تحریر: عابد حسین قریشی
زندگی میں بہت کوشش کی کہ صحیح اور درست بات کرنے کا گر سمجھ آجائے، مگر اکثر ناکامی ہی ہوئی۔ ہمارے ایک دوست کہا کرتے تھے کہ ہم بندہ ضائع کر دیتے ہیں، مگر جملہ نہیں۔ ہم نے بھی زمانہ طالب علمی سے ہی اس فارمولہ پر عمل کرنا شروع کیا اور حیرت انگیز طور پر اسکے نتائج حوصلہ افزا رہے۔
کونسی بات کب کرنی ہے، اور کیسے کرنی ہے، یہ تو لوگ سیکھ ہی جاتے ہیں، مگر کونسی بات نہیں کرنی یہ ذرا مشکل کام ہے، کہ زبان پر آیا جملہ کب رکتا ہے۔ ہمارے بہت سے معاشرتی معاملات میں بگاڑ اسی وجہ سے آرہا ہے، کہ ہمیں وہ بات وہاں روکنا نہیں آتی جہاں اسے رکنا چاہیے تھا۔ اس میں پڑھے لکھے، ان پڑھ، دانشور اور سماجی و مذہبی کسی بھی طبقہ سے بندہ کا تعلق ہو سکتا ہے، مگر نتیجہ ایک جیسا ہی ممکن ہے، اور اس کا مظاہرہ ہم روزانہ اپنے میڈیا اور سوشل میڈیا پر کرتے ہیں۔ کم از کم اپنا اگر محاسبہ ممکن ہو تو نتیجہ بہت ہی حوصلہ شکن برآمد ہو سکتا ہے۔
پھر ہم لوگ عمومی طور پر مزاح اور طنز کے بنیادی فرق کو ہی نہیں سمجھ پاتے۔ مزاح یا مذاق میں آپ دوسروں کے ساتھ خود بھی لطف اندوز ہوتے ہیں اور ہنستے بھی ہیں، مگر طنز میں طنز کرنے والا تو سرشاری اور احساس تفاخر کی دھن میں ہوتا ہے، مگر جس پر طنز کیا جاتا ہے، اس کے دل و دماغ پر گہرے چرکے لگتے ہیں، اور وہ دوسروں کی نظر میں اپنے آپ کو کمتر محسوس کرتا ہے۔
دراصل ہمارے ہاں عام بندوں میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک wise اور دوسرے otherwise۔ اپنی دوسری کتاب “تجاہل عادلانہ” میں اس ایک فقرے پر یار لوگوں سے بڑی داد ملی کہ دوران سروس لوگ ہمیں wise سمجھتے رہے، مگر من آنم کہ من دانم، حالانکہ ہم otherwise والوں میں سے ہی تھے۔
جو otherwise قسم کے لوگ ہوتے ہیں، ان کی زبان اور قلم سے جو بچ گیا وہ خوش قسمت شخص ہی ہوگا۔ اس قسم کے لوگوں کا فہم و فراست اور سمجھ بوجھ کے ساتھ بڑا واجبی سا تعلق ہوتا ہے، یہ اکثر پاسبان عقل سے دل کو آزاد کرکے رکھتے ہیں اور یہ گاہے بگاہے اس کا عملی مظاہرہ بھی کرتے رہتے ہیں۔ اور یہ مظاہرہ اکثر دوستوں اور ساتھیوں کی اذیت اور تکلیف میں اضافہ کا سبب ہی بنتا ہے۔
ایسے بہت سے لوگوں کو لفظ کی حرمت کا ہی علم نہیں ہوتا، کہ کس موقع پر یہ موتی رولنے ہیں، اور کہاں کونسا لفظ استعمال کرکے دیرینہ تعلقات کی کشتی میں سوراخ کرنا ہے۔
جب سے سوشل میڈیا ہماری زندگیوں میں داخل ہوا ہے، اب تو وہ بات جو پہلے دو آدمیوں کے درمیان ہوتی تھی، اور معذرت کی گنجائش بھی ہوتی تھی، اب منٹوں میں وائرل ہوکر اچھی خاصی بریکنگ سٹوری بن جاتی ہے، اور یہ بات نہ صرف دوستوں کے درمیان وجہ تنازعہ بلکہ بڑے قریبی رشتہ داروں میں سنگین اختلافات کو بھی جنم دے رہی ہے۔
جب ہم سوشل میڈیا پر کچھ بولنے یا لکھنے پر آجاتے ہیں، تو لگتا ہے کہ آنکھوں کے آگے اندھیرا بلکہ آنکھوں میں خون اتر آتا ہے۔ بعض اوقات ان الفاظ کی کاٹ اور چرکے اتنے گہرے ہوتے ہیں، کہ مدتوں اس کا اثر زائل کرنے میں لگتا ہے۔
میرے خیال میں اگر کسی تعلق کو توڑنا بھی چاہیں تو اس میں بھی گریس اور حسن ہونا چاہیے، کہ دوبارہ اگر زندگی میں آمنا سامنا ہو، تو نہ ندامت ہو نہ شرمندگی۔
اور بقول شاعر کہ:
“کرنا ہو ترک تعلق تو کچھ ایسے کرنا۔
ہم کو تکلیف نہ ہو ذکر تمہارا کرکے۔”



