نئی دہلی (نیشنل ٹائمز) بھارت دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن چکا ہے لیکن زمینی حقائق اس معاشی ترقی کے دعوؤں کی مکمل نفی کرتے ہیں۔ ملک کی کروڑوں کی آبادی آج بھی خوراک جیسی بنیادی ضرورت سے محروم ہے۔ ورلڈ ہنگر انڈیکس کی تازہ ترین رپورٹ میں بھارت کو 125 ممالک میں سے 105ویں نمبر پر رکھا گیا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ معاشی ترقی صرف اعداد و شمار تک محدود ہے، جبکہ عام شہری بدترین حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
معاشی عدم مساوات کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بھارت کی مجموعی دولت کا 40 فیصد صرف 1 فیصد امیر طبقے کے پاس ہے۔ جبکہ مڈل اور لوئر مڈل کلاس طبقہ محض 3 فیصد دولت پر گزارا کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس ایک فیصد امیر طبقے کو نکال دیا جائے تو باقی عوام کی زندگی کی حالت کئی پسماندہ افریقی ممالک سے بھی زیادہ ابتر نظر آتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق تقریباً 70 کروڑ بھارتی شہری غذائی قلت کا شکار ہیں، جن میں بڑی تعداد دیہی آبادی پر مشتمل ہے۔ فاقہ کشی اور بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی نے اس طبقے کو شدید متاثر کیا ہے۔ مودی سرکار کے معاشی ماڈل پر سوالات اٹھتے جا رہے ہیں، کیونکہ اقتصادی ترقی صرف شہروں اور اشرافیہ تک محدود ہے، جبکہ ملک کی اکثریتی آبادی بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہے۔
اس کے علاوہ بھارت کی 90 فیصد لیبر فورس مقرر کردہ کم از کم اجرت سے بھی کم معاوضے پر کام کرنے پر مجبور ہے، جس سے ان کے معیارِ زندگی پر شدید منفی اثر پڑا ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 27 فیصد سے زائد بھارتی عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ یہ تمام حقائق مودی حکومت کے اس دعوے کو چیلنج کرتے ہیں کہ بھارت ایک “عالمی معاشی طاقت” بن چکا ہے، کیونکہ جب تک ملک کا عام شہری دو وقت کی روٹی سے محروم ہے، ترقی کے دعوے کھوکھلے ہی رہیں گے۔



