تحریر و تحقیق : تنویر ساحر
پاکستان کی قومی اسمبلی میں حال ہی میں پیش کی گئی وزارتِ صحت کی رپورٹ نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ — تقریباً آٹھ کروڑ افراد — کسی نہ کسی نفسیاتی یا ذہنی بیماری میں مبتلا ہے۔ یہ اعداد و شمار 5 ستمبر 2024 کے قومی اسمبلی اجلاس میں پیش کیے گئے، جہاں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے بتایا کہ ڈپریشن، انزائٹی، اور دیگر نفسیاتی عوارض خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔ یہ اعداد صرف ایک عدد نہیں بلکہ ایک اجتماعی المیہ ہیں — ایک ایسا المیہ جو چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ ہمارا معاشرہ ذہنی طور پر بیمار ہو چکا ہے۔
دنیا کے دیگر ممالک سے موازنہ کیا جائے تو یہ صورتحال اور زیادہ لرزہ خیز لگتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق دنیا کی کل آبادی میں تقریباً 25 فیصد لوگ کسی نہ کسی ذہنی دباؤ یا نفسیاتی عارضے میں مبتلا ہیں، مگر پاکستان میں یہ تناسب 35 سے 40 فیصد تک جا پہنچا ہے۔ یہ وہ شرح ہے جو کسی بھی ترقی پذیر ملک کے لیے خطرے کی گھنٹی سمجھی جاتی ہے۔ بھارت، ایران، بنگلہ دیش اور ترکی جیسے ممالک میں بھی ذہنی دباؤ بڑھا ہے، مگر وہاں حکومتی سطح پر نفسیاتی معالجوں کی تعداد اور علاج گاہوں کا نظام پاکستان سے کہیں بہتر ہے۔
سوال یہ ہے کہ پاکستان میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ کیوں ذہنی امراض کا شکار ہو گئے؟ حقیقت خوفناک ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بیروزگاری، سیاسی عدم استحکام، گھریلو جھگڑے، سماجی تنہائی، اور انصاف کی نایابی نے انسان کو اندر سے توڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایک طرف مذہبی و اخلاقی اقدار کمزور ہو رہی ہیں، دوسری طرف انسان کا ذہن تنہائی اور بے بسی میں ڈوبتا جا رہا ہے۔ گھروں کے اندر سکون عنقا ہے، خاندان بکھر رہے ہیں، شوہر بیوی سے، والدین اولاد سے اور بہن بھائی ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگے ہیں۔ یہ نفسیاتی دباؤ اب گھروں کو برباد کر رہا ہے۔
پاکستان کا معاشرہ ایک اجتماعی اعصابی بحران کا شکار ہے۔ جب ایک معاشرہ ذہنی مریض بن جائے تو وہاں جرم بڑھتا ہے، خودکشی عام ہوتی ہے، عورت اور بچہ غیر محفوظ ہو جاتے ہیں، اور اخلاقی حدود ٹوٹنے لگتی ہیں۔ یہ وہ نکتہ ہے جہاں مذہبی اور سماجی اقدار دم توڑ دیتی ہیں۔ آج ہمارے بچے نفسیاتی دباؤ میں بڑے ہو رہے ہیں، ان کی تربیت کا تسلسل ٹوٹ چکا ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ نسلیں نہ صرف ذہنی بلکہ اخلاقی طور پر بھی معذور ہو جائیں گی۔
عالمی ادارۂ صحت کے اعداد کے مطابق ایک ہزار افراد پر کم از کم ایک ماہرِ نفسیات ہونا چاہیے، مگر پاکستان میں دس لاکھ افراد پر صرف ایک نفسیاتی ڈاکٹر دستیاب ہے۔ یہ اعداد خود بتاتے ہیں کہ ہم علاج نہیں، بس تماشائی بن کر مریضوں کو دیکھ رہے ہیں۔ سرکاری اسپتالوں میں نفسیاتی وارڈز کی حالت ناقابلِ بیان ہے۔ بیشتر ڈاکٹرز جنرل میڈیکل کے تحت ذہنی مریضوں کو صرف نیند کی گولی دے کر خاموش کر دیتے ہیں، جبکہ اصل علاج یعنی کونسلنگ، تھیراپی اور نفسیاتی تربیت کہیں موجود ہی نہیں۔
اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی ضرورت نفسیاتی تعلیم اور سائیکالوجی کے شعبے کی ترقی ہے۔ ملک کی یونیورسٹیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے الحاق شدہ اداروں میں سائیکالوجی کے مضمون میں نشستوں میں اضافہ کریں۔ اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں طلبہ میں ذہنی صحت کے شعور کے لیے مہمات شروع کریں۔ میڈیا اور دینی ادارے عوام میں آگاہی پھیلائیں کہ نفسیاتی مرض کوئی شرمندگی نہیں بلکہ ایک قابلِ علاج بیماری ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ ہر ضلعی اسپتال میں نفسیاتی ماہر کی موجودگی لازم قرار دے۔ اسکولوں اور کالجوں میں کونسلنگ رومز بنائے جائیں۔ سوشل میڈیا، مذہبی اداروں، اور مقامی حکومتوں کو اس مہم میں شامل کیا جائے۔ جو قوم اپنے ذہنی مریضوں کو فراموش کر دے، وہ اپنی آنے والی نسلوں کو خودکشی کے دہانے پر چھوڑ دیتی ہے۔
یہ اعدادوشمار صرف خطرہ نہیں، ایک چیخ ہیں۔ ایک صدا جو ہر دیوار سے ٹکرا کر واپس آ رہی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب ہمیں رک کر اپنے ذہن، اپنی روح، اور اپنے گھروں کا علاج کرنا ہوگا۔ اگر ہم نے اب بھی توجہ نہ دی تو پاکستان شاید ایک دن صرف جغرافیہ رہ جائے گا، انسانیت نہیں۔



