عابد حسین قریشی
ایران اور اسرائیل کی جنگ میں کون فاتح اور کون مفتوح کی بحث ہی لایعنی ہے۔ یہ کوئی باقاعدہ روایتی جنگ نہیں تھی۔ کسی ملک کی فوج دوسرے کے مدمقابل نہیں آئی۔ نہ کسی نے دوسرے کی سرحد پار کی ، نہ سرحدوں پر توپیں اور گولے برسے۔ نہ ٹینک ٹینک سے ٹکرائے، نہ اس طرح لاشیں گریں۔ اسرائیل نے ایران کے اندر سے جاسوسی کی بنیاد پر پہلا وار بڑا مہلک کیا، جس میں ایرانی عسکری قیادت اور ممتاز ایٹمی سائنسدان شہید ہو گئے۔ یہ وار اچانک بھی تھا اور شدید بھی۔ اسکے دیگر مقاصد کے علاوہ سب سے اہم رجیم چینج یعنی ایران کی موجودہ حکومت جو انقلاب ایران کی extension ہے، کا خاتمہ کرکے کوئی لبرل سیٹ اپ لانا تھا۔ امریکہ اور اسرائیل کافی عرصہ سے اس پلان پر کام کر رہے تھے۔ اور انکا خیال تھا کہ پہلے حملہ کے بعد ہی یہ رجیم چینج والا مقصد حاصل ہو جائے گا، اسکے علاوہ انہیں ایران کا ایٹمی پروگرام بھی کھٹک رہا تھا۔ مگر انہوں نے ایرانی حکومت، اسکی دفاعی صلاحیت، اسکے عوام کے جزبہ حریت، اور چین اور روس کی ظاہری اور خفیہ امداد کا نہ اندازہ لگایا، نہ ہی اسکے مضمرات پر غور و فکر کیا۔ طاقت کے نشہ میں بدمست ہاتھی ایران پر چڑھ دوڑے۔ انہوں نے ایران کو بھی غزہ اور فلسطین، لبنان و شام کی طرح کے بے وسیلہ ملک اور شہر سمجھے، مگر ایران انکی سوچوں سے بہت بڑھ کر نکلا۔ اس نے نہ صرف اسرائیل کے ناقابل تسخیر ہونے کا سحر توڑا، بلکہ یہودیت کے اس تصور کو بھی گہری گزند پہنچائی کہ یہودی اللہ کی بڑی خاص مخلوق ہیں، اور دنیا کی کوئی طاقت ان کی طرف دیکھ بھی نہیں سکتی۔ دراصل یہ نظریہ اسرائیل اور یہودیوں نے عربوں کی کئی کمزوریوں کو exploit کرکے اور امریکی آشیرباد سے وقتاً فوقتاً دنیائے عرب سے اٹھنے والی ہر جاندار آواز اور لیڈر شپ کو ختم کرکے قائم کر رکھا تھا۔ ذرا چشم تصور سے دیکھیں کہ 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد کس مہارت اور شرارت سے، کس مکاری اور عیاری سے اسرائیل نے امریکہ اور یورپ سے مل کر عالم اسلام کی ٹاپ کی لیڈر شپ کو ختم کیا۔ کس کس کا نام لیں، ہر طرف غم و اندوہ کی لا متناہی داستانیں ہیں۔ شاہ فیصل سے یاسر عرفات، حافظ اسد سے صدام حسین، معمر قذافی سے ذوالفقار علی بھٹو، اور انکے علاوہ بے شمار بہادر اور لڑنے والے مجاہد اسماعیل حانیہ اور حسن نصراللہ جیسے کمانڈر ، پھر گزشتہ دو سال میں مزاحمت کی ہر آواز اور للکار بشمول حماس، حزب اللہ، غزہ کے مجاہدین اور ایران، لبنان شام اور یمن میں اسرائیل کے خلاف بر سر پیکار گروپوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا بلکہ حماس اور حزب اللہ کی تو ساری قیادت ہی ختم کر دی گئی۔ ایسے میں اب مڈل ایسٹ میں صرف ایران ہی ایک بااثر اور مزاحمت کی تگڑی آواز اور علامت تھی۔ اسلئے اسے ختم کرنا ضروری سمجھا گیا، مگر یہاں اندازے کی چوک ہوئی۔ ایران خلاف توقع میزائل کی جنگ میں اسرائیل سے بہت آگے نکلا اور اس نے اسرائیل کے ہر شہر میں جہاں چاہا وہاں ہٹ کیا اور اسرائیل کے شہروں کو کھنڈرات میں تبدیل کیا۔ بنکروں کو چھوڑ کر اسرائیلی ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔جب اسرائیل کے حوصلے ٹوٹنا شروع ہوئے تو اسکا مربی و سرپرست امریکہ براہ راست جنگ میں کودا۔ اس نے بظاہر ایران کی ایٹمی تنصیبات پر بھرپور ضرب لگائی اور ظاہر ہے ایران کا نقصان بھی ہوا ہوگا اور پھر ایران تو بغیر کسی موثر ایئر فورس کے یہ جنگ لڑ رہا تھا اس لئے اسطرح کی صورتحال میں ایران کو زیادہ نقصان کا اندیشہ تھا، مگر جب ایران نے خلیجی مسلم ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا، جو کہ کسی مسلمان ملک کے لئے ناقابل تصور ہدف تھے، تو امریکہ سمیت اسرائیل گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوئے۔ یہ جنگ در اصل اسرائیل کی درخواست پر بند کرائی گئی۔اس میں نہ تو باقاعدہ مذاکرات ہوئے نہ ہی ایران نے سرنڈر کیا اور نہ ہی اس سے کوئی شرائط منوائی جا سکیں۔ جنگ شروع کرنے والے یہ بھول گئے کہ ایران کے پاس تو ہارنے کے لئے کچھ تھا ہی نہیں۔ وہ تو ایک نظریہ اور ایک مشن کی جنگ تھی کہ اگر ایران اس جنگ میں گر جاتا تو شاید پھر اسرائیل کو اس طرح کی مزاحمت کا ملنا ناقابل تصور تھا۔ یہ دو ملکوں کی جنگ نہ تھی بلکہ اس خطے میں مسلمانوں کی بقا کی جنگ تھی۔ ایران نے یہ جنگ پاکستان کی بھی لڑی ہے۔ کہ بڑی مدت سے اسرائیل ہماری ایٹمی صلاحیت کے درپے تھا مگر اسکی طبیعت اس طرح صاف ہوئی ہے ، کہ اب اسے سنبھلتے کافی وقت لگے گا۔ البتہ فلسطینی اور غزہ کے مظلوموں کی داستان الم ابھی لمبی لگتی ہے۔ اس جنگ میں ایران ہی سرخرو رہا ہے، کہ اسکی حکومت بھی وہیں پہلے سے زیادہ تگڑی ہوکر ابھری ہے، اسکی فوجی خصوصاً میزائیل پاور اب بھی محفوظ ہے، ایران کی ایک انچ زمین پر بھی دشمن کا قبضہ نہ ہے، اور اسکے ساتھ پاکستان بھی محفوظ و مامون رہا ، کہ اسرائیل جو پاکستان کے جوہری اثاثوں کے لئے ایک مستقل خطرہ تھا اب ادھر دیکھنے کی جرآت نہیں کرے گا۔ اس ساری صورتحال میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایران ہی اس جنگ کا فاتح ہے، اور اسی کا پلڑا بھاری رہا۔ ایران نے ثابت کیا کہ جنگیں ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ جزبہ ایمانی سے بھی لڑی جاتی ہیں۔



