دہشت گردوں کے خلاف کھڑے نہ ہوئے تو گھروں، بازاروں میں آکر پھٹیں گے: پاک فوج

راولپنڈی(نیشنل ٹائمز) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ بھارتی سرپرستی میں افغانستان دہشت گردوں کی آماج گاہ بن گیا، دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے، یہ جنگ ہم کو جیتنا ہوگی، یہ جنگ طاقت سے جیتی جائے گی، دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے پرعزم ہیں۔نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس کا مقصد گزشتہ سال میں دہشتگردی کے خلاف اقدامات کا جامع احاطہ کرنا ہے، یہ صرف فوج کی جنگ نہیں، یہ قوم کے بچے بچے کی جنگ ہے، دہشت گردوں کے خلاف کھڑے نہ ہوئے تو یہ گھروں، بازاروں، گلیوں، دفتروں میں آکر پھٹیں گے۔
دہشتگردی کے زیادہ واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے
انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی کی جنگ دودہائی سے زیادہ عرصے سے لڑی جارہی ہے، دہشتگردی کے خلاف ریاست پاکستان اورعوام کے درمیان ایک مکمل کلیرٹی حاصل ہوئی، دہشتگردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، افغانستان خطے میں دہشتگردی کا بیس آف آپریشن بنا ہوا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے سب سے زیادہ واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے ہیں اور خیبرپختونخوا میں ہی دہشت گردی کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے، گزشتہ سال ملک بھر میں مجموعی طور پر 27 خودکش حملے ہوئے، جن میں سے 16 خیبرپختونخوا میں رپورٹ ہوئے، ان خودکش حملوں میں دو حملے خواتین کی جانب سے کیے گئے۔
فورسز نے 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے
انہوں نے مزید بتایا کہ دہشت گردوں، فتنہ الہندوستان کا بلوچستان اوربلوچیت سے کوئی تعلق نہیں، فوج،پولیس،ایف سی اورانٹیلی جنس ایجنسیوں نے 75ہزار175انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے، 14ہزار 658آپریشن خیبرپختونخوا میں کیے گئے، 58 ہزار778انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن بلوچستان میں کیے گئے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ گزشتہ سال 2597دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، دہشت گردی کی جنگ میں ہماری 1235شہادتیں ہوئیں، پچھلے سال 27خودکش واقعات ہوئے، خیبرپختونخوا میں 16،بلوچستان 10اورایک اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس میں ہوا، 3ہزار811 دہشت گردی کے واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے، 2021سب سے اہم سوال کہ 80 فیصد دہشتگردی کے واقعات خیبر پختونخوا میں ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست انسداد دہشتگردی کے لیے پرعزم ہے، انسداد دہشتگردی کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، ریاست کا دہشتگردی کے خلاف واضح مؤقف ہے، دنیا نے پاکستان کے دہشتگردی کے خلاف اقدامات کو سراہا ہے، پانچ سال پہلے صورت حال یہ تھی کہ ایک دہشت گرد کے مارے جانے پر تین شہادتیں ہوتی تھیں، جبکہ اب یہ تناسب بدل چکا ہے اور ایک شہادت کے مقابلے میں دو دہشت گرد مارے جا رہے ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے اور دنیا بھر کی مختلف دہشت گرد تنظیمیں وہاں سے آپریٹ کر رہی ہیں، القاعدہ، داعش، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے ٹھکانے افغانستان میں موجود ہیں، جس کا اثر نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان کے دیگر پڑوسی ممالک پر بھی پڑ رہا ہے۔
شام سے اڑھائی ہزار دہشت گرد افغانستان پہنچ گئے
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ حالیہ معلومات کے مطابق شام سے تقریباً اڑھائی ہزار دہشت گرد افغانستان پہنچ چکے ہیں، ان میں ایک بھی پاکستانی نہیں، یہ خطے کی سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہے، افغانستان کے ہمسایہ ممالک اس صورتحال کے باعث دہشت گردی سے متاثر ہو رہے ہیں، جس پر عالمی برادری کو توجہ دینی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ امریکا افغانستان سے انخلا کے وقت بڑی مقدار میں جدید اسلحہ چھوڑ کر گیا، جو اب دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال ہو رہا ہے، یہ اسلحہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرات میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت خطے میں دہشت گردوں کو بطور پراکسی استعمال کر رہا ہے اور ان گروہوں کو اسلحہ اور مالی وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں، سکیورٹی اداروں کے پاس اس حوالے سے شواہد موجود ہیں اور یہ معاملہ علاقائی امن کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکا ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے مطابق کہا جاتا ہے کہ افغان طالبان سے مذاکرات کیے جائیں، لیکن زمینی حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، دہشت گردوں نے خیبرپختونخوا میں مسجد پر حملہ کیا، فیلڈ مارشل نے خود پشاور کا دورہ کر کے اس مسجد کے ملبے پر کھڑے ہوکر دہشتگردی کے خلاف واضح مؤقف دیا۔
افغانستان میں صرف تحریک طالبان پاکستان کو نشانہ بنا
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کسی بھی ملک میں پانچ فیصد کے برابر بھی دہشت گردی ہو تو وہ ریاست قائم نہیں رہ سکتی، افغانستان خود کو اسلام کا علمبردار بناکر پیش کرتا ہے جبکہ وار اکانومی کرتا ہے، وار اکانومی کو چلانے کیلئے وہ جنگ کو دہشتگردی کی شکل میں پورے ریجن میں پھیلایا جاتا ہے، ان کو وار اکانومی کی عادت پڑی ہوئی ہے، یہ واراکانومی کیلئے نئے سپانسر ڈھونڈتے ہیں، ہندوستان کے پیسے اورسرپرستی سے افغانستان سے دہشتگردی ہورہی ہے۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارت نے آپریشن سندور کے دوران خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ پاکستان کی کارروائیاں دہشت گردوں کے خلاف اور مخصوص اہداف تک محدود رہیں، پاکستان نے افغانستان میں افغان طالبان کو نہیں بلکہ تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے دہشتگردوں کے بیانات اور گفتگو بھی چلائی اور کہا کہ گرفتار دہشت گردوں نے افغانستان کے ملوث ہونے کا اعتراف کیا، افغان باشندوں کو افغانستان میں دہشت گردی کی تربیت دی جاتی ہے۔
سرحد بند کرنے سے دہشت گردی کے واقعات میں کمی
انہوں نے بتایا کہ پچھلے سال دہشتگردی کے 10بڑے واقعات ہوئے، بنوں کینٹ،جعفرایکسپریس،نوشکی میں سول بس اورخضدار میں اسکول بس کو نشانہ بنایا گیا، فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز،ایف سی ہیڈکوارٹرزکوئٹہ،پولیس ٹریننگ اسکول ڈی آئی خان،کیڈٹ کالج وانا اوراسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ پشاور میں دوبارہ فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا، تمام بڑے 10دہشتگردی کے واقعات میں افغانی ملوث پائے گئے، حملہ کرنے والا ہر افغانی مارا جاتا ہے، بارڈر بند کرنے سے دہشت گردی کے واقعات کم ہوئے۔



  تازہ ترین   
آزاد کشمیر الیکشن کا دوسرا مرحلہ، 20 نشستوں پر پولنگ جاری، ایک حلقے میں ووٹنگ ملتوی
ایران میں تبدیلی سے مراد نظام کا خاتمہ نہیں، رویوں میں تبدیلی ہے: مارکو روبیو
ایران کا پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ سے رابطہ، امریکا کو مزید حملوں سے خبردار کر دیا
صدر پزشکیان کا ایرانی قوم کو جنگ کے دوران ثابت قدم رہنے پر خراجِ تحسین
مزید جنگی جہاز نہ بھیجا تو اسرائیل کے بجائے امریکی دفاع کے انتخاب پر مجبور ہوں گے: امریکی جنرل
ایرانی انفراسٹرکچر پر حملوں کا نتیجہ امریکی حاکمانہ نظام کی تباہی ہوگی، محمد مخبر
ماسکو: معروف ریستوران میں خودکش دھماکا، 3 افراد ہلاک، 21 زخمی
پاکستان اور چین کی افواج علاقائی امن و استحکام کیلئے شانہ بشانہ ہیں: فیلڈ مارشل





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر