اس میں کوئی شک نہیں کہ انگریزوں نے پنجاب کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا جس کے اثرات آج بھی نمایاں ہیں 1859ء کو برطانوی دور میں پنجاب کا سر براہ سرجان لارنس کو مقرر کیا گیا اور پنجاب ترقی کی ایک نئی شاہراہ پر گامزن ہوا اس نے محکمہ تعلیم ، محکمہ پولیس اور ریلوے کا نظام قائم کرنے کی طرف توجہ کی سرجان لارنس نے 1859ء میں ملتان اور امرتسر کے درمیان ریلوے لائن منصوبے کا افتتاح کیا اسی سال رابرٹ منٹگمری کو اس کی جگہ لیفٹیننٹ گورنر مقرر کیا گیا تاہم ابتدائی دور میں ہی انگریزوں نے نہری نظام کو وسعت دینے کیلئے نہر اپر باری اور لوئر باری تعمیر کرنے اور ان سے مزید شاخیں نکالنے کا منصوبہ تیارکیا جو ایک کروڑ پینتیس لاکھ پچاس ہزار پانچ سو دو روپے کے تخمینہ لاگت سے مکمل ہوا
61 1860ء کو پنجاب میں شدید قحط رونما ہوا جس میں بہت سے مویشی اور انسان اللہ کو پیارے ہو گئے تاہم حکومت برطانیہ نے قحط زدہ علاقوں میں ریلیف کمیٹیوں کے ذریعے متاثرین کو امداد بہم پہنچائی
1862ء میں لاہور کی شاہی مسجد کو مسلمانوں کے لئے کھول دیا گیا جو سکھ دور سے ہی بند پڑی تھی 1864ء سرجان لارنس سابق لیفٹیننٹ گورنر جو اب پورے ہندوستان کا وائسرائے تھا اس نے لاہور کا دورہ کیا اور اسے خدمات کے عوض لوگوں میں کافی پذیرائی حاصل تھی اس نے ایک لارنس ہال کی تعمیر کروائی جس کا افتتاح بھی خود اس کے ہاتھوں کروایا گیا اس تقریب میں دیسی راجوں نوابوں اور جاگیرداروں نے شرکت کی
سر رابرٹ منٹگمری کے عہد میں ضلع گوگیرہ کی جگہ موجودہ ساہیوال کو منٹگمری کا نام دے کر ضلعی صدر مقام کا درجہ دیا گیا نیز لاہور میں منٹگمری ہال کی تعمیر بھی اس کی یادگار کے طور پر ہوئی تھی جب سر رابرٹ منٹگمری نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا تو اسوقت سر ڈونلڈ میکلوڈ نے پنجاب میں یہ عہدہ سنبھالا تھا
1865ء میں صوبہ پنجاب میں دیوانی اور فوجداری مقدمات کی خصوصی عدالت کا قیام عمل میں آیا جسے پنجاب چیف کورٹ کا نام دیا گیا اور اس میں دو جج مقرر کئے گئے تھے
1868ء کو لاہور میں ایک کالج کا قیام عمل میں آیا جسے بعد میں پنجاب یونیورسٹی کا درجہ دے دیا گیا
گورنر پنجاب سر میکلوڈ کے دور میں کئی نہریں کھودی گئیں ریلوے اور سڑکوں کا نظام بہتر ہوا زرعی پیداوار بڑھانے کے لئے غیر ملکی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئیں جب اس نےاستعفیٰ دیا تو اس کی جگہ سر ہنری ڈیورنڈ پنجاب کا گورنر مقرر ہوا لیکن وہ سات ماہ کے بعد ایک حادثہ میں فوت ہوگیا تو اس کی جگہ پر سر ہنری ڈیوس اس منصب پر فائز ہوا
1876ء میں پرنس آف ویلز نے پنجاب کا دورہ کیا اور لاہور کے تاریخی مقامات دیکھ کر وہ بہت خوش ہوا ایک دفعہ سر رابرٹ ایجرٹن کے دور میں کشمیر میں قحط لڑا تو کشمیریوں کی بڑی تعداد نے پنجاب کی طرف نقل مکانی کی نومبر 1882 ء میں سر چارلس ایچی سن کے عہد میں وائسرائے ہند نے نہر سرہند کا افتتاح کیا اور نہری نظام سے 10 لاکھ ایکڑ اراضی سیراب ہونے لگی جو اس دور کا اہم کارنامہ سمجھا جاتا ہے
14 اکتوبر 1882ء کو پنجاب یونیورسٹی قائم کی گئی اور پنجاب یونیورسٹی ایکٹ کے تحت قائم ہونے والی اس یونیورسٹی کی سرپرستی وائسرائے ہند کو سونپی گئی اور پنجاب کے گورنر کو اس کا چانسلر بنایا گیا
1886ء میں ہندوستانی نوابوں جاگیرداروں اور امراء کے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے پنجاب چیف کالج کا قیام عمل میں آیا
1882ء کو لاہور میں مویشیوں کے علاج معالجہ اور اس سلسلے میں تعلیم و تربیت کے لئے لاہور وٹرنری سکول کا اجرا ہوا جبکہ 31 دسمبر 1885ء کو پنجاب پبلک لائبریری قائم کی گئی جس کا افتتاح گورنر چارلس ایچی سن نے خود کیا
دسمبر 1886ء میں مقامی لوگوں کو ملازمتیں دینے کے لئے فیصلہ ہوا کہ ان کو انتظامی اور عدالتی ذمہ داریاں سونپی جائیں
1887ء میں لاہور میں لیڈی ایچی سن ہسپتال کا سنگ بنیاد رکھا گیا تا کہ عورتوں کا علاج معالجہ جدید طریقوں سے کیا جا سکے 2 اپریل 1887ء کو ایچی سن کی جگہ سر جیمز براڈ نے گورنر پنجاب کا عہدہ سنبھالا جس کا تعلق سول سروس سے تھا اس کے عہد میں قابل اور ذہین طلباء کو تعلیمی وظائف ملنے لگے
نومبر 1888ء میں وائسرائے ہند لارڈ ڈفرن نے پنجاب کا دورہ کیا اور اس کی اہلیہ لیڈی ڈفرن نے لیڈی ایچی سن ہسپتال کا افتتاح کیا
3 فروری 1889ء کو برطانوی شاہی خاندان کے فرد شہزادہ البرٹ وکٹر آف ویلز نے لاہور میں عجائب گھر کا سنگ بنیاد رکھا اس کی عمارت پر ڈیڑھ لاکھ روپے خرچ ہوۓ جس کے لئے جگہ جگہ سے نوادرات اکٹھے کئے گئے اور 1890ء میں بھٹنڈہ بہاولپور ریلوے لائن منصوبے پر کام کا آغاز کردیا گیا۔



