پاکستان کے زیادہ تر لوگوں کے خیال میں اسلام آباد ایک شہر کا نام ہے ہمارا خیال بھی یہی تھا۔
لیکن اسلام آباد میں شہر کی نسبت دیہات میں رہنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔
اسلام آباد کے ہر سیکٹر کے بسانے میں کوئی نہ کوئی گائوں ضرور ماڈرن بِلڈنگ کے نیچے دب گیا۔
میں ۱۹۸۳ میں آزاد کشمیر فوجی بھرتی ٹیم میں بطورِ میڈیکل آفیسر ڈیوٹی کے لئے گیا۔ آزاد کشمیر بھرتی ٹیم اور راولپنڈی بھرتی ٹیم راولپنڈی ملٹری ہسپتال کے قریب ایک ہی بلڈنگ میں تھین کے ذمہ آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں اور شمالی علاقوں میں جاکر فوجی جوانوں کی سلیکشن اور پی ایم اے کیلئے نوجوان کی ابتدائی انرولمنٹ تھی۔ فرسٹ آزاد کشمیر رجمنٹ کے میجر سلیم اُس ٹیم کے انچارج تھے۔
ہم کشمیر کے مختلف علاقوں میں بھرتی کیلئے آتے جاتے اسلام آباد سے گزرتے تو میجر سلیم اسلام آباد میں کہیں نہ کہیں گاڑی روک کر کسی درخت یا جگہ کی طرف اشارہ کرکے اُس سے وابستہ اپنے بچپن کی یادیں میرے ساتھ شیئر کرتے۔ اُن کا گائوں اسلام آباد شہر مین گھر کر ختم ہو گیا تھا۔
کچھ عرصہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کے یونٹ ۲۳ فرنٹیئر فورس رجمنٹ کے ساتھ مالا کنڈ قلعہ میں رہا۔ تب بٹالین کمانڈر لیفٹننٹ کرنل منصور راجہ تھے۔ منصور راجہ اور میرے مشاغل میں مالاکنڈ کی پہاڑیوں پر چڑھنے اترنے کے علاوہ فارغ وقت میں افسرز میس کے باہر بیٹھ کر چائے کے کپ پر گپ شپ لگانا شامل تھا۔ کرنل منصور راجہ اکثر اپنے دیہات کے قصے سناتے، ان کا گائوں اسلام آباد کے دیہاتی علاقہ میں شامل تھا۔ تب پتہ چلا کہ اسلام آباد کی آبادی دیہات میں زیادہ ہے۔
گزشتہ سال ہم نے اسلام آباد کے دیہاتی علاقوں میں فری آئی کیمپنگ شروع کی تو اسلام آباد کے دیہات اور اُن دیہات کے لوگوں سے ملنے اور اُن کے ساتھ رہنے کا موقع ملا۔
فیلڈ مارشل میرے بعد یونٹ میں بطورِ سیکنڈ لیفٹننٹ شامل ہوئے۔
اسلام آباد کے متعلق مختلف ذرائع سے معلومات اکٹھی کیں تو احساس ہوا کہ اسلام آباد حساس اور پیار کرنے والوں کا خطہ ہے، وگرنہ پہلے ہم تو اسے سنگ و خشت کے بڑی بڑی بے حس بلڈنگز کا شہر ہی سمجھتے تھے۔
اسلام آباد کا تاریخی پس منظر
اسلام آباد کو مملکتِ خداداد پاکستان کا دارالحکومت بنانے کا اعلان 1959ء میں ہوا۔ اس سے قبل اس سرزمین پر کم وبیش 160 دیہات آباد تھے۔
ارضِ اسلام آباد کا قدیم نام راج شاہی تھا۔ صدیوں سے یہ سرزمین آباد چلی آرہی تھی۔ کئی نسلیں پیوند زمین ہوئیں۔ برفانی دور۔۔۔ ارتقائے انسانی کا ثانوی دور۔۔۔ پتھر دور کی تہذیب۔۔۔ قدیم آریا تہذیب۔۔۔ رگ ویدک دور۔۔۔ گندھارا تہذیب۔۔۔ ایرانی تہذیبی دور۔۔۔ یونانی دور کے اثرات۔۔۔ موریہ دور حکومت۔۔۔ سائیس تھین دور۔۔۔ پارتھیائی دور۔۔۔ کشان دور۔۔۔ سفید ہنوں کا دور۔۔۔ ترک شاہی دور۔۔۔ اسلامی دور حکومت کا آغاز۔۔۔ غوری اور مغلیہ دور۔۔۔ سکھوں کا دور۔۔۔ برطانوی دور سے لے کر پاکستان کے وجود میں آنے تک اس دھرتی پر اربوں انسانوں کے قدم پڑے۔
یہ دھرتی پوٹھوہار کی سواں تہذیب و تمدن کا مسکن رہی ہے۔ ماہرین ارضیات کی تحقیق کے مطابق یہاں پر لاکھوں سال پرانے انسانی قدموں کے نشانات ملے ہیں۔ یہاں انسانی زندگی کے آثار 20 لاکھ سال پرانے ہیں۔ یہ تحقیق دریائے سواں کے علاقے سے ملنے والے فوسلز پر مبنی ہے۔ 1928 میں ڈی۔این واڈیا نے دریائے سواں کے کنارے پتھر کے اوزاروں سے بھی پرانے زمانے کے نشانات دریافت کیے۔
نیا شہر — پرانے دیہات
1960ء میں اسلام آباد کی تعمیر کے آغاز پر سی ڈی اے نے اکثر دیہاتوں کی زمینیں ایکوائر کر لیں۔ مکینوں کو ملتان، جھنگ اور سرگودھا میں الاٹیاں دی گئیں لیکن قدیم آبادی مکمل طور پر منتقل نہ ہو سکی۔
کئی دیہات آج بھی موجود ہیں جبکہ کئی سیکٹرز کے نیچے مکمل دب چکے ہیں۔
اسلام آباد کے مشہور دیہات میں سیدپور، نورپور شاہاں، شکر پڑیاں، ملپور، بہارہ کہو، گولڑہ شریف، سری سرال، باغ بٹاں، ملکاں ہانس، بھیگا سیداں، کٹاریاں، گیدڑ کوٹھا، شاہ اللہ دتہ شامل ہیں۔
قدیم ترین بستیاں اور ان کی تاریخ
سیدپور، شاہ اللہ دتہ، ڈھوک جیون، کٹاریاں، بانیاں، ٹھٹھہ گوجراں، ملپور، ڈھوکری، باغ کلاں، نورپور شاہاں، راول ڈیم کے نیچے آنے والی بستیاں، مارگلہ ہلز کی قدیم آبادیاں، گولڑہ شریف، میرا جعفر، ملک پور، ترکھان قبیلے کی بستی، دھنیال قبیلے کے دیہات، جھنگی سیداں، سہالہ کے قدیم قصبے، علی پور، فراش، پنجگراں اور دیگر تمام جگہوں کی تفصیل آپ کے فراہم کردہ متن کے مطابق جوں کی توں شامل ہے۔
اسلام آباد کے قدیم دیہات — مکمل فہرست
لوہی بھیر، ملوٹ، ہون دھمیال، اراضی مسنالی، بگونال موہڑہ، بیگوال موہڑہ، باکری بدھال، چک شہزاد، علی پور فراش، جگیوٹ، جھنگی سیداں، میرا بیگوال، ملک پور عزیزال، ملپور، میرا جعفر، موہڑہ نگڑیال، پھلگراں، پنڈ بھیگوال، رحمان ٹاؤن، سید پور، شاہ اللہ دتہ، نورپور شاہاں، شاہدرہ، ماندلہ، نڑولہ، رتہ ہوتر، نڑیل، جبی، کملاڑی، روملی، منڈیالہ، سرہ، بنی گالا، ملواڑ، گوکینہ، تلہاڑ، نڑیاس، بڈھو، بہارہ کہو، موہڑہ نور، کرپا، چراہ، ٹھنڈا پانی، سملی، سہالہ، ترنول، پنڈ پراچہ، سری سرال، میرا آبادی، سوہان، چھتر، شاہ پور، سکریلہ، دوہالہ، اٹھال، چونترا، بابری پیٹھا، کرلوٹ، ہوتراں، کیتھر منگال، چنیاری، تمیر، میرا۔



