اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) وزارت خزانہ کے باوثوق ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور ایم ڈی آئی ایم ایف کی ملاقات میں زیرغور تجاویز پر آئندہ اقتصادی جائزہ مذاکرات میں حتمی بات چیت ہوگی اور ایم ڈی آئی ایم ایف نے قرض پروگرام میں رہتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ گزشتہ روز وزیراعظم کی وطن واپسی پر اہم میٹنگ کے دوران چند وزرا کو کیس ورکنگ جامع اور سالڈ طریقے سے آئی ایم ایف کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔آئی ایم ایف مشن تیسرے اقتصادی جائزے کے لیے آئندہ ماہ کے آخری اور مارچ کے دوران پاکستان پہنچے گا جس کے لیے گزشتہ روز سے تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ وزارت خزانہ کے ایکسٹرنل فنانس ونگ، ایف بی آر، رواں مالی سال کے بجٹ اعدادوشمار، آئی ایم ایف کے اہداف پر عملدرآمد، ایس ای سی پی اور وزارت تجارت کے ساتھ ابتدائی میٹنگز شروع ہو چکی ہیں۔وزیراعظم نے وزراء کو ٹاسک سونپ دئیے ہیں اور آئندہ دو ہفتوں میں رپورٹ طلب کر لی ۔حکومت معاشی گروتھ، سرمایہ کاری، تنخواہ دار طبقے کے لیے ریلیف، سپر ٹیکس میں کمی، پاور ٹیرف میں کمی اور ٹیکس انسینٹو کے لیے آئی ایم ایف سے ریلیف حاصل کرنے کی ورکنگ کر رہی ہے ۔ اقتصادی جائزے کے دوران حکومت آئی ایم ایف پروگرام کے سٹرکچر میں اہم تبدیلیوں کے ذریعے تمام تجاویز ٹیکنیکل مشن کے سامنے پیش کرے گی۔ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق رواں مالی سال کے لیے قرضوں پر سود کی ادائیگی کا تخمینہ تقریباً 75 سے 77 سو ارب روپے ہے اور 5 سے 6 سو ارب روپے تک سود کی ادائیگی میں بچت ممکن ہے جس سے حکومت کو مالیاتی گنجائش حاصل ہو گی اور بجٹری نمبرز مضبوط رہ سکیں گے ۔ آئندہ مالی سال میں حکومت بجٹ میں آئی ایم ایف کی مشاورت سے پرائمری بیلنس اور صوبائی بجٹ سرپلس کے اہداف میں ریلیف اور مالیاتی خسارہ زیادہ مختص کر سکتی ہے تاکہ مالیاتی گنجائش پیدا ہو اور آئی ایم ایف قرض پروگرام کے آخری سال میں ریلیف حاصل کیا جا سکے ۔ذرائع نے دنیا نیوز کو بتایا کہ حکومت تیسرے سال کے دوران معیشت کو فروغ دینے اور آخری دو برسوں میں معاشی گروتھ 5 سے 6 فیصد تک حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے ۔ آئی ایم ایف پروگرام میں رہتے ہوئے حکومت ریلیف کے لیے بڑے اقدامات کا پلان تیار کر رہی ہے ۔ وزیراعظم نے وزارت خزانہ، ایف بی آر اور وزارت تجارت کے حکام کو ہدایت دی ہے کہ ایکسپورٹ لیڈ گروتھ حاصل کی جائے اور سرمایہ کاری راغب کرنے کے تمام مواقع بروئے کار لائے جائیں۔ اسی مقصد کے لیے وزارت خزانہ کا وفد سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے جس میں ایس آئی ایف سی کے نمائندے بھی شامل ہیں تاہم ابھی تک نتائج موصول نہیں ہوئے ۔کابینہ ممبر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سرمایہ کاری بڑھانے سے مارکیٹ میں نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے اور بے روزگاری و غربت میں کمی ممکن ہو سکے گی۔ یہ تجویز بھی زیرغور ہے کہ پاور ٹیرف کو مزید کم کیا جائے تاکہ انڈسٹری کو بین الاقوامی مارکیٹ میں مسابقتی ماحول فراہم ہو۔ ٹیکس انسینٹو کے لیے حکومت گنجائش پیدا کرنے کی خواہاں ہے ۔دستاویز کے مطابق حکومت نے مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے سپر ٹیکس ریٹ میں کمی کا فیصلہ کیا ہے لیکن انڈسٹریل پالیسی ابھی آئی ایم ایف کی فائنل منظوری کی منتظر ہے ۔ نئی انڈسٹریل پالیسی میں مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے سپر ٹیکس کی شرح چار برسوں میں کم ہو کر 5 فیصد مقرر کی جائے گی اور پرائمری بیلنس سرپلس ہونے پر پانچویں سال سپر ٹیکس ختم کر دیا جائے گا۔کم سے کم آمدن پر سپر ٹیکس تھریش ہولڈ 20 کروڑ سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے جبکہ 10 فیصد سپر ٹیکس کے لیے تھریش ہولڈ 50 کروڑ سے بڑھا کر 1.5 ارب روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے ، اگلے چار برسوں میں سپر ٹیکس کی شرح آدھی کر دی جائے گی۔نئی انڈسٹریل پالیسی میں بیمار صنعتی یونٹس کی بحالی، مینوفیکچرنگ سیکٹر کے ٹیکس ریٹس پر ریشنلائزیشن، بینک کرپسی فریم ورک، آسان کریڈٹ کی سہولت، سرمایہ کاری کا تحفظ، مینوفیکچرنگ سیکٹر کی برآمدات میں اضافہ سمیت دیگر اقدامات شامل ہیں۔ ان تمام تجاویز پر آئی ایم ایف کے ساتھ مشاورت کی جائے گی اور گرین سگنل ملنے پر حکومت آئندہ بجٹ میں ان اقدامات کو متعارف کرائے گی، تاہم آئی ایم ایف کا ردعمل تاحال معاشی ٹیم اور آئی ایم ایف کے درمیان بات چیت کے دوران سامنے آئے گا۔
آئی ایم ایف جائزہ مذاکرات کیلئے تیاریاں شروع، وزرا کو اہداف مل گئے



