لاہور (نیشنل ٹائمز) وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ پاکستان نے طالبان حکومت کے ساتھ ہر ممکن حد تک سفارتی سطح پر معاملات طے کرنے کی کوشش کی تاہم بدقسمتی سے سرحد پار دہشت گردی نہ رک سکی، افغان سرزمین دہشتگردی کیلئے استعمال ہو رہی ہے، زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی۔ عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے آخری سیشن سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ افغانستان کی جانب سے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور موثر اقدامات نہیں کیے گئے، پاکستان کا واضح موقف رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیئے، گزشتہ برس اعلیٰ سطح کے وفود افغانستان جاتے رہے تاکہ سرحد پار دہشت گردی کو روکا جا سکے مگر اس میں کامیابی نہ مل سکی۔
وزیر مملکت کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو افغانستان سے سہولتکاری فراہم کی جاتی رہی، جس کے باعث خیبرپختونخواہ اور بلوچستان میں سرحد پار دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوا اور ہمارے جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، سرحد پار دہشت گردی کسی سفارتی ناکامی کا نتیجہ نہیں بلکہ افغانستان کی جانب سے مطلوبہ سنجیدگی کا فقدان رہا، ہر ریاست کو اپنے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کا حق حاصل ہے، اسی لیے پاکستان اب سخت اقدامات کر رہا ہے۔
بلال اظہر کیانی نے کہا کہ پاکستان مستقبل میں بھی نتیجہ خیز بات چیت کے لیے تیار ہے تاہم اس کے لیے افغان حکومت کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مثبت اور دیرپا اقدامات کرنا ہوں گے لیکن خدشہ ہے کہ انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد طالبان رجیم کو مضبوط کرنے پر خرچ ہو رہی ہے، مختلف آپریشنز میں مارے جانے والے متعدد دہشت گرد افغان شہری تھے اور اس وقت 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں افغانستان سے سرگرم عمل ہیں جو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے چار دہائیوں تک افغان شہریوں کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے اور کھلے دل سے ان کی مدد کی مگر موجودہ حالات میں یہ ممکن نہیں رہا، افغان شہریوں کو مرحلہ وار واپس بھیجا جا رہا ہے کیونکہ کوئی بھی ملک بغیر دستاویزات یا رجسٹریشن کے دوسرے ملک کے شہریوں کو نہیں رکھ سکتا، پاکستان انسانی بنیادوں پر مدد کے لیے تیار ہے لیکن اس کے لیے افغان حکومت کو دہشت گردی روکنے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے، پاکستان میں امن اولین ترجیح ہے اور دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی۔



