ایک عورت کن مراحل سے گزر کر ایک طوائف کا روپ دھارتی ہے؟
اس سوال کا جواب تلاشنے کے لیے اسلام آباد کے ایک دوست نے ایک طوائف سے میری ملاقات کا وقت طے کیا۔ لیہ سے اسلام آباد پہنچ کر، دوست مجھے ایک گنجان آباد علاقے کی طرف لے گیا۔ تنگ و تاریک گلیوں سے گزرتے ہوئے ہم ایک پرانے سے مکان کے سامنے رکے۔ دستک دی گئی۔
اندر سے ایک خوبصورت حسینہ نے دروازہ کھولا۔ لکھنؤ کی طوائفوں کی مانند اُس نے ادب سے سلام کیا۔ دوست مجھے وہاں چھوڑ کر واپس چل دیا۔
وہ طوائف مجھے اندر لے گئی اور صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ خود بھی سامنے والے صوفے پر براجمان ہو گئی۔ میں نے ترچھی نگاہ سے اُس کی طرف دیکھا۔ وہ بلا کی حسین تھی۔
اُس نے پانی کا گلاس میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا،
“صاحب! آپ کے دوست بتا رہے تھے آپ ایک لکھاری ہو؟”
میں نے فاخرانہ قسم کی عاجزی اختیار کرتے ہوئے کہا،
“جی، بس ٹوٹے پھوٹے الفاظ کو ایک لڑی میں پرونے کی کوشش کرتا ہوں۔”
اُس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال کیا:
“طوائف پر لکھنے کے لیے آپ نے لیہ سے اسلام آباد تک کا سفر کیوں کیا؟ حالانکہ آپ کو لیہ میں بھی سینکڑوں طوائفیں مل سکتی تھیں۔”
میں نے غصے سے دیکھا۔ مگر اُس سے پہلے کہ کچھ کہتا، اُس نے سگریٹ کا ایک لمبا کش لیا، اور اپنے خوبصورت ہونٹوں سے دائرے کی صورت میں دھواں خارج کرتے ہوئے کہا:
“صاحب! آپ بھی لنڈے کے لکھاری لگتے ہو۔ ایک کامیاب لکھاری اپنے ارد گرد ہونے والے واقعات پر گہری نظر رکھتا ہے۔”
اُس کی بات سن کر میرے ماتھے پر پسینہ نمودار ہونے لگا۔ مگر اُس کی اتنی دانشمندانہ گفتگو نے مجھے حیران کر دیا۔ وہ جوں جوں بولتی گئی، اُس کے گال غصے سے سرخ ہوتے گئے۔
پانی کا گھونٹ پینے کے بعد اُس نے بولنا جاری رکھا:
“صاحب! جج یہاں انصاف بیچ رہا ہے، لیکن قابل نفرت صرف جسم فروش عورت ہے۔ سیاستدان اپنا ضمیر بیچ رہے ہیں، لیکن آپ انہیں لیڈر مانتے ہیں۔ ایک مجبور طوائف کی جسم فروشی آپ کو چبھتی ہے۔”
“یہاں ڈاکٹر موت کا کاروبار کر رہے ہیں، لیکن آپ کی نظر میں وہ مقدس پیشہ ہے۔ وکیل جھوٹے مقدمات بناتے ہیں، پولیس جعلی مقابلوں میں قتل کرتی ہے۔ ریاست کے اندر ریاست ہے، قانون کو روند کر حکومتیں بنائی اور گرائی جاتی ہیں۔”
“یہاں حق مانگنے والے کو غدار کہا جاتا ہے، میڈیا دن کو رات بنا کر دکھاتا ہے، صحافی اپنا قلم بیچتا ہے، اساتذہ بچوں کے مستقبل سے کھیلتے ہیں، تعلیم ایک کاروبار ہے، اوپر سے نیچے تک سب کچھ بک رہا ہے۔ ہر شعبہ تعفن سے بھرا ہے۔۔۔ لیکن قابل نفرت صرف طوائف ہے، جو اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کو جسم بیچتی ہے!”
اُس کی باتیں سن کر میرے ماتھے کی شکنوں پر پسینہ ٹھہر کر یوں قطرہ قطرہ نیچے گرنے لگا، جیسے بارش میں کسی غریب کے کچے مکان کی چھت ٹپکنے لگتی ہے۔
اُس نے ٹشو میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا:
“صاحب! جس معاشرے میں آپ رہتے ہیں وہاں ایک طوائف کا وجود کسی نعمت سے کم نہیں!”
میں اس کی یہ بات سن کر ہلکا سا مسکرایا، اور دل میں سوچا کہ ایک طوائف کس قدر خوبصورتی سے اپنی جسم فروشی کا دفاع کر رہی ہے۔
لیکن اُس نے بات جاری رکھی:
“اگر ہم طوائفیں ان مرد نما بھیڑیوں کی آگ ٹھنڈی نہ کریں، تو یہ بھیڑیے معصوم بچیوں کو بھی نوچ ڈالیں گے۔”
میں جو دل میں کئی سوال لے کر لیہ سے نکلا تھا، وہ سب اب گم ہو چکے تھے۔ وہ مسلسل بول رہی تھی، اور میں، جو خود کو لکھاری و دانشور سمجھتا تھا، ایک طوائف کے الفاظ کے آگے لاجواب ہو چکا تھا۔
وہ اُٹھی، میرے قریب آئی، اور کہا:
“صاحب! آپ نے کتے کو پانی پیتے دیکھا ہے؟”
اچانک اس سوال پر میرے منہ سے “ہاں” نکلا۔
اُس نے سگریٹ کا کش لے کر میری طرف بڑھتے ہوئے کہا:
“صاحب! اس شہر کے بڑے بڑے لوگ، جو مسیحائی کا لبادہ اوڑھتے ہیں، جب ہمارے پاس آتے ہیں تو ہمارے پاؤں کے تلوے اس طرح چاٹتے ہیں جیسے کتا پانی پیتا ہے۔”
پھر اُس نے دیوار پر لگی گھڑی کی طرف دیکھا۔ میں خاموشی سے اٹھا، دروازے کی طرف بڑھا۔ وہ پیچھے سے پکار کر بولی:
“صاحب! اگر لکھاری بننا ہے تو جسم فروش طوائفوں پر نہیں، ضمیر فروش طوائفوں پر لکھا کرو! پھر آپ کو لیہ سے اسلام آباد آنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اپنی قلم میں جرات پیدا کرو۔”
کچھ غلط تو نہیں بولا اس عورت نے۔۔۔؟
مجھ سمیت پورے معاشرے کو آئینہ دکھا دیا۔



