کیا یہاں ایمان بھی بکتا ہے؟

تحریر: ڈاکٹر عنبرین اشرف

”حاجی صاحب! یہ مسنون دعاؤں کی کتاب بھی لے لیں۔ جو بھی لے کر گیا ہے بڑی تعریف کرتا ہے۔ کہتا ہے ہر موقع کی دیا ہے اس میں۔“

”میں حاجی صاحب نہیں ہوں۔ زندگی میں پہلی مرتبہ تو یہ سعادت نصیب ہو رہی ہے۔ پروردگار قبول فرمائے۔“
”بھائی صاحب پھر بھی۔“
”اچھا یہ باتیں چھوڑو یہ عطر کی شیشی بھی دے دو۔“
” اسے چھوڑیں جناب آپ یہ والا دیکھیں۔ یہ تو روضہ رسول کی خاص خوشبو دیتا ہے۔“
”چلو یہی دے دو اور بل بنا دو۔“

”جناب یہ رہا بل۔ سوہنے رب کے سوہنے گھر میں میرے کاروبار میں برکت کے لئے دعا کرنا۔ ہماری دکان پر حج اور عمرے کا سارا سامان ملتا ہے۔“

”تو کیا یہاں ایمان بھی بکتا ہے؟!“

جی باں۔ پاکستان میں جا بجا ایسی دکانیں ملیں گی جہاں حج اور عمرے کا سارا سامان ملتا ہے۔ لیکن وہ ایمان کی حلاوٹ، وہ یقین کا خزانہ، وہ توکل کی بارش، وہ عبدیت کا جذبہ یہ سب دکانوں میں نہیں بکتا۔ اس کے لئے خود ریاضت کرنی پڑتی ہے۔ خود کی میں کو مارنا پڑتا ہے۔ ہمارا ملک پاکستان، جہاں نظر دوڑائیں مدینہ ملک شاپ، مکہ نان شاپ، مدنی ٹرانسپورٹ، اللہ والے الیکٹرانکس ملیں گے۔ لیکن مدینہ ملک شاپ پر خالص دودھ میسر نہیں۔ مکہ نان شاپ پر خالص آٹے کی پوری مقدار والی روٹی ندارد۔

حج پر جانا، نماز روزہ کی پابندی تو مذہب کا ڈسپلن سکھاتی ہے۔ اس کو ادا کرنا ضروری ہے۔ لیکن روح عبادت کو سمجھنے سے انسان معراج کو پاتا ہے۔

حضرت نظام الدین اولیاء فرماتے ہیں کہ اجودھن کے قریب ایک ملا صاحب رہتے تھے جنہیں اپنے ظاہری عملیت کے قصے سناتے۔ جنہیں آپ بے حد دلچسپی سے سنتے۔ اکثر لوگ شیخ کے احترام میں خاموش رہتے لیکن دل ہی دل میں ملا صاحب کا مغرور رویہ اچھا نہ لگتا۔ ایک دن دوران گفتگو مولانا صاحب سے ارکان اسلام پر استفسار کیا تو مولانا صاحب بولے :

”آپ نہیں جانتے؟ اس کا جواب تو کوئی عام مسلمان بھی دے سکتا ہے۔ ارکان اسلام توحید، نماز، روزہ، حج اور زکو‏ۃ ہیں“ بابا فرید نے مسکرا کر جواب دیا کہ ”میرے خیال میں تو روٹی اسلام کا ایک چھٹا رکن ہے۔“ مولانا صاحب طیش میں آ گئے اور بولے آپ نے بالکل غلط سنا ہے۔ اطمینان کامل چہرے پر سجائے بابا فرید نے کہا : ”لیکن میں نے ایک معتبر اہل علم سے سنا ہے۔“ یہ سن کر وہ مولانا صاحب غصے میں قرآن کی آیت پڑھ کر باہر آ گئے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ”نصیحت کرنے کے بعد ظالم قوم کے پاس مت بیٹھو“ ۔

شیخ نے شفقت سے ان کا باتھ تھام کر کہا کہ ”اختلاف رائے اپنی جگہ لیکن آپ یوں نہ جائیں۔“ لیکن مولانا صاحب عالم طیش میں وہاں سے نکلے اور یوں ہوا کہ اسی عرصے میں مولانا صاحب کو حج پر جانا پڑا۔ حج کی سعادت حاصل کی، سات سال ان کا قیام سرزمین حجاز میں رہا۔ واپسی کا ارادہ کیا اور وطن واپس روانہ ہو گئے۔ خدا کی کرنی یہ ہوئی کہ سمندر میں طوفان آ گیا اور مولانا صاحب ایک تختے پر تیرتے ہوئے ایک جزیرے تک جا پہنچے۔

جزیرہ بھی ایسا کہ نہ درخت نہ پانی، نہ بشر اور نہ ہی کوئی آشنا۔ آپ تین دن بھوکے پیاسے ایک غار میں خدا سے راز و نیاز کرتے رہے۔ آہ و زاری کرتے کچھ وقت بیتا تو ایک آواز سنی ”روٹی خرید لو“ مولانا سے اسے پاس بلایا اور اپنی داستان غم اس کے گوش گزار کی۔ وہ بولا: میرے پاس روٹی بھی ہے اور پانی بھی۔ لیکن کچھ بھی مفت نہیں ہے۔ اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

مولانا صاحب نے کہا: ”میرے پاس تو پیسے نہیں ہیں۔“ مولانا صاحب نے استفسار کیا کہ کیا تم مسلمان ہو؟ وہ بولا باں میں مسلمان ہوں۔ یہ سنتے ہی آپ نے اسے بھوکے کو کھانا کھلانے کے متعلق اسلامی تعلیمات کی روایات سنانا شروع کر دیں۔ وہ بولا میں بھوکے کو روٹی کھلانے کے ثواب سے واقف ہوں لیکن خدا نے رزق حلال کمانے کا بھی حکم دیا ہے۔ مولانا صاحب نے اسے اپنی عبادات کا ذکر کیا اور چاہا کہ وہ ہمدردی کا معاملہ کرے۔ لیکن وہ مرعوب نہ ہوا۔

آخر کار وہ بولا: ”جناب اگر آپ اپنی کچھ عبادت مجھے دے دیں تو بدلے میں آپ کو کھانا مل جائے گا۔ اگر آپ اپنے سات حج کا ثواب مجھے دے دیں تو میں آپ کو روٹی دے دوں گا۔ مولانا صاحب نے سوچا کا زبانی ثواب سے کیا ہو گا۔ لہذا آپ نے بولا تمہیں اپنے سات حج کا ثواب دیتا ہوں۔ یہ سن کو اس نے ایک روٹی اسے دی اور چلتے بنے۔

روٹی کھا کر مولانا نے پوچھا کہ تم کہاں سے ہو۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا اور چلا گیا۔ تین دن گزر گئے اور ملا کو پھر بھوک لگ گئی۔ وہ شخص پھر نمودار ہوا اور ملا کے روزوں کے ثواب کے بدلے روٹی دے کر چلا گیا۔ تین دن بعد ساری نمازوں کا ثواب بھی ایک روٹی کے بدلے چلا گیا۔ تین دن کی بھوک جمع ہوئی تو وہ شخص پھر نمودار ہوا۔ اب کی بار مولانا نے روتے ہوئے کہا کہ اب تو میرے پاس دینے کو کچھ نہیں بچا۔ اس شخص نے کہا : آپ بس مجھے اپنا ثواب تحریری طور پر لکھ دیں۔

آپ نے ایک روٹی کے بدلے اپنے سب نیک اعمال کا ثواب اس فقیر کو لکھ دیا۔ روٹی کھائی اور جب وہ شخص جانے لگا تو اس شخص کے پیچھے ہو لئے تاکہ اس کے راز سے آگاہ ہو سکیں۔ کچھ دور اس کا پیچھا کیا لیکن وہ شخص اچانک غائب ہو گیا۔ اچانک ملا کی نظر ایک بحری جہاز پر پڑی۔ آپ نے اپنا کرتا ہوا میں لہرایا اور وہ جہاز آپ کی مدد کے لئے پہنچا۔ اور یوں مولانا صاحب واپس ہندوستان پہنچ گئے۔

ہندوستان پہنچ کر ایک دن بابا فرید کی خانقاہ پر پہنچے۔ شیخ نے پوچھا کیوں مولانا اتنے دن بعد آئے؟ ملا نے جواب دیا۔ یہاں ہوتا تو آتا۔ میں سات سال مکہ اور مدینہ میں رہ کر آیا ہوں۔ شیخ نے کہا آپ تو بہت خوش قسمت ہیں۔ اب تو آپ ہم سے ناراض نہیں ہیں؟ سات سال پہلے آپ ایک چھوٹی سی بات پر ناراض ہو کر چلے گئے تھے۔ ملا بابا فرید کی عاجزی دیکھ کر مزید مغرور ہو گیا اور بولا مجھے تو یاد نہیں لیکن اگر آپ بیان کریں تو شاید یاد آجائے۔

بابا فرید نے فرمایا: ”میں نے عرض ایک تھا روٹی اسلام کا چھٹا رکن ہے۔ اور آپ ہمیں ظالم قرار دے کر چلے گئے تھے۔ پھر بھی ہم آپ کو یاد کرتے رہے۔ ملا طنزیہ ہنسے اور بولے :“ درویش اپنی کم علمی کے باعث اکثر ایسی باتیں کر دیتے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں۔ بابا فرید نے فرمایا : ”لیکن میں نے ایسا لکھا پڑھا ہے۔ “

آپ نے وہاں موجود افراد سے کہا ہمیں کچھ دیر تنہا چھوڑ دو۔ جب سب چلے گئے تو آپ نے ایک کاغذ ملا کے سپرد کیا اس کاغذ کو کھولا تو اس پر وہی تحریر موجود تھی جو اس نے جزیرے پر اس فقیر کے لئے لکھی تھی۔ ملا کچھ دیر حیرت سے کاغذ کو دیکھتا رہا اور پھر بابا فرید کے قدموں میں گر گئے اور بولے :

”مجھ سے ظلم ہو گیا۔ بابا فرید نے شفقت سے فرمایا مجھے کوئی گلہ نہیں۔ آپ میں اور مجھ میں ایک معمولی اختلاف تھا جو آج دور ہو گیا۔ اس واقعے کے بعد وہ ملا آپ کے مرید ہو گئے۔ اور جب تک زندہ رہے ہر وقت حالت گریہ میں ہی رہے۔

پنج رکن اسلام دے، تے چھیواں فریدا ٹک
جے لبھے نہ چھیواں، تے پنجے ای جاندے مک

ترجمہ:
اسلام کے پانچ بنیادی رکن ہیں لیکن چھٹا بھی ایک رکن ہے، روٹی
اگر یہ چھٹا رکن نہ ملے تو باقی پانچ بھی باتھ سے جاتے ہیں

بھوک کہنے کو تو صرف چار حرفی لفظ ہے لیکن اس کے اندر ایسی اذیت اور درد بھری خاموش چیخیں اور آہ و بکا ہے جو انسان کو جیتے جی مار دیتی ہے۔ اس کا تعلق کسی علاقے مذہب رنگ یا نسل سے نہیں ہوتا اس کے شعلے جب بھڑکتے ہیں تو پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ یہ جس شخص پہ وار کرتی ہے اس کو ہر معصوم بچہ گوشت کا نوالہ اور سورج اور چاند روٹی کی صورت نظر آنے لگتے ہیں اور ہر ناجائز اور حرام اس کو اپنا حق لگنے لگتا ہے۔

ماہ رمضان کے آتے ہی ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انسانوں کے اعمال صالح اور نیک نیتی آسمان تک پہنچے لیکن اس کے برعکس ضروریات زندگی کی قیمتیں آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگتی ہیں۔ عصر کی نماز کے بعد ”کھجور سے روزہ افطار کرنا سنت ہے“ سننے کے بعد دکاندار باتھ میں تسبیح گھماتے وہ کھجور جو باقی مہینوں میں چھ سو روپے کلو بکتی رہی اسے دگنی قیمت پر بیچ دے گا۔ گھی جو پہلے پانچ سو روپے کلو میں میسر تھا، رمضان کی برکت اور مسلمانوں کے نیک اعمال کی وجہ سے، آسمانوں کی قربتیں حاصل کر لیتا ہے۔

پھل اور دیگر اشیا بھی انسانی پہنچ سے اتنا دور چلی جاتی ہیں جتنا اس زمین کا فاصلہ آسمان سے۔ بازار سے ملنے والے لیموں، قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے غریب کو کھٹے لگنا شروع ہو جاتے ہیں۔ المکہ سوپر سٹور والے حاجی صاحب آنے والی حج کی تیاری میں مصروف ہیں، جس کے لیے درکار اخراجات انہوں نے اس رمضان المبارک میں پورے کرنے ہیں، بغیر حلال و حرام کی تمیز کے۔

یوں انسان چھٹے رکن اسلام سے دور ہو کر باقی پانچ ارکان جو حقیقت میں اسلام کی بنیادیں مانی اور جانی جاتی ہیں، ان سے دور ہوتا ہے۔ میرے معاشرے میں اسلام صرف وضو شروع کرنے سے لے کر مسجد کی پہلی صف میں سلام پھیرنے تک ہے باقی تو دنیا داری ہے، جس میں ہم اپنی مرضی سے ناپ تول اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کر سکتے ہیں کیوں کہ ہم مسجد کی پہلی صف میں نماز پڑھتے ہیں۔ کوشش کریں اس ماہ رمضان میں بندگان خدا کی خدمت میں قرب خدا کو تلاش کریں۔ خدا ٹوٹے ہوئے دلوں میں رہتا ہے اسے وہیں تلاش کریں۔



  تازہ ترین   
آبنائے ہرمز سے خود تیل لائیں، امریکا مدد نہیں کرے گا: ٹرمپ یورپی ممالک پر برس پڑے
اسلام آباد میں تاجر کا قتل افسوسناک واقعہ، گینگ گرفتار کر لیا: طلال چودھری
وزیر خارجہ اسحاق ڈار ایک روزہ دورہ پر چین پہنچ گئے
اسحاق ڈار کا دورہ اہم، ایران سمیت علاقائی امور پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں: چین
ٹرمپ آبنائے ہرمز کے بغیر بھی جنگ ختم کرنے پر آمادہ: امریکی اخبار، عرب ممالک اخراجات دیں: وائٹ ہاؤس
ثالثی پیشکش نیک نیتی پر مبنی، فیصلے فریقین نے خود کرنے ہیں: سفیر پاکستان
اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کا متنازعہ قانون منظور
ایران کے اسرائیل اور امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ویپن سپورٹ تنصیبات پر حملے





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر