تحریر: سعدیہ نارو
۱۸ جولائی ۲۰۲۵
میں نے جون ۲۰۲۲ میں اتفاقاً ٹریکنگ شروع کی تھی۔ تب میں نے شاید ٹریکنگ کا لفظ بھی پہلی مرتبہ سنا تھا۔ ایک شام عامر مغل کا فون آیا کہ وہ اور ان کی ایک خاتون ساتھی میرنجانی اور ڈگری بنگلہ ٹریک کے لیے جا رہے ہیں اگر میں چاہوں تو ان کے ساتھ شامل ہو سکتی ہوں۔ میں نے بنا تفصیل جانے ان کے ساتھ چلنے کی ہامی بھر لی۔ اس پہلے ٹریک کے بعد زندگی کا ایک نیا باب کھل گیا اور میں ہر سال کے آغاز پر جون کا انتظار کرنے لگتی کہ کب پہاڑوں پر برف پگھلے گی، راستے کھلیں گے اور میں ایک نئے سفر کے لیے نکلوں گی۔ آہستہ آہستہ ٹریکنگ کی سمجھ بوجھ آنے لگی اور اس سے وابستہ لوگوں سے شناسائی ہونے لگی۔ تبھی کچھ لوگوں سے کے ٹو بیس کیمپ اور جی جی لا کے بارے میں سنا تو دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ مجھے بھی وہاں جانا ہے۔ تب وہ ایک دیوانے کا خواب تھا کیونکہ اس وقت نہ کوئی ساتھی تھا نہ مالی وسائل تھے اور نہ جسمانی فٹنس تھی۔

آنے والے تین سالوں میں کچھ پہاڑ چڑھے اور چند جھیلوں سے آنکھوں کو سیراب کیا۔ دورانِ سفر جب کوئی ساتھی ٹریکر اپنے کے ٹو ٹریک کے متعلق بتاتا تو میرا دل بھی مچلنے لگتا تھا۔ تین سال کے ٹو بیس کیمپ کی خواہش دل ہی دل میں پھلتی پھولتی رہی۔ لگن سچی ہو تو وسیلے بھی بن جاتے ہیں اور راستے بھی کھل جاتے ہیں۔ نومبر ۲۰۲۴ میں کے ٹو بیس کیمپ ٹریک اور جی جی لا کے لیے میرا ارادہ پکا ہو چکا تھا۔ جب جنوری ۲۰۲۵ میں مختلف کمپنیوں نے کے ٹو ٹریک کے لیے اپنے اپنے پیکجز کا اعلان کیا تو میں نے احسن تسنیم اور ڈاکٹر اسماعیل رامے سے رابطہ کیا۔ ان دونوں حضرات نے الگ الگ سالوں میں ایک ہی کمپنی کے ساتھ کے ٹو ٹریک کیا تھا۔ میں نے ان کی فراہم کردہ معلومات کی روشنی میں اس ٹور کمپنی سے رابطہ کیا۔ میں ڈاکٹر رامے کی بے حد ممنون ہوں جنہوں نے مجھے بعد میں Ascender Adventures کا بتایا اور سعدیہ قریشی سے میرا رابطہ کروایا۔ سعدیہ نے سال پہلے اس کمپنی کے ساتھ کے ٹو ٹریک کیا تھا۔ جب میری ان سے بات چیت ہوئی تو انھوں نے مجھے سفر اور سامان سے متعلق نہایت کار آمد معلومات فراہم کیں۔ میرے نئے سفر کی تیاری میں یہ تینوں افراد بہت معاون ثابت ہوئے اور میں ہمیشہ ان کی شکرگزار رہوں گی۔

اگلا مرحلہ Ascender Adventures سے رابطہ کرنا اور ان سے معاملات طے کرنا تھا۔ اس کمپنی کے سی ای او عمیر حسن سے میری گھنٹہ بھر تفصیلی بات چیت ہوئی اور انھوں نے میرے تمام سوالات کے نہایت تسلی بخش جوابات دئیے۔ اس گفتگو کے اختتام پر میں فیصلہ کر چکی تھی کہ مجھے اپنی زندگی کا یہ پہلا بڑا ٹریک صرف اس کمپنی کے ساتھ ہی کرنا ہے۔ ٹریکنگ سے متعلق کافی سامان میرے پاس پہلے سے موجود تھا باقی میں نے آہستہ آہستہ حسبِ گنجائش خرید لیا۔ گھریلو زمہ داریوں کو نبھاتے اور ٹریک کے خواب کو جاگتی آنکھوں سے دیکھتے چھ ماہ گزر گئے۔ جون کا مہینہ میرے لیے کڑا اور تکلیف دہ ثابت ہوا۔ عید الاضحیٰ پر میرے گھر میں چوری ہو گئی جو کہ میرے لیے ایک بڑا دھچکا تھا۔ ابھی اس صدمے سے سنبھل نہیں پائی تھی کہ ہم بہنوں میں رنجش اور ناراضگی نے جنم لے لیا۔ ایک ہی وقت میں گھر اور باہر دو مہاذ کھل گئے۔ زندگی اسی کا نام ہے۔ ہمت اور صبر سے سب معاملات سلجھائے کیونکہ مجھے صاف دل اور کھلے ذہن کے ساتھ اپنی زندگی کے یادگار سفر کا آغاز کرنا تھا۔


جولائی کا مہینہ شروع ہوا تو جیسے وقت کو پر لگ گئے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ جانے کا وقت قریب آ رہا تھا۔ مجھے جانے سے پہلے بہت سے انتظامات کرنے تھے کہ میرے بعد میری فیملی کو کسی مشکل اور تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ آخری ہفتے میں گھر کی تفصیلی صفائی اور کپڑوں کی دھلائی کر دی۔ سودے سلف سے کچن کیبنٹ بھر دئیے۔ کچھ کھانے بنا کر فریج اور کچھ فریزر میں رکھ دئیے۔ چھوٹے بڑے تمام کام نمپٹا لیے تو اپنی پیکنگ شروع کر دی۔ تمام کام دنوں میں تقسیم کر لیے تھے تو سب وقت پر احسن طریقے سے انجام پا گئے۔ پھر وہ دن بھی آ گیا جب مجھے اپنے والدین سے ملنے جانا تھا۔ امی میرا ماتھا چوم رہی تھیں اور میں انہیں سرگوشی میں کہہ رہی تھی خُدا را میری واپسی تک آپ دونوں ٹھیک اور سلامت رہیے گا۔ والدین اور اولاد میری کمزوری بھی ہیں اور طاقت بھی اس لیے دل و دماغ کسی وقت بھی ان کی فکر سے آزاد نہیں ہوتا ہے۔

۱۷ جولائی کو ملک بھر میں موسم ابر آلود تھا۔ سکردو جانے والی فلائٹس منسوخ ہو رہی تھیں جس کی وجہ سے تمام گروپ میمبرز فکرمند تھے۔ سکردو ائیر پورٹ بادلوں میں گھرا ہوا تھا اور جہازوں کو اُترنے میں دشواری کا سامنا تھا۔ پریشان گروپ میمبرز واٹس ایپ گروپ میں بائے روڈ سفر کے متعلق اپنی اپنی رائے دے رہے تھے۔ صورتحال خراب تھی لیکن میرے دل کو عجیب سا اطمینان تھا کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اچھے کی اُمید نے میرا حوصلہ بلند رکھا اور پھر ملک بھر میں موسم صاف ہو گیا۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد سے جہاز سکردو ائیر پورٹ پر بحفاظت اُترنے لگے۔ موسم کی خرابی کے باعث میری فلائیٹ کا وقت صبح ۱۰بجے سے بدل کا ۱۲:۵۰کر دیا گیا تھا جو میرے حق میں بہتر ثابت ہوا۔

۱۸ جولائی کی صبح دس بجے میں ائیر پورٹ پر تھی اور میرے میاں اور دونوں بچے مجھے رخصت کرنے آئے تھے۔ میرے میاں نے دفتر سے پندرہ دن کی سالانہ چھٹی لے لی تھی تاکہ میری عدم موجودگی میں وہ گھر پر رہ سکیں۔ بچوں سے گلے ملتے ان کو سو نصحتیں کیں اور تسلی دی کہ وہ بےفکر رہیں میں خیریت سے واپس لوٹوں گی۔ ائیر پورٹ پر میرے گروپ کے پانچ ساتھی اور بھی تھے۔ ائیر پورٹ پر تمام کام بخوبی سر انجام پائے اور جہاز نے اپنے مقررہ وقت پر اُڑان بھری۔ یوں میرے خوابوں کا سفر شروع ہو گیا۔
میں پہلی دفعہ اس شہر جا رہی تھا جس کا ذکر میں نے سینکڑوں بار سنا تھا۔ جیسے ہی جہاز نے زمین چھوڑی میری تمام فکریں اور پریشانیاں مدھم پڑنے لگیں۔ میں جہاز کی دائیں قطار میں کھڑکی والی سیٹ پر بیٹھی تھی۔ نانگا پربت کو دیکھنے کے لیے میں نے اس سیٹ کا انتخاب ٹکٹ خریدتے ہوئے خاص طور پر کیا تھا۔ موسم بہت اچھا تھا اور ہمارا جہاز تیس ہزار فٹ کی بلندی پر ۸۵۰ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے محوِ پرواز تھا۔ کھڑکی سے باہر کے نظارے اس قدر دلفریب تھے کہ میری نظریں ان سے ہٹ ہی نہیں رہی تھیں۔ اوپر نیلا آسمان اور جہاز کے نیچے روئی کے گالوں جیسے بادل حدِ نگاہ تک پھیلے ہوئے تھے۔ قدرت کے نظاروں کو تکتے تکتے سفر اختتام پذیر ہو گیا اور ہمارا جہاز سکردو کے چھوٹے سے ائیر پورٹ پر بحفاظت اُتر گیا۔ ہم سب ساتھیوں نے ایک وین کروائی اور سمٹ ہوٹل کی جانب روانہ ہو گئے۔ وین کی کھڑکی کے پار بھاگتی دوڑتی زندگی تھی جسے میں خاموشی سے جذب کر رہی تھی۔ ساڑھے تین بجے ہم اپنی منزل سمٹ ہوٹل پہنچ گئے جہاں ہمارے ٹھہرنے کا انتظام کیا گیا تھا۔ وہاں عمیر حسن نے ہم سب کو خوش آمدید کہا۔ فریش ہونے کے بعد میں اور میرے چار ساتھی کچھ کام نمپٹانے اور سکردو گھومنے نکل پڑے۔
جاری ہے ۔۔۔



