرنا دے دیا،مظاہرین ایوان صدر کو جانے والی سیڑھیوں پر بیٹھ گئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی ، احتجاج کے اعلان کے پیش نظر اسلام آباد کے ریڈ زون کو مکمل طور پر بند رکھا گیا ،پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر اور اندر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جبکہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے قیدی وین اور بکتر بند گاڑی بھی پہنچا دی گئیں ، خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی اسمبلی کے اراکین کو ڈی چوک جانے سے روک دیا گیا جس پر انہوں نے خیبر پختونخوا ہاؤس کے باہر دھرنا دیدیا،مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے ساتھ رویہ خطرناک بات ہے ، اس سے نفرتیں اتنی بڑھ جائیں گی کہ کوئی سنبھالنے والا نہیں ہوگا ،پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری جنرل شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ پارٹی کی قیادت کسی بھی وقت اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال دے سکتی ہے ۔ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے قوم پریشان اور سراپا احتجاج ہے ۔علاوہ ازیں مرکزی شعبہ اطلاعات پی ٹی آئی کے مطابق گزشتہ شام سوا سات بجے تک عمران خان کی بہنیں، اہلِ خانہ، وکلا اور پارٹی رہنما سپریم کورٹ میں موجود رہے مگر عدالتی کارروائی کے تحریری احکامات فراہم نہیں کئے گئے ، پی ٹی آئی نے سوال اٹھایا کہ عدالتی احکامات زبانی طور پر جاری ہو چکے ہیں تو ان پر عملدرآمد کیوں نہیں ہو رہا اور تحریری احکامات میں تاخیر کس کے مفاد میں ہے ،دریں اثنا پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کرنے والے اپوزیشن ارکان سے حکومت نے رابطہ کیا ،ذرائع کے مطابق اپوزیشن قیادت نے بانی پی ٹی آئی کی صحت کا ون پوائنٹ ایجنڈا حکومتی نمائندے کے سامنے رکھا اور کہا کہ مطالبہ تسلیم کیے جانے تک احتجاج جاری رہے گا، حکومتی نمائندے نے کہا کہ وزیراعظم سے مشاورت کے بعد اپوزیشن کو جواب دیا جائے گا۔دوسری طرف سینیٹ میں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق قرارداد مسترد کردی گئی ، حزب اختلاف نے شدید احتجاج کیا ، پی ٹی آئی سینیٹرز چیئرمین ڈائس کے سامنے جمع ہوگئے اور شدید احتجاج و نعرے بازی کی ۔اعظم سواتی ، سینیٹر عون عباس ، رانا ثنااللہ کے ڈائس پر چلے گئے اور ان سے ووٹنگ کی درخواست کی ،رانا ثنااللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں جو حقائق سامنے آئے ہیں اُس سے کسی کو اختلاف نہیں ،اگر خان صاحب کی صحت کے حوالے سے غفلت ہو ئی ہے تو یہ انتہا ئی غلط ہے اور اگر ایسا نہیں ہوا تو پھر خان صاحب کی صحت کو بنیاد بنا کر سیاست کرنا بھی غلط ہے ، جیل میں ہر دو دن بعد ان کا چیک اپ ہوتا ہے ،اب تک 25مرتبہ خان صاحب کو میڈیکل کی سہولت دی گئی ہے ،دو دسمبر کو عظمیٰ خان کی خان صاحب سے ملاقات کروائی گئی ا نہوں نے میڈیا پر خود کہا کہ خان صاحب کی طبیعت بالکل ٹھیک ہے ۔20 دسمبر کو توشہ خانہ ٹو کا فیصلہ ہوا ، دو گھنٹے سلمان صفدر ان کے ساتھ رہے ۔اس دن بھی اُنھوں نے صحت کی کو ئی شکایت نہیں کی، دسمبر میں انہوں نے بہن سے کو ئی شکایت نہیں کی تو یہ معاملہ چار مہینے پہلے کا کیسے ہو سکتا ہے ؟ ۔آپ علاج کے حوالے سے پٹیشن دائر کریں،سپریم کورٹ جو ہمیں آرڈر کرے گا ہم وہ کریں گے ۔اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ آنکھ کی بینائی ایک دم سے ختم نہیں ہوسکتی، رانا ثنا اللہ کو جو لکھ کر دیا گیا انہوں نے وہ پڑھ کر سنا دیا ،سینیٹر مشعال یوسفزئی نے بولنے کی کوشش کی تو علامہ راجہ ناصر عباس نے ان کو اور دیگر ارکان کو غیر مناسب ریمارکس سے روک دیا ،اپوزیشن لیڈر کی ہدایات کے بعد ایوان کا ماحول بہتر ہوا ، سینیٹر کامران مرتضی ٰنے کہا کہ سابق وزیراعظم کی صحت پرسیاست ختم کر کے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے ۔بیماری ثابت کرنے کے لیے کسی کے مرنے کا انتظار کرنا سیاسی بدقسمتی ہے ۔ فیصل جاویدنے کہا کہ شوکت خانم کینسر ہسپتال بنانے والے شخص کو آج بنیادی علاج کی سہولت سے بھی محروم رکھا گیا ،بعدازاں ایوان نے بھنگ کنٹرول اتھارٹی ترمیمی بل 2026 ،نیشل آرکائیوز ترمیمی بل ،نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی ترمیمی بل ، اسلام آباد کیپٹل ٹیرٹری بزرگ شہری ترمیمی بل ،ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان ترمیمی بل 2026 منظور کر لیا، اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا گیا ۔ وفاقی وزیرداخلہ و انسداد منشیات سینیٹر محسن نقوی نے کہا ہے کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد جیل منتقل کیا جا سکتا ہے ، اسلام آباد پولیس لائن میں سپیشل ویپنز اینڈ ٹیکٹس فورس (ایس ڈبلیو اے ٹی) کی پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی جیل دو ماہ میں مکمل ہو جائے گی، جیل کے اندر تمام طبی سہولیات موجود ہیں ،مزید کہا کہ عمران خان کو سزا اسلام آباد کی عدالت سے ہوئی ہے اس لیے انہیں اسلام آباد جیل منتقل کیا جائے گا، اسلام آباد کے مقدمات کے تمام دیگر ملزموں اورمجرموں کو نئی جیل میں رکھا جائے گا، پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد میں دھرنے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن گزر جانے دیں اسکے بعد اگر کسی نے دھرنا دیا تو ان کے ساتھ قانون کے مطابق نمٹیں گی ،آئی جی اسلام آباد اور انکی ٹیم مکمل طور پر تیار ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسلام آباد راولپنڈی سمیت کہیں بھی غیر قانونی افغانی کی موجودگی کی اطلاع ملے گی انھیں فوری طور پر واپس بھجوایا جائیگا ۔ قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہو ئے وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ جب سے اسلام آباد پولیس کا وجود عمل میں آیا ہے اس وقت سے ان کے پاس دہشت گردوں کے ساتھ نمٹنے کے لئے ایلیٹ فورس طرز کی فورس نہیں تھی ۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے ٹرینرز نے دن رات ایک کر کے چھ ماہ کی تربیت کا یہ عمل تین ماہ میں مکمل کیا ہے ۔
اپوزیشن ارکان کا پارلیمنٹ ہاؤس میں دھرنا،عمران کو اسلام آباد جیل منتقل کیا جاسکتا:وزیر داخلہ



