حسین ابن حیدر علیہ السلام، خدا کا ایک راز ہی تو ہیں

عابد حسین قریشی

شانہء نبوت کے شہسوار، بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا کے چہیتے پسر، مولا علی علیہ السلام کے لخت جگر، درویش منش سیدنا حسن مجتبٰی اور بہادری اور استقامت کی علامت بی بی زینب سلام اللہ علیہا کے قابل فخر بھائی سیدنا امام حسین علیہ السلام جو شہدا کے سردار بھی ہیں، اور قافلہ حریت کے پشتبان بھی، جو عزم و ہمت کی ایک داستان بھی ہیں، اور جرات و شجاعت کے ستون بھی، جو ایثار و قربانی کا نشان بھی ہیں، اور حریت فکر کے سالار بھی، جو نبیوں کے امام کی آنکھ کا تارا اور انکے دین اسلام کے محافظ بھی۔ اور تاریخ کا ایک تابندہ و لازوال کردار بھی۔ وہی حسین ابن علی تو خدا کا ایک راز ہیں۔ ایسا راز جو دنیا پر ہر لحظہ اور ہر لمحہ نئی آن اور نئی شان سے منکشف ہو رہا ہے۔ انسان کو بیدار تو ہو لینے دو۔ ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین۔ تاریخی طور پر یہ بات مسلمہ ہے، کہ اس دنیا میں اس خانوادہ نبوت کے دو شہزادوں سے پہلے کبھی کسی کا نام حسن اور حسین نہ رکھا گیا نہ سنا گیا، تو جن کے نام اللہ تعالٰی خود تجویز فرمائیں، وہ اللہ کا راز نہ ہوں گے تو اور کون ہوگا۔ صرف نسبت رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہو سکتی تھی، مگر یہاں تو معاملہ ہی کچھ اور تھا۔ وہ حسین ابن حیدر جو نبی مکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت ہی پیارے اور عزیز تھے، انکی اس گردن مبارک پر چھری چلائی گئی، جسے لوگوں نے رسول کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بوسے دیتے بارہا دیکھا تھا۔ وہ حسین جو تاجدار مدینہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک پر سواری کیا کرتے تھے۔ جن کا فرمان عالی شان ہے کہ حسین مجھ سے ہے، اور میں حسین سے ہوں۔ وہ حسین ابن حیدر جو اپنے نانا کا دین بچانے نکلے، اپنے اہل خانہ اور عزیز و اقارب کے ہمراہ۔ اگر یہ تخت و تاج کی جنگ ہوتی تو حسین کے لشکر کی شکل و صورت کچھ اور ہوتی۔ مگر یہاں تو خالق کائنات حسین ابن حیدر علیہ السلام سے وہ کام لینا چاہتا تھا، کہ یہ قربانی ہمیشہ کے لئے امر ہو جائے، یزیدیت کا تمام غرور و تکبر ، فسق و فجور، ظلم و تغیان اور ستم شعاریاں، حسین ابن حیدر اور انکے ساتھیوں کی لازوال قربانی کے سامنے نہ صرف زمین بوس ہوئیں،بلکہ حسین ابن علی نے یزیدیت کو خائب و خاسر اور مخذول و مردود کرکے تاریخ کے کوڑا دان میں ڈال دیا۔ خلافت کو ملوکیت اور شخصی حکومت میں بدلنے کی ریت کو گہری زک پہنچائی۔ اور اپنی بے مثل اور لازوال قربانی سے شہادت کی وہ خلعت فاخرہ حسین ابن علی کے سر سجی کہ تاریخ تا ابد اس شہادت پر نازاں رہے گی۔ کیا اللہ تعالٰی کے لئے کچھ مشکل تھا کہ وہ واقعہ کربلا کو ٹال دیتا۔ مگر قدرت کی مشیت اور رضا کچھ اور تھی۔ اپنے محبوب ترین نبی اور رسول کا نہایت متبرک و مقدس، اعلٰی انسانی اور اخلاقی اقدار سے مزین، خانوادہ رسالت کے سارے ہی چشم و چراغ بشمول معصوم علی اصغر سے کڑیل جوان علی اکبر تک، اور غازی عباس سے حسین ابن حیدر تک نہایت بے دردی سے شہید ہوتے اس چشم فلک نے دیکھے۔ یہ کربناک اور روح فرسا منظر اس چشم فلک نے پہلے کب دیکھا ہوگا۔ کس طرح گھیر گھار کر، بھوکے اور پیاسے خاندان رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تہہ تیغ کیا گیا۔ نہ جرم بتایا گیا، نہ خطا، بس ایک غیر اخلاقی اور بگڑے ہوئے یزید کی حکومت بچانے کے لئے اتنا بڑا سانحہ برپا کر دیا گیا۔ مگر اس سانحہ کربلا میں ایک پیغام تھا اس امت محمدی کے لئے کہ ہمیشہ حق کے ساتھ کھڑے ہونا ہے۔ حق کی یہ شہادت اور حق کی گواہی کے لئے حسین ابن حیدر سے بہتر کونسا کردار ہو سکتا تھا۔یہی عظیم الشان کردار تو اسلام کے لئے جزم و یقین، اسلام کی رگ حمیت، اور جبین غیرت بن گیا جس کے سامنے یزیدیت سر نگوں اور غوایت و ضلالت کی اتھاہ گہرائیوں میں غوطہ زن نظر آئی۔ خالق کائنات نے حسین ابن حیدر سے دین اسلام کی تقویت، و پاسداری کو عشق شہادت کے بادہء گلفام سے ، شوق کی جزب و مستی سے، پیغام حق کی شیرینی سے، عظم و ہمت کی اٹل حقیقت سے، استقامت کی یگانگت سے اور شجاعت کی دلربائی سے آبیاری کی۔ حسین ابن علی علیہ السلام اخلاق حمیدہ کے وہ خاص راکب و شہسوار ہیں اور محاسن و اوصاف اور کردار و عمل کی ان بلندیوں پر جلوہ فگن ہیں، کہ دل بے اختیار پکار اٹھتا ہے، کہ حسین ابن حیدر، خدا کا ایک راز ہی تو ہیں۔ایسا راز جسکی حقیقت سے یا مصطفٰی خود واقف ہیں یا محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خدا۔



  تازہ ترین   
آبنائے ہرمز سے خود تیل لائیں، امریکا مدد نہیں کرے گا: ٹرمپ یورپی ممالک پر برس پڑے
اسلام آباد میں تاجر کا قتل افسوسناک واقعہ، گینگ گرفتار کر لیا: طلال چودھری
وزیر خارجہ اسحاق ڈار ایک روزہ دورہ پر چین پہنچ گئے
اسحاق ڈار کا دورہ اہم، ایران سمیت علاقائی امور پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں: چین
ٹرمپ آبنائے ہرمز کے بغیر بھی جنگ ختم کرنے پر آمادہ: امریکی اخبار، عرب ممالک اخراجات دیں: وائٹ ہاؤس
ثالثی پیشکش نیک نیتی پر مبنی، فیصلے فریقین نے خود کرنے ہیں: سفیر پاکستان
اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کا متنازعہ قانون منظور
ایران کے اسرائیل اور امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ویپن سپورٹ تنصیبات پر حملے





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر