چوہدری شہباز گجر کی زبانی — 65 سال پہلے کے واقعات
چوہدری شہباز گجر بڈھا گجر کے پوتے ہیں۔ بڈھا گجر ایک سیدھے سادھے اور کاروباری شخص تھے۔ انہوں نے درجنوں بھینسیں رکھی ہوئی تھیں، جن کا دودھ لاہور میں سپلائی کیا جاتا تھا۔ وہ بڑے غیرت مند اور اصول پرست انسان تھے۔ لڑائی جھگڑوں کی صلح کرانا انکا پسندیدہ کام تھا۔ آج بھی پنجاب بھر میں کئی خاندان انکی کوششوں سے آباد ہیں۔
بڈھا گجر کے 5 بیٹے اور 2 بیٹیاں تھیں۔ جگا گجر اور مکھن گجر کا نام اکثر سنا جاتا ہے۔ جگا گجر کی لاہور میں ایک بااثر خاندان سے دشمنی ایسے شروع ہوئی کہ ایک لڑائی جھگڑے میں مکھن گجر قتل ہو گئے۔ اس کے بعد لاہور والے مخالف خاندان نے پیغام بھیجنے شروع کر دیے کہ ہم تمہاری نسل مٹا دیں گے۔ اس کے بعد اپنی حفاظت کے لیے ہمارے دادا بڈھا گجر اور جگا گجر نے سارے بندوبست کیے۔
جگا گجر بدمعاش نہیں دشمن دار آدمی تھا۔ دشمن دار کو اگر بدمعاش کہا جائے تو یہ سراسر غلط ہے۔ یہ تو موجودہ ٹک ٹاک نسل ہے جس نے سب کچھ مکس کر کے رکھ دیا ہے۔
جگا گجر اتنے بہادر اور دلیر آدمی تھے کہ ایک بار حاجی حبیب الرحمٰن جو تب ایس ایس پی تھے، انہیں تلاش کر رہے تھے، تو چچا جگا گجر خود انکے دفتر میں چلے گئے۔ بولے:
“صاحب بہادر لو میں آ گیا واں”۔
یہ دیکھ کر حاجی حبیب الرحمٰن نے انہیں گلے سے لگا لیا اور جو غلط فہمی تھی وہیں ختم ہو گئی۔
مکھن گجر کو جب قتل کیا گیا تو میرے دادا نے اسکی تھانے میں اطلاع تک نہ دی۔ انہوں نے بھرے مجمعے میں کہا تھا:
“میرا ناں بڈھا گجر اے، تے میں ویر لینا جاندا واں”۔
قتل میں جو دشمن ملوث تھے، جگا گجر نے 17 سال کی عمر میں ان سے بدلہ لیا تھا۔ جس جگہ مکھن گجر کو مارا گیا اسی جگہ پر جگا گجر نے اپنے دشمنوں کو انجام تک پہنچایا تھا، اور پھر جیل چلے گئے۔ پیچھے دادا بڈھا گجر نے کوشش کی، صلح ہوئی اور اس طرح کچھ عرصہ بعد جگا گجر جیل سے رہا ہوئے تھے۔
یہ درست ہے کہ جگا گجر کا سکا پورے لاہور میں چلتا تھا۔ وہ جو جگا ٹیکس لیتے تھے وہ دراصل بلیک کا کاروبار کرنے والوں سے لیتے تھے اور یہ رقم شام کو اپنے ڈیرے پر غریبوں میں تقسیم کرتے تھے۔ شہباز گجر کے بقول یہ منظر انہوں نے خود اکثر دیکھا۔
اس کے علاوہ جرائم والی زندگی، بدمعاشوں یا اشتہاریوں سے جگا گجر کا کوئی تعلق نہ تھا۔ جگا گجر کے خاندان کی دشمنی میں کئی اتار چڑھاؤ آئے۔ ایک وقت ایسا تھا کہ ان کے گھر میں کھانے کو بھی کچھ نہ ہوتا تھا۔ چوہدری شہباز گجر کی والدہ خالی ہانڈی میں چمچی ہلا کر بچوں کو تسلی دیا کرتیں اور وہ کھانے کی امید میں سو جاتے تھے۔
کئی بار صلح بھی ہوئی اور کئی بار جھگڑے بھی ہوئے۔ بڈھا گجر اور جگا گجر اپنے بچوں کو سمجھایا کرتے تھے کہ اپنا کاروبار کرو، اپنی نسلیں سنوارو، دشمنیاں گھر ویران کر دیتی ہیں، ان سے بچو۔
ہمارے خاندان کو اور بزرگوں کو آج بھی لاہور کے بڑے بوڑھے عزت سے اس لیے یاد کرتے ہیں کہ بڈھا گجر اور پھر جگا گجر دوسروں کی تکلیف میں مدد کرنے والے اور دوسروں کا بوجھ خود اٹھانے والے لوگ تھے۔ ہمارا خاندان دوسروں پر جان تک قربان کرنے کا حوصلہ رکھتا تھا۔ لاہور کے سینکڑوں گھروں کی ہمارے خاندان نے مدد کی ہر لحاظ سے۔
دنیا کچھ بھی کہے، جگا ٹیکس ہو یا جگا ایکٹ، اللہ نے ہمارے بزرگوں کو عزت دی۔ ہمارے خاندان کا نام پورا پاکستان جانتا ہے اور ہمیں اس بات پر فخر ہے۔
بڈھا گجر کا اصل نام کیا تھا؟
بڈھا گجر کے والدین کے ہاں جو بیٹا پیدا ہوتا فوت ہو جاتا تھا۔ ایک سید صاحب نے انہیں دعا دی اور کہا کہ اب جو بیٹا پیدا ہو اسکا نام بڈھا رکھنا۔ چنانچہ جب بچہ پیدا ہوا تو اسکے پہلے دن بڈھا کے نام سے پکارا گیا۔
لاہور میں گجر ہاؤس کے باہر جو نیم پلیٹ لگی ہے اس پر محبت گجر لکھا ہے۔ یہ بڈھا گجر کے سب سے بڑے بیٹے تھے جو انکے ڈرائیور اور محافظ کا فرض بھی ادا کرتے تھے۔ وہ ہر جگہ بڈھا گجر کے ساتھ جاتے تھے۔
بڈھا گجر کے انتقال کے بعد چوہدری محبت گجر نے خاندان کو سنبھالا اور وہی سب کے بڑے تھے۔ گجر فیملی نے فلمیں بھی بنائیں۔ سب سے پہلی فلم جگا کے نام پر جگا ٹیکس بنائی گئی، اس کے بعد ایک سلسلہ شروع ہو گیا اور ایک وقت تھا جب گجر لاہور کے سب سے بڑے فلمساز بھی تھے۔



