راولپنڈی اسلام آباد کی مشہور سوسائٹیاں اور ان کے اثراتِ موسمی بارشیں

مون سون کی تباہ کاریاں: بحریہ ٹاؤن، ڈی ایچ اے اور دیگر ہاؤسنگ سوسائٹیاں عوام کے لیے وبال جان کیوں بن گئیں؟

ہر سال مون سون کا موسم پاکستان کے لیے خوشیوں اور مصیبتوں کا امتزاج لے کر آتا ہے۔ جہاں ایک طرف یہ بارشیں زراعت کے لیے نعمت ثابت ہوتی ہیں، وہیں دوسری جانب شہری علاقوں میں یہ مصیبت کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ حالیہ مون سون بارشوں نے راولپنڈی اور اسلام آباد کی کئی جدید اور پوش ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا پول کھول دیا ہے۔ بحریہ ٹاؤن، ڈی ایچ اے، گولڑہ، گلبرگ، اور دیگر معروف علاقوں میں ہونے والی شدید بارشوں نے اربوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے منصوبوں کی حقیقت واضح کر دی۔

ماڈرن سوسائٹیاں یا ماحولیاتی بم؟

بحریہ ٹاؤن اور ڈی ایچ اے جیسے منصوبے بظاہر ایک پرتعیش طرزِ زندگی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ صاف ستھری سڑکیں، سبزہ زار، جدید انفراسٹرکچر، اور اعلیٰ معیار کی رہائش گاہیں—یہ سب کچھ عوام کو لبھانے کے لیے دکھایا جاتا ہے۔ لیکن حالیہ بارشوں نے ان خوابوں کے پیچھے چھپی ایک تلخ حقیقت کو عیاں کر دیا ہے۔ شدید بارش کے نتیجے میں ان علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہو گیا، سڑکیں دریا بن گئیں، اور کئی قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو گئیں۔

نالوں کی کٹائی اور قدرتی راستوں کی بندش: تباہی کا آغاز

بہت سی ہاؤسنگ سوسائٹیاں، جن میں بحریہ ٹاؤن اور ڈی ایچ اے بھی شامل ہیں، قدرتی نالوں اور برساتی پانی کے راستوں کو کاٹ کر تعمیر کی گئی ہیں۔ ان علاقوں میں نکاسیٔ آب کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں، یا اگر ہے بھی تو وہ انتہائی ناقص ہے۔ جب بارش ہوتی ہے، تو برساتی پانی کے لیے کوئی قدرتی یا مصنوعی راستہ باقی نہیں رہتا، نتیجتاً یہ پانی گھروں میں داخل ہو جاتا ہے اور جان و مال کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔

جانی نقصان اور حکومتی غفلت

رواں برس مون سون میں ہونے والے حادثات میں کئی افراد جاں بحق ہوئے۔ کچھ پانی میں بہہ گئے، تو کچھ کرنٹ لگنے سے زندگی کی بازی ہار گئے۔ ان افسوسناک واقعات کے باوجود، متعلقہ ادارے اور سوسائٹی انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ اربوں روپے کی سرمایہ کاری کے باوجود نہ کوئی موثر ایمرجنسی پلان موجود ہے اور نہ ہی عوام کی حفاظت کے لیے کوئی فعال نظام۔

احتساب کون کرے گا؟

یہ سوال ہر متاثرہ شہری کے ذہن میں گونج رہا ہے:
کیا کوئی ان سوسائٹیوں سے پوچھے گا کہ نکاسی کا نظام کیوں نہیں تھا؟
کیا عوام کو صرف اشتہارات اور ماڈل ہاؤسز دکھا کر دھوکہ دینا کافی ہے؟
کیا اربوں روپے کی سرمایہ کاری کرنے والے شہری صرف اس لیے ہیں کہ ان کی زندگیوں سے کھیلا جائے؟

حل کی تلاش اور عوامی بیداری

اگر ہم مستقبل میں ایسی تباہ کاریوں سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں چند بنیادی اقدامات کرنے ہوں گے:

  • ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی تعمیر سے پہلے ماحولیاتی جائزہ لازم قرار دیا جائے۔
  • تمام نئی اور پرانی سوسائٹیوں میں نکاسیٔ آب کا سائنسی اور عملی نظام بنایا جائے۔
  • سرکاری اور نجی اداروں کے مابین بہتر ہم آہنگی قائم کی جائے تاکہ ایمرجنسی میں فوری کارروائی ممکن ہو۔
  • متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد اور معاوضہ فراہم کیا جائے۔
  • عوام میں شعور بیدار کیا جائے کہ وہ صرف ظاہری چمک دمک کو نہ دیکھیں بلکہ انفراسٹرکچر کی بنیادوں کو پرکھیں۔

راولپنڈی اور اسلام آباد کی ہاؤسنگ سوسائٹیاں، جو کل تک خوابوں کی تعبیر سمجھی جاتی تھیں، آج عوام کے لیے ایک بھیانک خواب بن چکی ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم سوال کریں، آواز بلند کریں، اور تبدیلی کے لیے متحد ہوں۔ بصورتِ دیگر ہر مون سون ایسی ہی تباہی لے کر آتا رہے گا اور ہم صرف تعزیتیں اور افسوس ہی کرتے رہیں گے۔



  تازہ ترین   
آبنائے ہرمز سے خود تیل لائیں، امریکا مدد نہیں کرے گا: ٹرمپ یورپی ممالک پر برس پڑے
اسلام آباد میں تاجر کا قتل افسوسناک واقعہ، گینگ گرفتار کر لیا: طلال چودھری
وزیر خارجہ اسحاق ڈار ایک روزہ دورہ پر چین پہنچ گئے
اسحاق ڈار کا دورہ اہم، ایران سمیت علاقائی امور پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں: چین
ٹرمپ آبنائے ہرمز کے بغیر بھی جنگ ختم کرنے پر آمادہ: امریکی اخبار، عرب ممالک اخراجات دیں: وائٹ ہاؤس
ثالثی پیشکش نیک نیتی پر مبنی، فیصلے فریقین نے خود کرنے ہیں: سفیر پاکستان
اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کا متنازعہ قانون منظور
ایران کے اسرائیل اور امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ویپن سپورٹ تنصیبات پر حملے





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر