ڈیورنڈ لائن سے واخان تک: تاریخ، جغرافیہ اور قومی مفاد کی نئی سمت

تحریر: اختر وزیر آفریدی

دنیا کے نقشے پر سرحدیں صرف لکیریں نہیں ہوتیں، یہ قوموں کے مزاج، اقتدار، شناخت اور مستقبل کی علامت ہوتی ہیں۔ افسوس مگر یہ ہے کہ برصغیر کے شمال مغربی خطے میں ایک لکیر — جسے ہم “ڈیورنڈ لائن” کہتے ہیں — کو آج بھی کچھ حلقے طنز و حقارت سے ”انگریز کی بنائی ہوئی لکیر“ کہہ کر رد کر دیتے ہیں، لیکن جب یہی اصول واخان کی پٹی پر آتا ہے تو سب استدلال غائب ہو جاتا ہے۔

سوال سادہ ہے مگر جواب میں منافقت کی پرتیں ہیں۔ اگر ڈیورنڈ لائن صرف اس لیے ناقابلِ اعتبار ہے کہ اسے برطانیہ نے بنایا تھا، تو پھر واخان کی پٹی کس نے بنائی؟

وہی برطانیہ اور روس نے! دونوں سلطنتوں نے 1895ء کے معاہدے کے تحت افغانستان اور روسی وسطی ایشیا کے درمیان واخان کا ایک تنگ بفر زون تخلیق کیا تاکہ دونوں طاقتیں ایک دوسرے کے مقابل براہِ راست نہ آ سکیں۔

تاریخی دستاویزات — خاص طور پر “The Anglo-Russian Agreement of 1895” اور Lord Curzon’s Frontier Policy Papers — واضح کرتی ہیں کہ یہ تمام انتظام برطانیہ اور روس کے درمیان ہوا، جس میں افغانستان کا کوئی حقیقی کردار نہیں تھا۔ یعنی اگر افغان قوم پرست یہ دلیل دیتے ہیں کہ ڈیورنڈ لائن غیرمنصفانہ تھی کیونکہ انگریز نے مسلط کی، تو واخان کی سرحدوں کا تعین تو اس سے بھی زیادہ غیر متعلقہ قوتوں نے

کیا۔

یعنی افغانستان سے پوچھے بغیر برطانیہ اور روس نے۔

واخان:

ایک مصنوعی مگر فیصلہ کن پٹی

واخان کی پٹی جغرافیائی لحاظ سے پاکستان، چین اور تاجکستان کے سنگم پر واقع ایک تنگ راہداری ہے، جس کی چوڑائی صرف تیرہ کلومیٹر تک محدود ہے۔ یہ پٹی افغانستان کو چین سے ملانے والا واحد زمینی راستہ ہے، مگر تاریخی طور پر اس کے قبائل اور ثقافتی رشتے چترال، گلگت اور ہنزہ سے وابستہ رہے ہیں۔

یہی وہ خطہ ہے جہاں کے خانِ واخان، میر علی شاہ مردان نے 1895ء میں برطانوی کمشنر سے مطالبہ کیا تھا کہ واخان کو چترال کے ساتھ ملایا جائے، کیونکہ عوامی، لسانی اور قبائلی تعلقات یکساں تھے۔ مگر روس اور برطانیہ کی ’’گریٹ گیم‘‘ میں اس آواز کو دبا دیا گیا۔

تاریخ کے اس فیصلے نے خطے کے قدرتی جغرافیے کو مصنوعی طور پر تقسیم کر دیا، مگر زمینی حقیقتیں آج بھی اپنا رشتہ پاکستان کے شمالی علاقوں سے جوڑے ہوئے ہیں۔

ڈیورنڈ لائن پر اعتراض اور واخان پر خاموشی کیوں؟

یہ تضاد سمجھنا ضروری ہے۔ افغانستان کی سرحدیں ترکمانستان، ازبکستان، تاجکستان، چین اور ایران سے بھی ملتی ہیں۔ ان میں سے کسی کا تعین افغانستان نے خود نہیں کیا۔

ترکمانستان کی سرحد (1880ء): برطانیہ اور روس نے متعین کی۔

ازبکستان کے ساتھ دریائے آمو کی لکیر (1873ء): روسی فرمان کے تحت طے ہوئی۔

چین کے ساتھ واخان-کاشغر لائن (1895–1896): برطانیہ اور روس کی مشاورت سے بنی۔

کیا کبھی افغان حکومتوں نے ان سرحدوں کو غیرقانونی قرار دیا ؟ نہیں۔

ان سب کو تسلیم کر لیا گیا، مگر ڈیورنڈ لائن — جو واحد سرحد ہے جس کے تعین میں افغانستان کی نمائندگی بھی موجود تھی — آج تک متنازعہ قرار دی جاتی ہے۔ یہ وہ دوہرا معیار ہے جو حقائق سے زیادہ سیاست کا شکار ہے۔

پاکستان اور واخان:

مستقبل کی راہداری

چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تناظر میں واخان کی پٹی ایک غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ اگر یہ راستہ فعال ہو جائے تو پاکستان چند سو کلومیٹر کے فاصلے پر براہِ راست تاجکستان، کرغزستان اور دیگر وسطی ایشیائی ریاستوں سے جڑ سکتا ہے۔

یہ خطہ صدیوں سے تجارت کے لیے استعمال ہوتا رہا — یہاں تک کہ شاہراہِ ریشم کی ایک شاخ واخان سے گزر کر بدخشان کے راستے کاشغر تک جاتی تھی۔

آج جب دنیا دوبارہ اقتصادی رابطوں کی طرف بڑھ رہی ہے، تو پاکستان کا مفاد اسی میں ہے کہ وہ واخان کے راستے کو پرامن تجارتی راہداری میں تبدیل کرے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ 1981ء میں روسی افواج کے داخلے کے بعد جب ببرک کارمل کے زیرِ سایہ کمیونسٹ حکومت نے واخان میں کارروائیاں کیں تو ہزاروں کرغیزی اور پامیری باشندے وہاں سے ہجرت کر کے گلگت اور چترال کی طرف آ گئے۔ یہ ہجرت بذاتِ خود ایک جغرافیائی شہادت ہے کہ واخان کا سماجی رشتہ پاکستان سے فطری طور پر جڑا ہوا ہے۔

قومی مفاد اور موقف میں توازن

اگر افغانستان ڈیورنڈ لائن کے تقدس کو چیلنج کرتا ہے تو پاکستان کے پاس بھی تاریخی اور اخلاقی حق ہے کہ وہ واخان کی پٹی پر اپنا موقف پیش کرے۔

مگر پاکستان کا مقصد قبضہ نہیں بلکہ تعاون اور اشتراک ہے۔ واخان ایک دروازہ بن سکتا ہے — جنگ کا نہیں بلکہ تجارت اور امن کا۔

یہ وہ مقام ہے جہاں سے گوادر سے دوشنبے تک، کراچی سے تاشقند تک، ترقی کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔

قوموں کے تعلقات میں ملامتی تصوف نہیں چلتا۔ احترام باہمی ہوتا ہے، مگر خودداری کے ساتھ۔ اگر ایک طرف کے تاریخی معاہدے رد کیے جائیں تو دوسری طرف کے بھی زیرِ بحث آ سکتے ہیں۔

ڈیورنڈ لائن صرف ایک تاریخی لکیر نہیں، بلکہ برصغیر کے جدید جغرافیے کی بنیاد ہے۔ اسے چیلنج کرنا صرف پاکستان کو نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کو غیر مستحکم کرتا ہے۔

لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ماضی کی تلخیوں سے نکل کر حقیقت پسندی کی طرف بڑھیں —

تاریخ کو دلیل سے، جغرافیہ کو منطق سے، اور قومی مفاد کو خودداری سے جوڑیں۔



  تازہ ترین   
ٹرمپ آبنائے ہرمز کے بغیر بھی جنگ ختم کرنے پر آمادہ: امریکی اخبار، عرب ممالک اخراجات دیں: وائٹ ہاؤس
ثالثی پیشکش نیک نیتی پر مبنی، فیصلے فریقین نے خود کرنے ہیں: سفیر پاکستان
اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کا متنازعہ قانون منظور
ایران کے اسرائیل اور امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ویپن سپورٹ تنصیبات پر حملے
مشاورتی اجلاس: صوبوں کی سمارٹ لاک ڈاؤن کی مخالفت، کفایت شعاری اقدامات کا عزم
بھارت کی ایک اور فالس فلیگ کی سازش بے نقاب ہوگئی:ذرائع
جنگ کے خاتمے کا کوئی بھی فیصلہ ہماری شرائط پر ہوگا: ایرانی صدر کا واضح پیغام
مشکل کی اس گھڑی میں معاشی طور پر کمزور عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے: وزیراعظم





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر