تحریر: عابد حسین قریشی
جب بھی یہ خبر نظر سے گزرتی ہے، کہ فلاں معروف مرد یا عورت اپنی اولاد اور تمام وسائل کے ہوتے ہوئے اکلاپے کی موت مر گئے، تو دل دہل سا جاتا ہے، سانسیں غیر متوازن ہو جاتی ہیں۔ اس بات پر حیرانگی سے زیادہ پشیمانی ہوتی ہے، کہ ہمیں تو اپنے خاندانی نظام کی پائیداری اور استحکام پر بڑا ناز اور گھمنڈ تھا۔ ہم نے تو مغرب کے بڑے قصے اور کہانیاں سن رکھی تھیں، کہ وہاں بوڑھے اور سینئر لوگوں کے لئے اولڈ ہوم بنے ہوئے ہیں، جہاں وہ زندگی کے آخری ایام گزارتے ہیں۔مگر وہاں تو خاندانی نظام کب کا بکھر چکا۔ مگر بزرگوں اور سینئر لوگوں سے بے اعتنائی اور روکھے اور پیکھے برتاؤ، بلکہ بدسلوکی کی وبا ہمارے ہاں کب اور کیونکر پیدا ہوگئی۔ ہمارا مزہب اسلام تو والدین، رشتہ داروں اور بزرگوں کے تقدس، احترام اور محبت میں بہت آگے تھا۔قرآن کریم میں تو متعدد مرتبہ والدین کی خدمت و تابعداری اور خیال رکھنے کا حکم ہے۔ والدین کی نافرمانی شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے آقا کریم صل للہ علیہ وآلہ وسلم کا تو فرمان عالی شان ہے، کہ باپ کی رضا میں اللہ کی رضا اور باپ کی ناراضگی میں اللہ کی ناراضگی شامل ہے۔ ماں کے اعلیٰ مقام و مرتبہ کے بارے میں تو اتنا کچھ کہا گیا کہ جنت بھی ماں کے قدموں تلے رکھ دی گئی ۔ والدین کے اس مقام و مرتبہ کے پیش نظر کیا اولاد سے یہ توقع رکھی جاسکتی ہے کہ والدین کو بوڑھاپے میں بوجھ سمجھ کر کسی اولڈ ہوم میں پھینک دیا جائے اور مڑ کے دیکھا بھی نہ جائے۔ چند روز قبل لاہور میں ہی ایک مہربان دوست نے بتایا کہ اولڈ ہوم میں اپنی اہلیہ کی خوشنودی کی خاطر جب ایک بیٹا اپنے باپ کو پھینک کر جا رہا تھا، تو اس بزرگ کے کپڑے خراب ہو چکے تھے اور اس بیٹے سے اولڈ ہوم کے کسی ملازم نے اسے کہا کہ دو جوڑے کپڑے ہی گھر سے اس بزرگ والد کے لا دو، تو اس امیر زادے نوجوان نے کندھے اچکتے ہوئے کہا کہ اب یہ بابا جی آپ کے حوالہ ہیں، دوبارہ مجھ سے رابطہ نہیں کرنا۔ اس طرح کے اور بھی بہت سے دلخراش واقعات میرے علم میں ہیں۔ اگر والد یا والدہ ذرا خوشحال ہوں مگر اولاد کی بے اعتنائی کی وجہ سے اکیلے زندگی گزارنے پر مجبور ہوں ، تو موت بڑی خوف ناک بلکہ اذیت ناک ہوتی ہے۔ کسی فلیٹ یا اپارٹمنٹ میں اکلاپے والی اذیت ناک موت لوگوں کو رلا دیتی ہے، خصوصاً جب اولاد بھی اسی شہر میں دو دو کنال کی کوٹھیوں میں مقیم ہو، اور اکیلے والد یا والدہ کی لاش فلیٹ کا دروازہ توڑ کر نکالنی پڑے۔ کس قدر بے حسی ہے، کس قدر بے رحمی اور بے دلی ہے، کہ وہ باپ جس نے اپنی ساری زندگی اس اولاد کی خوشیوں پر قربان کر دی ہو، جس نے خود بھوکا رہ کر اولاد کے ناز و نخرے اٹھائے ہوں، وہ ماں جو سراپا شفقت و محبت ہو، بیمار بیٹے کے سرہانے ساری ساری رات جاگ کر گزار دی ہو، ہر وقت اولاد کی سلامتی اور خوشحالی کی دعائیں مانگتی ہو، جب بڑھاپے میں انہیں آسرے اور نگہداشت کی ضرورت ہو، تو بیوی کا نخرہ اٹھانے والا بیٹا ان کو کسی اولڈ ہوم میں پھینک آئے اور وہاں وہ زندگی کے آخری اذیت نال لمحات گزاریں، اور بعض اوقات تو اس طرح کی اولاد کو اپنے والدین کی میت کو کندھا دینا بھی نصیب نہیں ہوتا۔ یہ کام بھی غیر ہی کر جاتے ہیں۔ ان والدین کا حشر تو اور بھی برا ہوتا ہے، جو جایئداد کے بٹوارہ سے بچنے کے لئے اپنی جایئداد بیٹوں کے نام کرا دیتے ہیں اور پھر انہیں سر چھپانے کو جگہ بھی نہیں ملتی۔ کہتے ہیں، کہ ایک باپ تمام تر نامساعد حالات میں بھی سات بچے پال لیتا ہے، مگر سات بچے مل کر ایک باپ کو بوڑھاپے میں نہیں سنبھال سکتے۔ اس کی بہترین مگر دلخراش منظر کشی انڈین فلم باغبان میں کی گئی ہے، اور لگتا ہے کہ وہ ہر اس گھر کی کہانی ہے، جہاں وسائل ہوتے ہوئے بھی بوڑھے ماں باپ کو بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ بلاشبہ ابھی بھی ہمارے اردگرد ایسے بے شمار لوگ موجود ہیں جو اپنے بوڑھے والدین کی صرف دل و جان سے خدمت ہی نہیں کرتے بلکہ انہیں اپنے لئے باعث رحمت، باعث عز و شرف سمجھتے ہیں۔ مگر جب والدین کے بے یار و مددگار کسی اولڈ ہوم یا کسی فلیٹ میں کسمپرسی اور اذیت ناک موت مرتے دیکھتے ہیں تو کچھ سوال، کچھ الجھنیں، کچھ چھبن، ضرور ابھرتی ہے۔ بات ختم کرنے سے قبل ایک سوال، ایک لمحہ فکریہ، ایک چھبن اور ایک الجھن کا جواب درکار ہے، کہ ایسا ہمارے معاشرہ میں کیوں ہو رہا ہے۔ کیا والدین اپنی اولاد کی درست نہج میں تربیت ہی نہیں کر پاتے۔ کیا کمرشلزم نے انسانی رشتوں کی قدر و قیمت کو گہنا دیا ہے۔ کیا جایئداد کی محبت ، حرص، لالچ اور طمع نے انسانی قدروں کو پائمال کر دیا۔اس میں بزرگ اور نوجوان سبھی شامل ہیں۔
کیا دین اور قرآنی احکامات سے دوری اس کا سبب ہے۔ کیا دلوں میں بزرگوں کے لئے تنگی اور رنجشیں پائی جاتی ہیں۔ کیا کنال اور دوکنال کے بنگلوں میں والدین کے لئے ایک کمرا کی گنجائش بھی نہیں نکلتی، اور کیا بیٹے کی اہلیہ اتنی دلیر اور منہ زور ہے، کہ اسے اسی گھر میں جو ان بزرگوں نے ہی بنایا ہوتا ہے، انہی بزرگوں کا وجود گوارا نہیں۔ کیا یہ کوئی نفسیاتی مسئلہ ہے، کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے اور صاحب ثروت لوگ بھی اس مسئلہ کی حساسیت اور اہمیت کو سمجھ نہیں پا رہے۔ متذکرہ بالا وجوہات میں سے کوئی ایک وجہ ہے، یا ایک سے زائد، مگر بات باعث شرم بھی ہے، اور باعث ندامت بھی، کہ با وسیلہ اولاد ہونے کے باوجود بوڑھے والدین کسی اولڈ ہوم میں یا کسی فلیٹ کی تنہائی میں اذیت اور تکلیف دہ موت کا سامنا کریں۔



