کنکورڈیا پر آرام
۲۸ جولائی ۲۰۲۵
تحریر: سعدیہ نارو
کنکورڈیا پر ۲۸ جولائی کو علی الصبح ہی میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے کان لگا کر آوازیں سننے کی کوشش کی لیکن باہر مکمل خاموشی تھی۔ آج نہ کسی کو سامان باندھنا تھا اور نہ کہیں جانا تھا کیونکہ آج ۴۶۰۰ میٹر کی بلندی پر ہمارا آرام کا دن تھا۔ گروپ کے سب ساتھی خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے کہ طویل سفر کی تھکان کو رفع کر سکیں۔ پچھلے آٹھ دنوں سے ہم سب منہ اندھیرے اُٹھ رہے تھے اس لیے میرے جاگنے کا ایک وقت سیٹ ہو چکا تھا۔ میں نے مزید سونے کی کوشش میں دو چار کروٹیں بدلیں لیکن نیند کی دیوی مہربان نہ ہوئی۔ ذہن میں بس ایک ہی خیال تھا کہ اُٹھ کر کےٹو کو دیکھوں لیکن سردی کے باعث سلیپنگ بیگ میں سے بھی نکلنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ کچھ وقت اسی کشمکش میں گزر گیا اور کےٹو سے میری محبت گرم بستر کی خواہش پر غالب آ گئی۔
میں نے خیمے کی زپ کھولی تو عین سامنے 8,611 میٹر بلند کےٹو کو پایا۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کو بدستور بادلوں میں گم دیکھ کر میں مسکرائی۔ پچھلی شام کنکورڈیا پر پہنچنے کے بعد سے میں نے کےٹو کو مسلسل بادلوں کے حجاب میں دیکھا تھا۔ مجھے کوئی جلدی نہیں تھی کیونکہ دیدار اور درشن کے انتظار کا بھی اپنا ہی لطف ہوتا ہے۔ میرے پاس مزید چوبیس گھنٹے موجود تھے اور میرا دل جانتا تھا کہ جلد وصل کی گھڑی آئے گی۔
میں خیمے سے باہر نکل آئی اور اپنے اردگرد نظر دوڑانے لگی۔ آج میں اس مقام پر کھڑی تھی جہاں بالتورو گلیشئیر اور گوڈوین آسٹن گلیشئیر آپس میں ملتے ہیں۔ جہاں سے کےٹو، براڈ پیک، گاشر برم سمیت کئی بلند چوٹیوں کا دلکش نظارہ نصیب ہوتا ہے۔ میرے دیکھتے ہی دیکھتے سورج نکل آیا اور صبح نکھر گئی۔ کنکورڈیا کا پتھریلا میدان رنگ برنگے خیموں سے سجا ہوا تھا اور ایک ایک کر کے میرے ساتھی ٹریکرز ان خیموں سے نکل رہے تھے۔ نیلے آسمان پر سفید بادل ساکت تھے جیسے انھوں نے رک کر یہ منظر دیکھنے کا ارادہ کر لیا ہو۔
ایک خوشگوار دن کا آغاز ہو چکا تھا اور بلاشبہ یہ میری زندگی کے خوبصورت ترین دنوں میں سے ایک تھا۔ تقریباً آٹھ بجے کےٹو سے بادل سرکنے لگے اور مجھے چوٹی کا پہلا دیدار نصیب ہوا۔ یہ دیدار مختصر رہا کیونکہ کےٹو صبر آزمانے اور ستانے کی روش اپنائے ہوئے تھا۔ ایسے میں 8,051 میٹر بلند براڈ پیک نے مجھے اپنی سنگت میں لے لیا۔ جو دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی ہے اور کےٹو کے بالکل قریب دائیں جانب واقع ہے۔ دونوں چوٹیوں کے درمیان فاصلہ صرف آٹھ کلومیٹر ہے۔ چونکہ ناشتے میں دیر تھی تو عمیر نے تمام ممبرز کو کےٹو کے سامنے گروپ فوٹو کے لئے اکٹھا کرلیا۔
صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے ناشتہ لگنے کا اعلان ہوا اور ہم سب نے میس کیمپ کا رُخ کیا۔ ہمیں صبح سویرے ناشتے کی عادت سی ہو گئی تھی۔ آج ناشتہ معمول سے لیٹ تھا تو بھوک بھی خوب چمکی ہوئی تھی۔ ناشتہ حسبِ روایت کئی لوازمات سے بھرپور تھا اور ہم سب نے اس کا خوب لطف اُٹھایا۔ ناشتے کے بعد تقریباً دس بجے میس کیمپ میں ہی ٹیم لیڈر عمیر حسن نے جی جی لا (Gondogoro La) کے متعلق بریفنگ کا آغاز کر دیا۔
آج ہمارے گروپ نے دو حصّوں میں بٹ جانا تھا۔ جن ممبرز کا جی جی لا کرنے کا ارادہ تھا انھوں نے اگلی صبح علی کیمپ کے لیے روانہ ہونا تھا اور جن ممبرز کا مقصد صرف کنکورڈیا تک آنا تھا انھوں نے اسی راستے سے واپس اسکولی لوٹنا تھا جہاں سے ہم چل کر آئے تھے۔ واپس جانے والے ممبرز میں وہ افراد بھی شامل ہوتے ہیں جن کی طبیعت ناساز ہو جائے یا جو ٹیم لیڈر کی جانب سے جی جی لا کے لیے مکمل فٹ تصور نہ کیے جائیں۔
جی جی لا کرنے کا فیصلہ ہر ممبر کا ذاتی تھا لیکن اس کی حتمی منظوری عمیر حسن نے دینی تھی۔ جو ہر ممبر کی آٹھ دن کی ٹریکنگ کارکردگی اور صحت کو مدنظر رکھ کر دی جانی تھی۔ عمیر نے اعلان کیا کہ سب ممبرز الگ الگ ان سے ملنے آئیں۔ میرے ذہن میں مسترد کیے جانے کے اندیشے نے سر اُٹھانے کی کوشش کی جسے میں نے سر جھٹک کر ہوا کر دیا۔ میں پہلے دن سے دل میں تہیہ کیے ہوئے تھی کہ مجھے جی جی لا کرنا ہے اور میں ذہنی اور جسمانی طور پر اس کے لیے مکمل تیار بھی تھی۔
اسکولی سے چلنے کے بعد میں اپنے ساتھیوں سے مسلسل ایک ہی بات کہتی آئی تھی کہ “میں نے اس راستے سے واپس ہرگز نہیں جانا۔” بظاہر میں یہ بات مذاق میں کہتی تھی لیکن میں جانتی تھی کہ ہم پہاڑوں کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتے۔ صحت اور موسمی حالات بگڑنے میں وقت نہیں لگتا۔ خوش قسمتی سے میں اب تک نا صرف کسی بھی قسم کی چوٹ اور بیماری سے محفوظ رہی بلکہ اس دوران موسم بھی بہترین رہا تھا۔
ناشتے کے بعد ہمارے پاس کنکورڈیا گھومنے، دھوپ سینکنے اور تصاویر بنانے کے لیے وقت ہی وقت تھا۔ کےٹو کی چوٹی ابھی بھی بادلوں میں چھپی تھی۔ کنکورڈیا پر تین چیزیں میری توجہ کا خاص مرکز تھیں۔ کےٹو، براڈ پیک اور اس کے بعد کانوے سیڈل ( Conway Saddle)۔ کانوے سیڈل ایک پہاڑی درہ ہے جس کی بلندی تقریباً 6023 میٹر ہے۔ اس درے کا نام Sir Martin Conway کے نام پر رکھا گیا ہے۔ جو ایک برطانوی کوہ پیما اور ایکسپلورر تھے جنہوں نے 1892 میں بلتورو گلیشیئر کے علاقے میں تاریخی مہم کی قیادت کی تھی۔ یہی درہ بالتورو اور دنیا کے بلند ترین محاذ جنگ سیاچن کے درمیان زمینی رابطے کا ذریعہ ہے۔ کنکورڈیا کے دائیں کنارے پر کےٹو کے مخالف دو پہاڑوں کے درمیان گھنے بادلوں سے ڈھکا یہ برفیلا درہ مجھے بہت پراسرار لگتا تھا۔ میں جب اسے دیکھتی تو یوں لگتا جیسے یہ کسی جادوئی دنیا کی گزرگاہ ہو۔ جس کو پار کرتے ہیں انسان کسی اور ہی جہان میں پہنچ جاتا ہو گا۔
کنکورڈیا کو ٹریکرز کا قبلہ کہا جاتا ہے۔ زیادہ تر ٹریکرز یہیں تک آ کر واپس مڑ جاتے ہیں۔ کنکورڈیا سے کے ٹو بیس کیمپ جانے اور واپس آنے میں صبح سے شام ہو جاتی ہے۔ یہ ایک مشکل اور تھکا دینے والا ٹریک ہے۔ کنکورڈیا تک آ کر کےٹو بیس کیمپ نہ جانے پر میرے دل میں ایک خلش سی تھی۔ چونکہ ہمیں ایک دن کے آرام کے بعد علی کیمپ کے لیے نکلنا تھا۔ اگر اس دن میں آرام کی بجائے کےٹو بیس کیمپ چلی جاتی تو اگلی صبح میرے لیے علی کیمپ کا سفر اور جی جی لا کرنا مشکل ہو جاتا۔ اکثر لوگ اس دوران تھکاوٹ اور اونچائی کی بیماریوں مثلاً چکر، متلی اور سر درد سے بیمار پڑ جاتے ہیں۔ کے ٹو بیس کیمپ ٹریک کے لیے عمیر کی طرف سے گائیڈ کی سہولت میسر تھی لیکن ہمارے کسی بھی ممبر نے رسک لینا مناسب نہیں سمجھا۔
کنکورڈیا پر ہمارے گروپ کا قیام ایک دن طے تھا۔ موسم کی پیشن گوئی کے مطابق ہمارے پاس بس اگلا ایک دن اور رات تھی جس میں جی جی لا کو پار کرنا ممکن تھا کیونکہ اس سے اگلے روز بارش متوقع تھی۔ اگر کنکورڈیا پر دو دن قیام ممکن ہو تو اس سے کےٹو بیس کیمپ ٹریکنگ اور علی کیمپ کی جانب سفر کے درمیان ایک دن آرام مل جاتا ہے۔ ہمارے ساتھ سعدیہ مقبول کا پانچ رکنی گروپ بھی کنکورڈیا پر ٹھہرا ہوا تھا۔ سعدیہ اور ان کے تین گروپ ممبرز علی الصبح کے ٹو بیس کیمپ کے لیے روانہ ہوئے اور شام کو ان کی واپسی ہو گئی۔ چونکہ وہ لوگ جوان اور اچھے سٹیمنا کے مالک تھے تو اگلے روز وہ علی کیمپ کا سفر بھی کر سکتے تھے۔
کنکورڈیا پر دن سست روی سے گزر رہا تھا۔ کچھ ساتھی میس کیمپ میں گپیں لگانے میں مشغول تھے جبکہ کچھ اپنے خیموں میں آرام کر رہے تھے۔ ایک بجے میں میس کیمپ سے اُٹھ کر کچن کیمپ میں چلی گئی جہاں کک زمان بھائی، نور عالم اور ماموں محمد ہمارے لیے پیزہ اور پاستا بنا رہے تھے۔ خاص دن پر خاص کھانے کی تیاری چل رہی تھی۔ زمان بھائی اور ماموں نہایت مہارت سے اپنا اپنا کام کر رہے تھے جبکہ نور عالم ان کی مدد کر رہا تھا۔ میں وقت گزاری کے لیے ان کے پاس کچھ دیر بیٹھ گئی۔ جلد ہی زمان بھائی نے کھانا تیار کر کے میس کیمپ میں بھجوا دیا۔ آج کا کھانا ممبرز کے لیے سرپرائز تھا۔ کھانے کے بعد زمان بھائی کو میس کیمپ میں بلایا گیا۔ سب نے تالیوں سے انہیں خراج تحسین پیش کیا اور تعریف و ستائش سے نوازا۔ زمان بھائی نے رندھی آواز اور نمناک آنکھوں کے ساتھ سب کی محبت اور پذیرائی کا شکریہ ادا کیا۔
کھانے کے بعد عمیر نے بتایا کہ “ہمارے چار ممبرز جی جی لا کے لیے نہیں جا رہے ہیں اور گروپ کے تئیس ممبرز میں سے اکیس ممبرز مجھ سے فرداً فرداً مل چکے ہیں۔“ یہ جملہ کہتے ہوئے وہ میری طرف دیکھ رہے تھے جس سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ میں اور میرا ساتھی ہی بچے ہیں جنہوں نے عمیر سے ابھی تک میٹنگ نہیں کی۔ میرے دل میں ہلکا سا خوف تھا کہ کہیں عمیر مجھے جی جی لا سے روک نہ دیں۔ جب میں جھجکتے ہوئے عمیر سے ملی تو ان کا پہلا جملہ تھا “سعدیہ آر یو ریڈی؟” میں نے جواباً یس کہا تو انھوں نے کہا “شاباش جانے کی تیاری کریں۔”
ساڑھے تین بجے کےٹو کی چوٹی سے بادل سرکنے لگے۔ سب اپنے کیمرے اور موبائل سنبھالے کھڑے تھے۔ میں سانس روکے اس لمحے کی منتظر تھی جب کےٹو صاف اور مکمل نظر آئے۔ تقریباً پونے چار بچے کےٹو کی چوٹی نظر آنے لگی۔ اسی دوران عمیر حسن کی ہدایت پر گائیڈز ہم سب ممبرز کو جی جی لا کی پریکٹس کے لیے کےٹو کے سامنے ایک برفانی ٹیلے پر لے گئے۔ ہلکی ہلکی پھوار میں سب ممبرز ہارنس اور ہیلمٹ پہنے باری باری رسی سے اس برفانی ٹیلے پر چڑھنے لگے۔ گائیڈ احمد نے ٹیلے کے اوپر رسی کا سرا تھام رکھا تھا اور وہ چڑھنے والے ہر ممبر کی حوصلہ افزائی کر رہا تھا۔ جبکہ نور عالم اور موسیٰ نیچے سے ممبرز کو رسی پکڑ کر چڑھنے میں مدد فراہم کر رہے تھے۔ سخت اور جمی ہوئی برف پر کریمپونز زیادہ مفید ثابت نہیں ہو رہے تھے اور سب کو چڑھنے میں مشکل پیش آ رہی تھی۔ میں بھی اپنی باری آنے پر جمار کی مدد سے رسی کے ذریعے ٹیلے پر چڑھنے لگی۔ بارش تیز نہیں تھی اس لیے پریکٹس جاری رہی۔ اسی دوران مختلف عمر کے مرد و خواتین پر مبنی ایک چینی گروپ بھی وہاں پریکٹس کے لیے پہنچ گیا۔
جب میں ٹیلے پر پہنچی تو بارش تھم گئی اور پہاڑوں کے سامنے دہری دھنک نمودار ہو گئی۔ یہ ایک انتہائی خوبصورت قدرتی نظارہ تھا جس میں ایک قوس قزح کے ساتھ ساتھ اس کے اوپر ایک اور مدھم قوس قزح دکھائی دے رہی تھی۔ اس دوہری قوس قزح میں رنگوں کی ترتیب الٹ ہوتی ہے۔ یہ دلکش نظارہ اس وقت بنتا ہے جب سورج کی شعاعیں بارش کے قطروں سے دو بار منعکس ہوتی ہیں۔ اس جادوئی لمحے نے مجھے جکڑ لیا اور میں اس دہری دھنک کو تب تک دیکھتی رہی جب تک یہ مدھم پڑتے پڑتے مکمل معدوم نہیں ہو گئی۔
اس دوران کےٹو پر بادلوں کی آنکھ مچولی جاری رہی۔ من چلے بادل جھومتے ہوئے آتے، چوٹی کو بوسہ دیتے اور تیرتے ہوئے آگے نکل جاتے۔ کہیں کہیں سرمئی بادلوں سے نیلا آسمان جھانک رہا تھا۔ یہ سارا نظارا اس قدر روح پرور تھا کہ میرا دل کیا کہ وقت رُک جائے۔ میں حقیقت کی دنیا سے دور ایک خوابی دنیا میں فطرت کی آغوش میں سانس لے رہی تھی ۔
برفانی ٹیلے پر پریکٹس کے بعد ہم سب کیمپ سائٹ واپس آ گئے۔ کنکورڈیا کے اس وسیع پتھریلے میدان میں دنیا کے دو عظیم الشان پہاڑوں کے سائے میں میں اپنی شناخت بھول کر اس جادوئی ماحول کا ایک حصہ بن گئی تھی۔ تقریباً ساڑھے پانچ بجے کےٹو صاف نظر آنے لگا اور میرے دل کی مراد پوری ہوگئی۔ میس کیمپ کے باہر میرے چند ساتھی کرسیاں ڈالے کےٹو کے روبرو بیٹھے تھے۔ میں بھی ندیم بھائی اور احتشام کے پاس ایک خالی کرسی پر بیٹھ گئی۔ پاس ہی پنکش، سعد، اور بابر کھڑے تھے۔
وہیں مجھے معلوم پڑا کہ جی جی لا کے لیے نہ جانے والے چار ممبرز ندیم بھائی،فیصل بھائی، سعد اور پنکش ہیں۔ استفسار پر پتہ چلا کہ ندیم بھائی کو پاس کرنے کا شوق نہیں تھا اور ان کی کھانسی بھی بڑھ گئی تھی۔ پنکش کا بلڈ پریشر نارمل نہیں ہو رہا تھا۔ میں نے جب سعد سے نہ جانے کی وجہ پوچھی تو اس نے کندھے اُچکاتے ہوئے کہا کہ “جی جی لا میری وش لسٹ میں نہیں تھا، مجھے صرف کنکورڈیا تک آنا تھا۔” سعد جیسے منجھے ہوئے ٹریکر سے یہ جواب سن کر مجھے حیرت تو ہوئی لیکن اس کے لہجے کا تیقن بلاشبہ قابل داد تھا۔ اس کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے میں نے اس کو بحفاظت واپسی کی دعا دی۔ فیصل بھائی کو ٹیم لیڈر عمیر حسن نے جی جی لا کرنے سے روک دیا تھا۔ وہ بظاہر دلبرداشتہ تھے لیکن حقیقت کو سمجھتے ہوئے انھوں نے عمیر کے فیصلے پر سرِ تسلیم خم کیا۔ ہم سب ان چار ممبرز کی واپسی پر افسردہ تھے۔
آہستہ آہستہ کنکورڈیا پر شام اُترنے لگی۔ ایک بھرپور اور یادگار دن اختتام پذیر ہونے جا رہا تھا۔ رات کے کھانے میں ابھی کچھ وقت تھا تو میں تھوڑی دیر آرام کی غرض سے اپنے خیمے میں چلی گئی۔ کھانے کی اطلاع پر ہم سب ممبرز میس کیمپ میں جمع ہو گئے۔ یخ بستہ موسم میں میرا جسم کپکپا رہا تھا۔ شدید سردی کی وجہ سے فون اور پاور بینک بھی چارج نہیں ہو رہے تھے۔ اگلی صبح ہم نے علی کیمپ روانہ ہونا تھا جہاں چارجنگ کی سہولت میسر نہیں تھی اس لیے مجھے اپنا فون چارج کرنے کی پریشانی تھی۔ لیکن جیسے تیسے کر کے فون کچھ پرسنٹ چارج ہو ہی گیا۔
کھانے کے بعد میری نظر فیصل بھائی پر پڑی جو بظاہر مسکرا رہے تھے لیکن افسردگی ان کے چہرے پر رقم تھی۔ ان کی اداسی کو بھانپتے ہوئے میں نے ان کی ہمت افزائی کی۔ میس کیمپ میں کچھ دیر محفل جمی پھر عمیر اور ان کی ٹیم میٹنگ کے لیے کچن کیمپ میں چلے گئے۔ دھیرے دھیرے ہم سب نے بھی اپنے اپنے خیموں کا رُخ کیا۔ کنکورڈیا پر یہ ہماری دوسری رات تھی۔ صبح ایک نئے اور مشکل سفر کا آغاز ہونا تھا۔ جس کے لیے رات جلدی سونا اور بھرپور آرام ضروری تھا۔
جاری ہے۔۔۔



