اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات اور قومی ورثہ و ثقافت عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان ہمارے بزرگ اور قابل احترام سیاستدان ہیں، سیاست میں تمام مسائل کا حل صرف مذاکرات میں ہے، موجودہ صورتحال میں بیان بازی کی بجائے پارلیمان میں سیاست ہونی چاہئے۔ اتوار کو جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی پریس کانفرنس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اپنے بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آئندہ انتخابات انشاءاللہ 2029 میں مقررہ وقت پر ہوں گے، بزرگ اور زیرک سیاست دان ہونے کے ناطے مولانا صاحب کو حکومت کے معاشی بہتری کے اقدامات کو سراہنا چاہئے کیوں کہ حکومت کی بہتر معاشی حکمت عملی سے ملکی سٹاک ایکسچینج تاریخی بلندی پر ہے جب کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے، تجارتی خسارہ کم ہونے کے ساتھ روپے کی قدر مستحکم ہونا خوش آئند ہے۔
قبل ازیں اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام ف کے امیر مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ سیاسی معاملات میں مداخلت ان کے اپنے حلف کی نفی ہے، اس مداخلت کو ہم تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہوسکتے، مسئلہ ایک سیاسی جماعت کو راضی کرنے کا نہیں ہے، صاف اور شفاف الیکشن کرائے جائیں، ہمارے مطالبات بہت سنجیدہ ہیں، ہم سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو خوش آمدید کہتے ہیں، ہم آج بھی اپنے مثبت رویوں پر قائم ہیں، پی ٹی آئی قیادت میں اب تک یکسوئی کا فقدان ہے، اس وقت تک پارٹی کے سربراہ نے کسی مذاکراتی ٹیم کا اعلان نہیں کیا، سنی اتحاد کونسل کے سربراہ کا دل سے احترام کرتا ہوں، صاحبزادہ حامد رضا نے کہا تھا کہ جے یو آئی کے ساتھ اتحاد نہیں ہوسکتا، دو متصادم قسم کی آرا میں ہم کوئی رائے قائم کرنے میں دقت محسوس کررہے ہیں، ایک بہتر سیاسی ماحول تشکیل دینے کیلئے ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی مجلس شوری نے اعادہ کیا کہ آئین تمام اداروں کے دائرہ کار کا تعین کرتا ہے، تمام ادارے اپنا آئینی کردار ادا کریں، مرکزی مجلس شوریٰ نے کسی باضابطہ اتحاد میں جانے کا انتظار کیے بغیر اپنے پلیٹ فارم سے جدوجہد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، رابطوں کے عمل کو مثبت عمل تصور کیا جائے گا، سیاسی جماعتوں میں باہمی تعاون کا ماحول پیدا ہو تو کوشش ہوگی کہ اسے قابل عمل بنا سکیں۔



