عابد حسین قریشی
کسی دوست نے کل صبح یہ خوبصورت جملہ شیئر کیا کہ” کہ کم آرزو والے انسان زندگی میں مطمئن رہتے ہیں۔ ” اس جملہ کی گہرائی میں جا کر غور کیا تو عیاں ہوا کہ زندگی کی کتنی بڑی حقیقت ایک سادہ سے جملے میں بیان کر دی گئی ہے۔ یہ روز مرہ کا مشاہدہ ہے، کہ آپ اپنی آرزوئیں اور خواہشات کو بڑھاتے جائیں،آپ کے اندر ایک اضطراب انگیز صورتحال پیدا ہوگی۔ دل میں خواہشات کا ایک انبار انگڑائیاں لینے شروع ہو جائے گا۔ دلوں کا قرار تو خواہشات کو محدود رکھنے، قناعت اور صبر ،شکر کرنے میں ہے۔ ہم اسے مال و زر کی فراوانی، بڑے بڑے گھروں، جدید ماڈل کی گاڑیوں اور بیش قیمت جیولری، سیل فون اور اس طرح کی اشیائے تعیش میں ڈھونڈتے ہیں۔ اگر یہ سب کچھ وجہ اطمینان و سکون ہوتا تو امیر اور صاحب ثروت اطمینان ڈھونڈنے کے لئے خواب آور گولیاں استعمال نہ کرتے۔ ہمارے ملک میں لوگ ویسے ہی بے چین رہتے ہیں۔ انکے پاس اللہ تعالٰی کی ہر نعمت ہوگی سوائے قناعت اور شکر کے۔ اس آرزو اور خواہشات کی دوڑ میں ہم نے اپنا سکون، ذہنی اطمینان سب کچھ گنوا دیا ہے۔ کہتے ہیں خوش نصیب وہ ہے، جو اپنے نصیب سے خوش ہے۔ آپکے پاس پانچ ہزار روپے ہیں، تو انکو خرچ کرنے کی بجائے آپ سوچتے ہیں کہ جب دس ہزار ہوں گے تو خرچ کریں گے، تو آپ نے وہ لذت، وہ مزا، وہ راحت اور وہ چاشنی گنوا دی جو ان پانچ ہزار روپے خرچ کرنے میں ملنا تھی۔ جو جتنی آرزوئیں، تمنائیں اور خواہشات دراز کرتا ہے، وہ دلوں کے قرار، جسمانی وقار، سوچوں کی بہار، باہمی محبت و پیار، اور فطرت کے اسرار سے محروم ہوتا چلا جاتا ہے۔ معاشرہ میں ایک غیر صحت مندانہ مقابلہ بازی ہے۔ فلاں کے پاس فلاں چیز ہے، تو ہم نے بھی وہ حاصل کرنی ہے، خواہ اس میں عزت و آبرو ہی نیلام ہو جائے۔ آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو یہ منظر بڑا درد ناک ہوتا ہے، کہ ہم سے زیادہ خوبصورت، زیادہ ذہین و فطین لوگ دو وقت کی روٹی کمانے کے چکر میں سڑکوں پر خوار ہو رہے ہوتے ہیں۔بے شمار نوجوان اچھے اداروں سے پڑھنے کے باوجود کوئی ڈھنگ کا کام نہیں کر پاتے، تو وہ لوگ جن پر قدرت مہربان ہے، خوشحالی ہے، فکر روزگار نہیں، انہیں تو صرف ہمہ وقت سجدہ ریز ہو کر اللہ تعالٰی کا شکر گزار ہونا چاہیئے۔ کہ اس نے کس قدر اپنی رحمتوں کی بارش کر رکھی ہے۔ اللہ کی کتاب بھی تو انسان کے بارے میں یہی کہتی ہے، کہ انسان ناشکرا بھی ہے، جلد باز بھی، تھڑ دلا بھی اور حریص بھی ہے۔ ان سب باتوں سے بچنے کا طریقہ صرف اپنی خواہشات کو محدود کرنے، اپنی آرزوؤں کو کم کرنے، قناعت اور صبر پیدا کرنے اور جو کچھ اللہ تعالٰی نے عطا فرمایا ہے، اس پر شکر ادا کرنے میں ہے۔ لوگ شکر سے عمومی طور پر مراد زبان سے شکر ادا کرنے کا لیتےبیں، یہ بھی ٹیھک ہے، مگر اصل شکر مخلوق خدا کو ان نعمتوں میں شامل کرنا ہے، جو اللہ تعالٰی نے آپکو عطا کر رکھی ہیں، اور دوسروں کو اس سے محروم رکھا ہے۔ جس دن انسان کی سوچ اس لیول پر پہنچ گئی، اسکے سارے دکھ دور ہوگئے اور اسے اطمینان قلب کی لازوال دولت مل گئی ، اطمینان قلب اللہ کے ذکر کے ساتھ اسکی مخلوق کی فکر میں پنہاں ہے اور جسے اطمینان قلب مل گیا، وہ دنیا و آخرت میں سرخرو ہو گیا۔



