خواب، محبت اور زندگی

تحریر: مہناز رحمان 

راجا پاکستانی کی انٹری

رسم و رواج کے مطابق رشتہ مانگنے کے لئے احفاظ نے اپنے دوست حسن امام کی اہلیہ کو میرے والدین کے پاس بھیجا۔ اور اس کے بعد امی اور خالہ احفاظ کا گھر دیکھنے گئیں۔ اس ملاقات نے سب کچھ بدل دیا۔ بس یوں سمجھ لیجیے کہ یہ ملاقات قیامت ڈھا گئی۔ راجا ہندوستانی طرز کی نہیں بلکہ راجا پاکستانی طرز کی قیامت۔

احفاظ کا چھوٹا سا گھر محنت کش طبقے کے محلے میں واقع تھا۔ 1970 کی دہائی کے وسط تک بھی وہاں نلکا، گیس کا چولہا اور ڈھنگ کا بیت الخلا جیسی بنیادی شہری سہولتیں موجود نہیں تھیں۔ یہ چیزیں امی اور خالہ کی نگاہوں سے پوشیدہ نہ رہ سکیں۔ یہ سب کچھ ان کے لئے ایک دھچکے سے کم نہ تھا۔ پھر خالہ نے کچھ بے ڈھنگے انداز میں مہر اور زیور کا ذکر چھیڑ دیا۔ کتنا زیور چڑھایا جائے گا، کتنا مہر لکھا جائے گا وغیرہ۔ عام حالات میں شاید ان سوالات کو معمول کے مطابق سمجھا جاتا۔ لیکن احفاظ کی موجودگی میں ان کے گھر کی خواتین سے ان سوالات کا پوچھا جانا ان پر ایٹم بم گرانے سے کم نہیں تھا۔ ”یہ محمد علی سوسائٹی نہیں ہے۔“ وہ دھاڑے۔ ”آپ کسی امیر آدمی کے گھر میں نہیں آئی ہیں۔ یہ ایک غریب آدمی کا گھر ہے۔“ بعد میں امی نے بتایا کہ وہ کس قدر بپھرے ہوئے تھے۔ ”آواز بلند، انا مجروح اور مزاج بے قابو“ ۔ اور اس کے ساتھ ہی خوبصورت اور پرسکون شادی کا خواب ہوا میں تحلیل ہو گیا۔

ماضی پر نظر دوڑاتے ہوئے کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ شاید میرے والدین طبقاتی نا ہمواری کے باوجود انہیں قبول کر لیتے، اگر احفاظ نے یہ جذباتی دھماکہ نہ کیا ہوتا۔ ان کے اس ردعمل نے میرے والدین کو انکار کا آسان جواز فراہم کر دیا۔ احفاظ کا غصہ اگرچہ اصولی بنیادوں پر تھا، مگر نہ وقت مناسب تھا نہ طریقہ۔ اس لئے میرے والدین نے اپنے انکار کو دولت یا حیثیت کا معاملہ بنانے کی بجائے تمیز اور ادب آداب کا مسئلہ بنا کر پیش کیا۔ یوں ایک ایسی شادی کا امکان ختم ہو گیا جو سکون سے، بغیر کسی تماشے، تکلیف یا احساس جرم کے انجام پا سکتی تھی۔ یہ ایک تکلیف دہ سبق ہے جسے باب ششم کے ’بائیں بازو کے اسباق‘ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ کبھی کبھی ابلاغ یا طرز اظہار آپ کی نظریاتی اور فکری وابستگی سے زیادہ اہم ٹھہرایا جاتا ہے۔ لہجہ، انداز بیان اور وقت کی اہمیت کو نظر انداز کرنا ہمارے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ جیسے کہ لیفٹسٹ مفکر مائیکل البرٹ نے ایک مرتبہ کہا تھا ”اکثر والدین کو ہماری سرگرمیوں (ایکٹوازم) سے نہیں بلکہ ہمارے اظہار کے انداز سے تکلیف پہنچتی ہے۔ ہم ایسے برتاؤ کرتے ہیں جیسے ہمارے والدین کی ساری زندگی، ان کی اقدار اور ان کے فیصلے ہمارے مقابلے میں کمتر ہوں۔ انہیں ہمیشہ ہمارے نظریات سے مسئلہ نہیں ہوتا بلکہ وہ حقارت انہیں ہم سے دور کر دیتی ہے جو ہمارے لہجے اور روئیے سے جھلکتی ہے۔“

وہ لمحہ جب احفاظ نے اپنے جائز غصے کا اظہار اتنے تلخ اور کھردرے انداز میں کیا، تعلقات اور رشتوں میں ایک ایسی دراڑ بن گیا جسے کبھی پر نہ کیا جا سکا۔

یہ اور بات ہے کہ تیس چالیس سال بعد اس واقعہ کا ایک مزاحیہ پہلو اس وقت سامنے آیا جب آرٹس کونسل میں 1977۔ 78 میں صحافیوں کی تحریک کے بارے میں احفاظ کی کتاب ”سب سے بڑی جنگ“ کی تقریب رونمائی ہوئی۔ ضیا الحق کے آمریت کے سیاہ دور میں صحافیوں نے مزدوروں، کسانوں اور طلبا کے ساتھ مل کر یہ تحریک چلائی تھی۔ (اس کا تفصیلی ذکر باب ہشتم میں ہو گا) ۔ خاور نعیم ہاشمی کو اس تقریب میں مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ جن قارئین کو اس کا علم نہ ہو انہیں بتاتی چلوں کہ خاور نعیم ان چار صحافیوں میں سے ایک تھے جنہیں ضیا کی جابر حکومت نے اس تحریک کے دوران کوڑے مارے تھے۔ خاور روزنامہ مساوات میں ہمارا نو عمر کولیگ تھا۔ میں اور احفاظ اسے ’کاکا‘ کہتے تھے۔ اس تقریب میں اپنی تقریر میں خاور نے انکشاف کیا کہ متذکرہ بالا واقعے کے بعد احفاظ نے خاور کو بھی میرے والدین کو منانے کے لئے بھیجا تھا۔

سینکڑوں سامعین کے سامنے خاور نے اس واقعے کی روداد کچھ یوں بیان کی۔ ”میں مہ ناز آپا کے گھر ان کی والدہ کے پاس احفاظ بھائی کے رشتے کی بات کرنے گیا تھا۔ ان کی والدہ نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے کہا،“ میں اپنی بیٹی کا رشتہ اس گھر میں کیسے کر سکتی ہوں۔ اس گھر میں تو ڈھنگ کا ٹوائلٹ تک نہیں ہے۔ میری بیٹی تو گولڈن ٹوائلٹ سیٹ پر بیٹھتی رہی ہے۔ ”سامعین کی ہنسی چھوٹ گئی اور میری سٹی گم ہو گئی۔ (بخدا میں اس واقعے سے قطعی لا علم تھی) ۔ خاور کے مزاح میں پنجابی بے ساختگی کا رنگ تھا اور شاید ان بے سروپا باتوں میں زندگی کے زخموں پر کوئی نرم سا پھاہا بھی رکھ دیا گیا تھا۔



  تازہ ترین   
آبنائے ہرمز سے خود تیل لائیں، امریکا مدد نہیں کرے گا: ٹرمپ یورپی ممالک پر برس پڑے
اسلام آباد میں تاجر کا قتل افسوسناک واقعہ، گینگ گرفتار کر لیا: طلال چودھری
وزیر خارجہ اسحاق ڈار ایک روزہ دورہ پر چین پہنچ گئے
اسحاق ڈار کا دورہ اہم، ایران سمیت علاقائی امور پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں: چین
ٹرمپ آبنائے ہرمز کے بغیر بھی جنگ ختم کرنے پر آمادہ: امریکی اخبار، عرب ممالک اخراجات دیں: وائٹ ہاؤس
ثالثی پیشکش نیک نیتی پر مبنی، فیصلے فریقین نے خود کرنے ہیں: سفیر پاکستان
اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کا متنازعہ قانون منظور
ایران کے اسرائیل اور امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ویپن سپورٹ تنصیبات پر حملے





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر