برسلز (نیشنل ٹائمز) پارلیمانی وفد کے سربراہ اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام چاہتا ہے، جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں، پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی بھارتی دھمکی اشتعال انگیزی کی کوشش ہے، پاکستان جامع مذاکرات پر یقین رکھتا ہے جبکہ بھارت نے ہمیشہ مذاکرات سے راہِ فرار اختیار کی ہے۔
برسلز میں یورپی پریس کلب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں عالمی برادری کو پاکستان کے مؤقف سے آگاہ کرنے کے لیے پارلیمانی وفد تشکیل دیا، تاکہ بھارت کی حالیہ جارحیت، سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اور پانی بند کرنے کی دھمکیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے ان اقدامات کو پاکستان آبی دہشتگردی سمجھتا ہے، جو کہ نہ صرف سندھ طاس معاہدے بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے 240 ملین عوام کا انحصار انہی دریاؤں پر ہے، جن پر بھارت یکطرفہ طور پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر، دہشتگردی اور آبی تنازعات سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کی بات کی ہے، لیکن بھارت نے ہر بار بات چیت سے انکار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے حالیہ پہلگام واقعے کی غیر جانبدار بین الاقوامی تحقیقات کی بھی پیشکش کی تھی، مگر بھارت نے وہ بھی مسترد کر دی۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ پانچ روزہ جنگ کے دوران بھارت نے پاکستان پر کئی حملے کیے، جن میں براہموس میزائل جیسا خطرناک ہتھیار بھی شامل تھا جو ایٹمی وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کے پاس ردِعمل کے لیے وقت انتہائی محدود تھا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دو ایٹمی ریاستوں کے درمیان کسی بھی سطح پر کشیدگی عالمی امن کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز سے نمٹنے میں بھی سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے، مگر بھارت ہمیں پانی کے مسئلے پر جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری، خصوصاً یورپی یونین، کو چاہیے کہ وہ بھارت کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اپنا کردار ادا کرے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کے مؤقف کی حمایت کرے۔
انہوں نے کہا کہ پانی کی دستیابی پاکستان کی بقا سے جڑا مسئلہ ہے، اور اگر بھارت نے اس پر اشتعال انگیزی جاری رکھی تو یہ معاملہ کھلی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پارلیمانی وفد کا دورہ کامیاب رہا ہے، اور یورپی رہنماؤں نے پاکستان کے مؤقف کو سراہا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ عالمی برادری بھارت پر دباؤ ڈالے گی تاکہ وہ پاکستان کے ساتھ بامقصد مذاکرات پر آمادہ ہو۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے تنازعات کا پرامن حل چاہتا ہے، جبکہ بھارت کے اشتعال انگیز اقدامات خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے عملی اقدامات کرے تاکہ جنوبی ایشیا کو ایک بار پھر جنگ کی لپیٹ میں جانے سے بچایا جا سکے۔



