پہاڑ کی چوٹی سے شہادت تک: ایک روزہ دار سپاہی کی داستان

باجوڑ کے ایک پہاڑ کی چوٹی پہ کھڑا پاک فوج کا جوان ، 17 رمضان 2017 ،، ایک اندھی گولی جوان کے دائیں کندھے سے ذرا سی نیچے بغل میں لگتی ہے ، جوان کو زبردست جھٹکا لگتا ہے اور درد کی ایک نہ رکنے والی لہر اس کے سارے بدن میں دوڑ جاتی ہے ، گرمی میں روزے کی حالت میں سنائپر شاٹ سے اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگتا ہے ، وہ اپنے ساتھی جوان کو آواز دیتا ہے کہ حملہ ہوا ہے اور مجھے گولی لگی ہے ، ایک دم ہی وھاں موجود پانچ جوان اپنی پوزیشنز لیتے ہیں ، زخمی جوان کو ریسکیو کیا جاتا ہے اور فرسٹ ایڈ دی جاتی ہے ، نستور نے دیکھا کہ زخمی جوان ایک سیکنڈ لیفٹیننٹ ہے جس کی وردی خون سے تر ہے اور خون کسی فوارے کی طرح نکل کر پاک سر زمین کو سیراب کر رہا ہے ، ابتدائی طبی امداد کے بعد زخمی کو پینے کے لئے پانی دیا جاتا ہے جسے وہ روزہ کی وجہ سے پینے سے انکار کر دیتا ہے ، کمانڈر ہونے کے ناطے پہاڑی کی حفاظت کی ذمہ داری بھی اس کی ہے کیونکہ وہ پہاڑی ایک گزرگاہ کے طور پہ استعمال ہوتی ہے اور دہشتگرد ہر قیمت پر اسے حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ آسانی سے اپنے مذموم مقاصد کے لئے اپنے آنے جانے کا راستہ کھلا رکھیں ، زخمی سیکنڈ لیفٹیننٹ اپنے جوانوں کو فوراََ پوزیشنز پر واپس جانے کا حکم دیتا ہے ،
اور خود حالات کا جائزہ لینے کی خاطر قدرے اونچی جگہ پر پہنچنے کے لئے رینگنا شروع کرتا ہے حوالدار صاحب کی نظر جوان پر پڑتی ہے تو وہ بھاگ کر آتا ہے اور کہتا ہے صاحب آپ کا خون بہت بہہ رہا ہے آپ پلیز اوپر جانے کی کوشش نہ کریں ہم سنبھال لیں گے ، افسر مسکراتے ہوئے حولدار صاحب کی طرف دیکھتا ہے اور کہتا ہے آپ مجھے کیوں اس مقام سے محروم کرنا چاہتے ہیں جس کی خواہش میں نے ہر پل ہر لمحہ کی ہے ، آپ اپنی پوزیشن لیں اور جوانوں کا مورال بلند رکھیں ، دہشتگردوں کا ایک جتھہ پیش قدمی شروع کرتا ہے اور ایک محفوظ فاصلے پر رک جاتا ہے ، فوجی جوان اپنی پوزیشنز پر بے تابی سے دشمن کے آگے بڑھنے کا انتظار کر رہے ہیں ، وقت تھم چکا ہے نستور زخمی جوان کو دیکھ رہا ہے جس کی زبان پر مسلسل کلمۂ طیبہ کا ورد جاری ہے ، اس کی آنکھوں میں ایک ٹھاٹیں مارتا سمندر ہے جسے دیکھ کر نستور کا دل بھی دہل جاتا ہے ، پھر نستور نے دیکھا کہ جس پہاڑی پر پاک فوج کے جوان موجود تھے وہاں آگ برسنا شروع ہوگئی دہشتگردوں کی طرف سے راکٹ فائر کئے جانے لگے چند ہی منٹوں میں آگ اور گرد کے طوفان نے چوٹی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ، کچھ جوانوں کو معمولی زخم آئے جو ان کے لئیے روز کی روٹین جیسے تھے ، خاموشی کا ایک لمبا وقفہ آیا اور دہشتگرد یہ سوچ کر کہ پہاڑی کلئر ہے آگے بڑھنا شروع ہوئے ، میرے شیر دلیر جوانوں کو اسی موقع کا انتظار تھا ، نظریں دشمن کی نقل و حرکت اور انگلیاں ٹریگر پر تھیں ، دشمن آہستہ اہستہ آگے بڑھ رہا تھا اور پھر آخر کار طویل انتظار کے بعد دہشتگرد پاک فوج کے جوانوں کی رینج میں آگئے ، زخمی افسر نے جوانوں کو تیار رہنے کا اشارہ کیا اور دشمن کے مذید آگے آنے کا انتظار کرنے لگا ، کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوا اور افسر کا اشارہ ملتے ہی جوانوں کی بندوقیں آگ اگلنے لگیں ، چن چن کر دشمن کو مارا جانے لگا ، دشمن تعداد میں بہت زیادہ تھا لیکن میرے جوانوں کے حوصلے بہت بلند اور پہاڑوں سے ذیادہ مضبوط تھے ، دہشتگردوں کی صفوں میں کھلبلی مچ گئی اور وہ پیٹھ دکھا کے بھاگنے لگے ، افسر نے پیچھا کرنے کا حکم دیا اور دو جوانوں کو چوٹی پر موجود رہنے کا حکم دیا تاکہ وہ کوور فراہم کرسکیں ، اور سب سے پہلے خود زخمی حالت میں پیش قدمی شروع کر دی ، ایک بار پھر حوالدار کی طرف سے افسر کو آرام کرنے کا مشورہ دیا گیا جو افسر کی پیشہ ورانہ غیرت کی وجہ سے مسترد کر دیا گیا دہشتگردوں کا پیچھا کرتے ہوئے کئی خوارج کو جہنم واصل کیا گیا نعرۂ تکبیر اور اللہ اکبر کے نعروں سے باجوڑ کی فضائیں لرز رہی تھیں پاک فوج کے جوان موت بن کر خوارج پر ٹوٹ پڑے تھے، اور انہیں چھپنے کے لئے جگہ نہیں مل رہی تھی ،
اسی اثناء میں نستور نے دیکھا کہ زخمی افسر ایک ٹیلے پر کھڑا ہوگیا اور دشمن کی پوزیشنز کو دیکھ دیکھ کر اپنے جوانوں کو ہدایات دینے لگا ، دشمن کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے ، اتنے میں ایک خوارجی سنائپر کی نظر ایک جوان پر پڑی جس کی چوڑی چھاتی خون سے بھیگی ہوئی تھی اور وہ اونچی آواز میں اپنے جوانوں کو ہدایات دے رہا تھا ، سنائپر خود بھی پھنس چکا تھا اور اپنی جگہ نہیں چھوڑ سکتا تھا ،نستور نے دیکھا کہ سنائپر کی رائفل نے گولی اگلی اور وہ سیدھی سیکنڈ لیفٹیننٹ کے سینے میں لگی زور دار جھٹکا لگا اور جوان اپنے گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گیا گولی کی سمت اور جھٹکے کی وجہ سے اسے سمجھنے میں ایک پل ہی لگا کہ گولی کہاں سے آئی ہے ، وہ زمین پر لیٹ گیا اور چشمِ زدن میں سنائپر کی خفیہ پناہ گاہ ڈھونڈ کر رینگتے ہوئے پیش قدمی شروع کر دی سنائپر کو انداذہ بھی نہیں ہوا کہ جس کی طرف اس نے موت کا پیغام ارسال کیا ہے وہ اب موت بن کے اس کی طرف بڑھ رہا ہے ، ادھر نستور نے دیکھا کہ زخمی افسر روزے کی حالت میں خون سے تر اور بہت زیادہ کمزوری اور تکلیف کے باوجود آہستہ آہستہ جھاڑیوں کی آڑ لیتا آگے بڑھ رہا ہے اس کی طاقت جواب دے رہی ہے اور آگے بڑھنا پہاڑ چڑھنے سے بھی مشکل لگ رہا ہے لیکن اس کے حوصلے اور جنون کے آگے یہ تکالیف کانٹا چھبنے جیسی محسوس ہو رہی ہیں اس کی آنکھوں میں منزل کو پا لینے کا عزم چھلک رہا ہے اور وہ اپنی ارضِ پاک کے دشمن کو صفحہء ہستی سے مٹا دینے کے لئے بے چین ہے ، سنائپر زخمی افسر کی طرف سے مطمئن ہو کے اپنا اگلا شکار ڈھونڈ رہا ہے اور ایک جوان پر اپنا نشانہ لگا رہا ہے کہ اسے اپنی دائیں طرف سے سرسراہٹ محسوس ہوتی ہے لیکن اب وقت گزر چکا ہے اورموت سر پر پہنچ چکی ہے جتنی دیر میں وہ معاملہ کو سمجھا تب تک زخمی شیر ایک ہی جست میں اس کے سر پر پہنچ چکا تھا سنائیپر نے آخری کوشش کرتے ہوئے اپنی رائفل کو لٹھ کی طرح گھمایا اور فوجی جوان کی ٹانگ پر دے ماری جس سے اس کے قدم لڑکھڑا گئے اور اس کی رائفل سے نکلی گولی کسی اور طرف چلی گئی اتنی دیر میں خوارجی سنائیپر اس پر چھلانگ لگا چکا تھا ، لیکن نستور کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے دیکھا کہ زخمی جوان نے خوارجی کتے کو اپنی ٹانگ پر روکا اور ایک ہی لمحے میں اپنا خنجر نکال کے اس کی گردن میں پیوست کر دیا اور جھٹکے سے کتے کا آدھے سے زیادہ گلا کاٹ دیا ، وہ تڑپ رہا رہا تھا اور ذبح کئے پرندے کی طرح پھڑپھڑا رہا تھا ،
نستور نے دیکھا کہ زخمی افسر کی آنکھوں میں اطمینان اور زبان پر پاکستان زندہ باد اور کلمہء طیبہ کا ورد تھا ، اس نے اپنی منزل حاصل کرلی تھی اور کسی فاتح کی طرح اپنی منزل پر پہنچ کر بہت خوش اور مطمئن تھا اس کی آنکھوں میں ایک پرامن اور محفوظ پاکستان کی تصویر تھی ، یہ پاک سرزمین اس کے لہو سے تر تھی اور اسے اپنی آغوش میں لینے کو بےقرار تھی ، پہاڑ کی چوٹی پر لہراتا سبز ہلالی اس کے زخموں سے چور اور خون سے تر بدن سے لپٹنا چاہتا تھا ،
پھر نستور نے دیکھا کہ افسر نے آخری بار پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا اور کلمۂ طیبہ کا ورد کرتا ہوا اپنے پاک وطن پر قربان ہو گیا ،،
میں نے نستور سے پوچھا کہ تم نے عزم و حوصلے کی یہ داستان سنا کے پوری قوم پر احسان کیا ہے تاکہ ہمیں پتہ چل سکے کہ ہماری عیدوں اور محفوظ اور خوش وخرم بنانے کے لئے اس مٹی کے بیٹے کیسی کیسی داستانیں رقم کرتے آتے ہیں اور آئیندہ بھی ایسا ہی کرنے کا عزم رکھتے ہیں ، تو نستور نے بتایا کہ وہ ایسی ان گنت داستانوں کا عینی شاہد ہے اور وعدہ کیا کہ آئیندہ بھی مجھے ایسے سرفروشوں کی کہانیاں سنایا کرے گا۔



  تازہ ترین   
آبنائے ہرمز سے خود تیل لائیں، امریکا مدد نہیں کرے گا: ٹرمپ یورپی ممالک پر برس پڑے
اسلام آباد میں تاجر کا قتل افسوسناک واقعہ، گینگ گرفتار کر لیا: طلال چودھری
وزیر خارجہ اسحاق ڈار ایک روزہ دورہ پر چین پہنچ گئے
اسحاق ڈار کا دورہ اہم، ایران سمیت علاقائی امور پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں: چین
ٹرمپ آبنائے ہرمز کے بغیر بھی جنگ ختم کرنے پر آمادہ: امریکی اخبار، عرب ممالک اخراجات دیں: وائٹ ہاؤس
ثالثی پیشکش نیک نیتی پر مبنی، فیصلے فریقین نے خود کرنے ہیں: سفیر پاکستان
اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کا متنازعہ قانون منظور
ایران کے اسرائیل اور امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ویپن سپورٹ تنصیبات پر حملے





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر