ظالم اور نالائق حکمران بہادر شاہ ظفر، شہنشاہ ہند کا ذلت آمیز انجام، ایسا کیوں ہوا؟ یہ تحریر ہمارے ان تمام حکمرانوں کے لیے ایک سبق آموز نصیحت ہے جو عوام سے دوری اور لاتعلقی اختیار کر چکے ہیں۔ عوام پر بھاری ٹیکس عائد کرکے پارلیمنٹ میں اپنی تنخواہوں میں ہوشربا اضافہ کرتے ہیں، اشرافیہ کے لیے قوانین میں رعایت رکھتے ہیں اور عام عوام کے لیے قانون پر سختی سے عمل درآمد کراتے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، لاقانونیت اور سب سے بڑھ کر انصاف کے حصول میں بھی تفریق ہوتی ہے۔ غریب کا انصاف ممکن نہیں ہوتا، جبکہ امیر اور اشرافیہ کے لیے انصاف گھر کی لونڈی کے مترادف ہے۔
مغلیہ دور کے آخری ادوار کا بغور جائزہ لیا جائے تو آج ہماری اشرافیہ بھی مکمل طور پر بہادر شاہ ظفر، شہنشاہ ہند کی تقلید کر رہی ہے۔ وقت کبھی کسی ظالم حکمران کا مستقل ساتھ نہیں دیتا۔ جس طرح ماضی میں عظیم سلطنت کا بادشاہ بہادر شاہ ظفر، اس وقت رنگون میں واقع ایک گھر کے گیراج میں دفن ہے۔
ہندوستان کے آخری شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کو کیپٹن نیلسن ڈیوس نے 17 اکتوبر 1858ء کو رنگون پہنچایا۔ انہیں اور ان کے خاندان کے 35 مرد و خواتین کو بحری جہاز میں بٹھا کر وہاں لایا گیا تھا، جب ان کے اقتدار کا سورج ان کے عوام دشمن ظالمانہ اقدامات، اقربا پروری اور نالائق وزیروں و مشیروں کی وجہ سے غروب ہوا۔ شاہی اقتدار کے خاتمے پر بہادر شاہ ظفر کو رنگون کے انچارج کیپٹن نیلسن ڈیوس نے وصول کیا، رسید لکھ کر دی اور دنیا کی تیسری بڑی سلطنت کے آخری چشم و چراغ کو لے کر اپنی رہائش گاہ پر آگیا۔ نیلسن پریشان تھا، کیونکہ بہادر شاہ ظفر قیدی ہونے کے باوجود شہنشاہ تھا اور نیلسن کا ضمیر گوارا نہیں کر رہا تھا کہ وہ بیمار اور بوڑھے شہنشاہ کو جیل میں ڈال دے، مگر رنگون میں کوئی ایسا مقام نہیں تھا جہاں بہادر شاہ ظفر کو رکھا جا سکتا۔
نیلسن نے چند لمحے سوچا اور مسئلے کا دلچسپ حل نکال لیا۔ اس نے اپنے گھر کا گیراج خالی کرایا اور شہنشاہ ہندستان، تیموری لہو کے آخری چشم و چراغ کو اپنے گیراج میں قید کر دیا۔ بہادر شاہ ظفر 17 اکتوبر 1858ء کو اس گیراج میں پہنچے اور 7 نومبر 1862ء تک چار سال وہاں رہے۔ بہادر شاہ ظفر نے اپنی مشہور زمانہ غزل بھی اسی گیراج میں لکھی تھی:
“لگتا نہیں ہے دل میرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں”
“کتنا بدنصیب ہے ظفر دفن کے لئے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں”
سن 1862 اور 7 نومبر کا دن بہادر شاہ ظفر کی خادمہ نے شدید پریشانی میں کیپٹن نیلسن ڈیوس کے دروازے پر دستک دی۔ اندر سے اردلی نے برمی زبان میں اس بدتمیزی کی وجہ پوچھی۔ خادمہ نے ٹوٹی پھوٹی برمی میں جواب دیا کہ شہنشاہ ہندوستان کا سانس اکھڑ رہا ہے۔ اردلی نے جواب دیا کہ نیلسن صاحب کتے کو کنگھی کر رہے ہیں، میں انہیں تنگ نہیں کر سکتا۔
خادمہ نے اونچی آواز میں رونا شروع کر دیا۔ اردلی اسے چپ کرانے لگا مگر آواز نیلسن تک پہنچ گئی۔ وہ غصے میں باہر نکلا۔ خادمہ نے نیلسن کو دیکھا تو وہ اس کے قدموں میں گر گئی۔ وہ مرتے ہوئے شہنشاہ کے لیے گیراج کی کھڑکی کھلوانا چاہتی تھی۔ شہنشاہ موت سے پہلے آزاد اور کھلی ہوا کا ایک گھونٹ بھرنا چاہتا تھا۔
نیلسن نے اپنا پسٹل اٹھایا، گارڈز کو ساتھ لیا اور گیراج میں داخل ہو گیا۔ بہادر شاہ ظفر کی آخری آرام گاہ کے اندر بدبو، موت کا سکوت اور اندھیرا تھا۔ اردلی لیمپ لے کر شہنشاہ کے سرہانے کھڑا ہو گیا۔ نیلسن آگے بڑھا۔ بادشاہ کا کمبل آدھا بستر پر تھا اور آدھا فرش پر۔ اس کا ننگا سر تکیے پر تھا، لیکن گردن ڈھلکی ہوئی تھی۔ آنکھوں کے ڈھیلے پپوٹوں کی حدوں سے باہر ابل رہے تھے۔ گردن کی رگیں پھولی ہوئی تھیں اور خشک زرد ہونٹوں پر مکھیاں قبضہ کر چکی تھیں۔
نیلسن نے زندگی میں ہزاروں چہرے دیکھے تھے، لیکن اس نے کسی چہرے پر اتنی بے چارگی، اتنی غریب الوطنی نہیں دیکھی تھی۔ وہ کسی شہنشاہ کا چہرہ نہیں تھا، بلکہ دنیا کے سب سے بڑے بھکاری کا چہرہ تھا۔ اس چہرے پر صرف ایک آزاد سانس کی اپیل تحریر تھی، اور یہ اپیل پرانے کنوئیں کی دیوار سے لپٹی کائی کی طرح ہر دیکھنے والی آنکھ کو اپنی گرفت میں لے لیتی تھی۔
کیپٹن نیلسن نے شہنشاہ کی گردن پر ہاتھ رکھا۔ زندگی کے قافلے کو رگوں کے جنگل سے گزرے مدت ہو چکی تھی۔ ہندوستان کا آخری شہنشاہ بہادر شاہ ظفر اپنی زندگی کی حد عبور کر چکا تھا۔ نیلسن نے لواحقین کو بلانے کا حکم دیا۔ لواحقین تھے ہی کتنے؟ ایک شہزادہ جوان بخت اور دوسرا اس کا استاد حافظ محمد ابراہیم دہلوی۔ وہ دونوں آئے۔ انہوں نے شہنشاہ کو غسل دیا، کفن پہنایا اور جیسے تیسے نمازِ جنازہ پڑھی۔ قبر کا مرحلہ آیا تو پورے رنگون شہر میں آخری تاجدار ہند کے لیے دو گز زمین بھی دستیاب نہیں تھی۔ نیلسن نے سرکاری رہائش کے احاطے میں قبر کھدوائی اور لاش کو خیرات میں ملی ہوئی مٹی میں دفن کر دیا۔
قبر پر پانی کا چھڑکاو ہو رہا تھا، گلاب کی پتیاں بکھیری جا رہی تھیں، تو استاد حافظ ابراہیم دہلوی کے خزاں رسیدہ ذہن میں 30 ستمبر 1837ء کے وہ مناظر دوڑنے بھاگنے لگے جب دہلی کے لال قلعے میں 62 برس کے بہادر شاہ ظفر کو تاج پہنایا گیا۔ ہندوستان کے نئے شہنشاہ کو سلامی دینے کے لیے پورے ملک سے لاکھ لوگ دلی آئے تھے۔ جب شہنشاہ لباس فاخرہ پہن کر تاج سر پر سجا کر اور نادر شاہی اور جہانگیری تلواریں لٹکا کر دربار عام میں آئے، تو پورا دلی تحسین و تحسین کے نعروں سے گونج اٹھا۔ نقارچی نقارے بجانے لگے، گویا ہواوں میں تانیں اڑانے لگے، فوجی سالار تلواریں بجانے لگے اور رقاصائیں رقص کرنے لگیں۔ استاد حافظ محمد ابراہیم دہلوی کو یاد تھا کہ بہادر شاہ ظفر کی تاج پوشی کا جشن سات دن جاری رہا، اور ان سات دنوں میں دلی کے لوگوں کو شاہی محل سے کھانا کھلایا گیا۔ مگر 7 نومبر 1862ء کی اس ٹھنڈی اور بے مہر صبح شہنشاہ کی قبر کو کوئی ایک فرد نصیب نہیں تھا۔
استاد حافظ محمد ابراہیم دہلوی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ انہوں نے سورہ توبہ کی تلاوت شروع کر دی۔ حافظ ابراہیم دہلوی کے گلے سے سوز کے دریا بہنے لگے۔ یہ سب دیکھ کر کیپٹن نیلسن ڈیوس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے ہاتھ اٹھایا اور اس غریب الوطن قبر کو سیلوٹ پیش کر دیا، اور اس آخری سیلوٹ کے ساتھ ہی مغل سلطنت کا سورج ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔
اگر آپ کبھی رنگون جائیں تو آپ کو ڈیگن ٹاؤن شپ کی کچی گلیوں کی بدبودار جھگڑیوں میں آج بھی بہادر شاہ ظفر کی نسل کے خاندان مل جائیں گے۔ یہ آخری مغل شہنشاہ کی اصل اولاد ہیں، مگر یہ اولاد آج بھی رنگون سرکار کے وظیفے پر چل رہی ہے۔ یہ کچی زمین پر سوتی ہے، ننگے پاؤں پھرتی ہے، مانگ کر کھاتی ہے اور لوہے کی چادروں کے کنستروں میں رہتی ہے۔ سرکاری نل سے پانی پیتے ہیں، مگر یہ لوگ اس کسمپرسی کے باوجود خود کو شہنشاہ کی اولادیں کہتے ہیں۔ یہ لوگوں کو عہد رفتہ کی داستانیں سناتے ہیں اور لوگ قہقہے لگا کر رنگون کی گلیوں میں گم ہو جاتے ہیں۔
ہندوستان کے آخری مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر نے اپنے گرد نااہل، خوشامدی اور بدعنوان لوگوں کا لشکر جمع کر لیا تھا۔ یہ لوگ شہنشاہ ہند کی آنکھیں اور کان تھے۔ شہنشاہ کے دو بیٹوں نے سلطنت آپس میں تقسیم کر لی تھی۔ ایک شہزادہ داخلی امور کا مالک تھا اور دوسرا خارجی امور کا مختار۔ دونوں کے درمیان لڑائی بھی چلتی رہتی تھی، اور بہادر شاہ ان دونوں کی ہر غلطی، ہر کوتاہی معاف کر دیتا تھا۔
عوام کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ تھی۔ مہنگائی آسمان کو چھو رہی تھی، خوراک منڈیوں سے کٹائی کے موسموں میں غائب ہو جاتی تھی۔ سوداگر اور عام تاجر من مانی قیمت پر لوگوں کو عام اجناس، گندم اور سبزیاں بیچتے تھے۔ ٹیکسوں میں روز اضافہ ہوتا تھا۔ شہزادگان نے دلی شہر میں کبوتروں کے دانے تک پر ٹیکس لگا دیا تھا۔ ٹیکس وصولی کے لیے ناچ گانے والی عورتوں کی کمائی کا ایک حصہ بھی ان کی جیب میں چلا جاتا تھا۔
حکمراں خاندان کے لوگ قتل بھی کر دیتے تھے، تو کوئی ان سے پوچھ نہیں سکتا تھا۔ ریاست، دربار کے ہاتھوں سے نکل چکی تھی۔ نواب، صوبیدار، امیر اور سلطان آزاد ہو چکے تھے اور یہ مغل سلطنت کو ماننے تک سے انکاری تھے۔ فوج تلوار کی نوک پر حکمراں سے جو چاہتی تھی منوا لیتی تھی۔ عوام حکمراں اور اس کے خاندان سے بیزار ہو چکے تھے، اور شاہی خاندان کو دہلی کی گلیوں اور بازاروں میں سرعام برا بھلا کہتے تھے۔ شہر کوتوال چپ چاپ ان کے قریب سے گزر جاتے تھے۔ عوام مظالم، قوانین کی وجہ سے انگریزوں کو کسی بھی سطح پر مزاحمت کا سامنا نہ تھا۔ یہ روز معاہدہ توڑتے تھے اور حکمراں خاندان وسیع تر قومی مفاد میں انگریزوں کے ساتھ نیا معاہدہ کر لیتا تھا۔
انگریز شہزادگان کے وفاداروں کو قتل کر دیتے تھے، اور شاہی خاندان جب احتجاج کرتا تھا تو انگریز انہیں یہ بتا کر حیران کر دیتا تھا کہ جناب وہ شخص آپ کا وفادار نہیں تھا، وہ انسانیت کا دشمن آپ کے خلاف سازش کر رہا تھا، اور راجہ اس پر یقین کر لیتا تھا۔
بہادر شاہ ظفر، شہنشاہ ہند نے چونکہ طویل عرصے تک اپنی فوج کی طاقت بھی نہیں آزمائی تھی، چنانچہ جب لڑنے کا وقت آیا تو بہادر شاہ ظفر کی فوجوں سے اپنی تلواریں تک نہ اٹھائی گئیں۔ ان حالات میں جب آزادی کی جنگ شروع ہوئی اور شہنشاہ گرتا پڑتا سرکاری ہاتھی پر چڑھا، تو عوام نے لاتعلق رہنے کا اعلان کر دیا۔ لوگ کہتے تھے کہ ہمارے لیے بہادر شاہ ظفر یا الیگزینڈر وکٹوریا دونوں برابر ہیں۔
دوسری جانب مجاہدین جذبے سے سرشار تھے، لیکن ان کے پاس قیادت نہیں تھی۔ بہادر شاہ ظفر ذہنی طور پر انگریزوں سے جنگ لڑنا بھی نہیں چاہتا تھا، مگر اس کے باوجود اپنا اقتدار بھی بچانا چاہتا تھا۔ چنانچہ اس جنگ کا وہی نتیجہ نکلا جو خوف کے سائے میں مبتلا ہو کر لڑی جانے والی جنگوں کا نکلتا ہے۔ حکمران خاندان کو دہلی میں قتل کر دیا گیا، جب کہ بچ جانے والے شاہی خاندان کے افراد کو جلاوطن کر دیا گیا۔
انہی جلاوطن کیے جانے والوں میں بہادر شاہ ظفر بھی شامل تھا، جسے کیپٹن نیلسن ڈیوس کے گیراج میں قید رکھا گیا اور وہ وہیں اس گھر کے احاطے میں دفن ہوئے۔ ان کی اولاد آج تک اپنی عظمت رفتہ کا “بوجھ” اٹھائے رنگون کی گلیوں میں بھٹکتی پھر رہی ہے۔
یہ لوگ شہر میں نکلتے ہیں تو ان کے چہروں پر صاف لکھا ہوتا ہے کہ جو حکمراں اپنی ریاست اور عوام کے دیے ہوئے مینڈیٹ کی حفاظت نہیں کرتے، جو عوام کا اعتماد کھو بیٹھتے ہیں، ان کی اولادیں اسی طرح گلیوں میں خوار ہوتی ہیں۔ یہ عبرت کا کشکول بن کر اسی طرح تاریخ کے چوک میں بھیک مانگتی ہیں، لیکن نجانے کیوں ہمارے حکمرانوں کو یہ حقیقت سمجھ نہیں آتی۔ یہ خود کو بہادر شاہ ظفر سے بھی بڑا حکمراں سمجھتے ہیں۔



