ٹیسلا کوائل کا نام تو بہت سے دوستوں نے سن رکھا ھوگا۔
مشہور برقی سائنسدان نیکولا ٹیسلا نے اپنے وقت میں اس کا خواب دیکھا تھا اور اس پر کام بھی کیا تھا، لیکن ٹیکنالوجی اور مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے وہ اپنے خواب کو عملی جامہ نہیں پہنا سکے۔ ان کا نظریہ تھا کہ زمینی فضا کو ایک کنڈکٹر کے طور پر استعمال کیا جائے اور فضا میں ہائی فریکوینسی لہروں کے ذریعے بجلی بھیجی جائے۔
انکا یہ کانسیپٹ ” ٹیسلا کوائل” کہلاتا ھے۔
انکے کام بارے کچھ معلومات کے مطابق یہ بتایا جاتا ھے کہ 1899 میں انہوں نے 200 بلبوں کو 40 کلو میٹر دوری سے بغیر تاروں کے بجلی مہیاء کر کے چلایا تھا۔
یہ تو ایک حقیقت ھے کہ!
تاروں کے بغیر بجلی کی ترسیل ممکن ھے۔۔۔ اور آج کل محدود پیمانے پر ہم اسے ستعمال بھی کر رھے ہیں۔
آپ نے دیکھا ہوگا کہ آپ کے موبائل فونز، سمارٹ واچز اور کچھ دیگر الیکٹرانک ڈیوائسز کو چارج کرنے کے لیے وائرلیس چارجنگ پیڈز استعمال ہوتے ہیں۔ یہ “انڈکٹیو کپلنگ” (inductive coupling) کے اصول پر کام کرتے ہیں، جہاں قریب پڑی ہوئی ایک کوائل (coil) ایک مقناطیسی فیلڈ پیدا کرتی ہے اور اس کے ذریعے دوسرے کوائل میں بجلی منتقل ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ مائیکرو ویو شعاعوں (microwave beams) کا استعمال کر کے بھی بجلی ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجی جا سکتی ہے۔ یہ طریقہ کار خلا میں مصنوعی سیاروں کو بجلی فراہم کرنے کے لیے ابھی تحقیق کے مراحل میں ھے۔
اب اگلا مرحلہ اور یہ سوال ۔۔۔ کیا بڑے پیمانے اور زیادہ فاصلے پر بجلی کی بغیر تاروں ترسیل ممکن ھے یا نہیں؟
نیوزی لینڈ میں وائرلیس بجلی کی ترسیل کے حوالے سے بہت اہم تجربات ہوئے ہیں۔ ایک نیوزی لینڈ کی کمپنی Emrod اس ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہے۔
ایمروڈ نے نیوزی لینڈ کی دوسری سب سے بڑی بجلی تقسیم کرنے والی کمپنی Powerco کے ساتھ شراکت داری کی ہے تاکہ اس ٹیکنالوجی کی جانچ کی جا سکے۔
ایمروڈ (Emrod) نے ایک ایسا نظام تیار کیا ہے جو بجلی کو تاروں کے بغیر ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیج سکتا ہے۔ یہ نظام مائیکرو ویو شعاعوں (Microwave Beams) کو استعمال کرتا ہے
اس نظام کے مین اجزاء اور انکا کام کرنے کا طریقہ کار کچھ یوں ھے۔
ٹرانسمٹنگ انٹینا (Transmitting Antenna):
ایک انٹینا بجلی کو مائیکرو ویو کی توانائی میں تبدیل کرتا ہے۔
مائیکرو ویو بیم (Microwave Beam):
یہ بیم ایک سیدھی لائن میں (line of sight) سفر کرتی ہے۔ یہ توانائی کو بہت کم نقصان کے ساتھ ایک پوائنٹ سے دوسرے پوائنٹ تک منتقل کرتی ہے۔
رسیونگ انٹینا (Receiving Antenna):
دوسرے سرے پر ایک خاص رسیور ہوتا ہے جو ان مائیکرو ویو شعاعوں کو دوبارہ بجلی میں تبدیل کر دیتا ہے۔
ابھی تک اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے ایمروڈ نے کامیابی سے انڈور (indoor) ماحول میں چھوٹے پیمانے پر وائرلیس بجلی منتقل کرنے کا مظاہرہ کیا ہے۔
لیکن ۔۔۔ وسیع پیمانے اور لمبے فاصلوں کیلئے فی الوقت ریسرچ اور ڈویلپمنٹ پر کام جاری ھے۔ اور ابھی تک کی ڈویلپمنٹس کے مطابق بڑے پیمانے پر اور زیادہ فاصلوں جیسے ایک شہر سے دوسرے شہر یا ایک ملک سے دوسرے ملک، وائرلیس بجلی کی ترسیل کرنا ابھی تک عملی طور پر ممکن نہیں ھے۔
اس کی چند بڑی وجوہات ہیں
۔ وائرلیس بجلی کی ترسیل میں زیادہ فاصلے پر بہت زیادہ توانائی ضائع ہو جاتی ہے۔
۔ مائیکرو ویو کی زیادہ طاقت والی شعاعیں یا ہائی فریکوینسی والی مقناطیسی فیلڈز انسانوں اور ماحول کے لیے خطرناک ہو سکتی ہیں۔
۔ اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر لاگو کرنا بہت مہنگا ہے۔
ان ساری معلومات کی بنیاد پر ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ ۔۔۔ ابھی تک ہوئی ریسرچ اور ڈویلپمنٹ کی بنیاد پر مستقبل میں شاید ہم وائرلیس ٹیکنالوجی کو چھوٹے پیمانے پر کچھ زیادہ استعمال کریں گے، جیسے وائرلیس چارجنگ کا دائرہ کار بڑھانا وغیرہ۔
لیکن ۔۔۔ بڑے پیمانے پر ہائی وولٹیج کی ترسیل کے لیے روایتی تاروں کا نظام ہی آنے والے وقت میں بھی غالب رہے گا۔ تاہم، اس میدان میں مسلسل تحقیق ہو رہی ہے اور ہوسکتا ہے کہ مستقبل میں کوئی ایسا breakthrough ہو جو اس صورتحال کو بدل دے۔
امید ھے کہ ۔۔۔ حسب سابق آپکو یہ مضمون بھی پسند آیا ھو گا اور آپ اسے یقیناً شئیر کرنا پسند کریں گے۔
سلامت رہیں!



