اسلام آباد (نیشنل ٹائمز ) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ٹیکس آئی ایم ایف کے دبائو پر لگایاگیا،پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے آپریشن عزم استحکام پر نہیں سندھ کی حد تک اختلافات ہیں، جسے ختم کرنے میں وزیراعظم شہباز شریف کو کردار ادا کرنا چاہیے۔خواجہ آصف نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ حالیہ بجٹ میں ٹیکس آئی ایم ایف کے دبا ئوپر لگایا گیا ہے، آئی ایم ایف پاکستان کی خودمختاری کے لئے خطرہ ہے۔وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ان کا شہر سیالکوٹ ایکسپورٹ کا مرکز ہے، ایکسپورٹرز پر جو ٹیکس لگایا گیا اس سے ایف بی آر کے کرپٹ مافیا کو فائدہ ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ غلام سرور قومی مجرم ہیں، ان کے ایک بیان کی وجہ سے ہماری پروازوں کے روٹس بند ہوگئے، جس سے کئی سو ارب کا نقصان ہوچکا ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ ایوی ایشن منسٹری میں اربوں روپے کی کرپشن ہو رہی ہے، پٹرول کی قیمتیں بین الاقوامی سطح پر بڑھی ہیں اس لئے بڑھائی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت پر آئی ایم ایف کا پریشر تھا، ایکسپورٹرز ڈیڑھ فیصد دینے کو تیار تھے، ایکسپورٹرز کیلئے میں 15 سے 20 دن سے احتجاج کر رہا ہوں۔وزیر دفاع نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے آپریشن عزم استحکام پر نہیں سندھ کی حد تک اختلافات ہیں، جسے ختم کرنے میں وزیراعظم شہباز شریف کو کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوںنے کہا کہ آپریشن عزم استحکام میں کوئی نقل مکانی نہیں ہوگی، ہمیں دہشت گردی کی اطلاعات مل رہی ہیں جبکہ آپریشن مخصوص جگہوں پر ہوگا۔خواجہ آصف نے کہا کہ 8 فروری کے انتخابات کے فیصلے میں جے یو آئی اور اے این پی دونوں شامل تھیں۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی جب سے اسلامی جمعیت طلبہ کے ہاتھ میں آئی ہے، اس کے اعلیٰ اصول کمپرومائز ہوگئے، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ وہ پرویز مشرف کے ساتھ کھڑے تھے۔
ٹیکس آئی ایم ایف کے دبائو پر لگایاگیا، خواجہ آصف



