اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) ڈسکوز سے کم ریکور ی ، لائن لاسز ، سبسڈیز کا بروقت ادا نہ کیا جانا اضا فے کا سبب ، ذرائع
رواں مالی سال 2025-26 کے دوران پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 735 ارب روپے مزید بڑھنے کا تخمینہ لگایا گیا ، باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 16 سو 15 ارب سے بڑھ کر دوبارہ ساڑھے 23 سو ارب روپے تک پہنچنے کا خدشہ ہے ، گردشی قرضہ ختم کرنے کیلئے ٹیرف ریبیسنگ، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات کم، ریکوری بہتر کرنے کے بعد رواں مالی سال 522 ارب روپے گردشی قرضہ بڑھے گا، 120 ارب روپے سے زائد کی پرنسپل ریپیمنٹس اور 4 سو ارب روپے حکومتی پاور پلانٹس اور آئی پی پیز کو دے کر سٹاک زیرو رکھا جائے گا، آئی ایم ایف شرائط کی مطابق پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ زیرو ان فلو رکھنا ہو گا، سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان کیمطابق رواں مالی سال کیلئے سالانہ ریبیسنگ کی مد میں 55 ارب روپے ، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات کم کرنے سے 18 ارب روپے ، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ریکوری بہتر کرنے کے بعد 121 ارب روپے دیگر اقدامات سے 18 ارب روپے دستیاب ہو سکیں گے جس کے بعد رواں مالی سال 2025-26 کیلئے پروجیکٹڈ گردشی قرضہ کا ان فلو تقریبا 522ً ارب روپے رہ سکتا ہے ،ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کے دوران بجٹڈ پرنسپل ریپیمنٹس 122 ارب روپے کی جائے گی ، حکومتی پاور پلانٹس اور آئی پی پیز کو 4 سو ارب روپے ادا کئے جائیں گے جس کے بعد گردشی قرضہ کو ان فلو زیرو رکھا جائے گا۔16 سو 15 ارب روپے کے موجودہ گردشی قرضہ میں 538 ارب روپے لون فنانسنگ، 980 ارب روپے کے لگ بھگ پاور پروڈیوسرز اور جینکوز نے 1 سو ارب روپے فیول سپلائرز کے واجب الادا ہیں، سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان کی ای سی سی سے منظوری کے بعد وفاقی کابینہ سے منظوری لی جائے گی، مالی سال 2023 کے دوران گردشی قرضہ میں 57 ارب روپے ، مالی سال 2024 کے دوران 83 ارب روپے اور گزشتہ مالی سال کے دوران اس میں 780 ارب روپے کم کیا گیا تھا جس کے بعد گردشی قرضہ کم ہو کر 16 سو 15 ارب روپے تک محدود کیا گیا تھا، اگر رواں مالی سال گردشی قرضہ میں زیرو ان فلو نہ رکھا گیا تو دوبارہ ساڑھے 23 سو ارب روپے پہنچنے کا خدشہ ہے ، رواں مالی سال 2026 کیلئے گردشی قرضہ میں زیرو ان فلو رکھنے کیلئے اقدامات تجویز کئے گئے ہیں، ذرائع نے نمائندہ دنیا نیوز کو بتایا کہ گردشی قرضہ میں اضا فہ پہلے سے بجلی فراہمی میں کمی کرتا ہے جس سے معاشی سرگرمیاں ماند پڑتی ہیں ملکی اکانومی کے فروغ کیلئے گردشی قرضہ کنٹرول ہو گا ،گردشی قرضہ میں اضافہ کی بڑی وجوہات میں ڈسکوز سے کم ریکوریز، مختص ٹارگٹ سے زائد لائن لاسز ہونا، سبسڈیز کا بروقت یا ادا نہ کیا جانا، بجلی کی پیداواری لاگت ادا نہ کرنا جیسے تمام اقدامات گردشی قرضہ میں اضا فے کا سبب بنتے ہیں، رواں مالی سال کیلئے گردشی قرضہ کنٹرول کرنے کیلئے سالانہ بنیادوں پر ٹیرف ریبیسنگ اور بجٹ میں مختص سبسڈی کو بروقت ادا کرنے کے اقدامات فوری کئے جائیں گے ،گردشی قرضہ ان فلو زیرو رکھنے کیلئے سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان کی منظوری کے بعد آئی ایم ایف سے بھی شیئر کیا جائے گا ، ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے پاور سیکٹر گردشی قرضہ زیرو رکھنے کی کڑی شرط عائد کر رکھی ہے ، گردشی قرضہ میں ان فلو پر موقف کیلئے دنیا نیوز کے نمائندہ نے وزارت توانائی حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش لیکن حکام سے رابطہ نہ ہو سکا۔
رواں مالی سال پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ2300ارب تک پہنچنے کا خدشہ



