اسلام آباد(نیشنل ٹائمز ) وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں طالبان کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا، آپریشن عزم استحکام فوج کی نہیں بلکہ ہماری ضرورت ہے، دہشتگردی کی حالیہ لہر سے نمٹنے کے لیے نئے جذبے اور شدت کے ساتھ آپریشن کی ضرورت ہے،اس بار آپریشن سے کوئی نقل مکانی نہیں ہوگی، آپریشن انٹیلی جنس کی بنیادوں پر کیا جائے گا، چین کی طرف پاکستان پر یہ آپریشن شروع کرنے کے لیے کسی قسم کا کوئی دبا ونہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ماضی میں کیے جانے والے فوجی آپریشنز کے بعد پاکستان کو یہ توقع نہیں تھی کہ ملک میں دہشتگردی ایک بار پھر بڑھے گی اور حال ہی میں اعلان کردہ آپریشن عزمِ استحکام فوج کی نہیں بلکہ حکومت کی ضرورت ہے۔ ملک میں امن و امان کے قیام اور دہشتگردی کی نئی لہر کے خاتمے کے لیے شروع ہونے والے فوجی آپریشن پر سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائدین سے مشاورت جاری رہے گی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری بھی ہے اور یہ ذمہ داری لینی بھی چاہیے۔ یہ آپریشن فوج کی نہیں، ہماری ضرورت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایپکس کمیٹی کی میٹنگ میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلی نے کسی قسم کا اختلاف نہیں کیا۔ ہو سکتا ہے کہ انھیں مزید اس آپریشن کی تفصیلات کا حصہ بنایا جائے تو وہ بھی راضی ہو جائیں۔ خواجہ آصف نے اس تاثر کو رد کیا کہ قبائلی علاقوں سے ان سیاسی جماعتوں سے مشاورت نہیں کی گئی جن کا وہاں ووٹ بینک ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر مزید بات چیت کی جا سکتی ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ دہشتگردی کی حالیہ لہر سے نمٹنے کے لیے نئے جذبے اور شدت کے ساتھ آپریشن کی ضرورت ہے۔ اس لانچنگ کی ایک نئے جذبے کے ساتھ ضرورت تھی۔ دہشت گردی کے واقعات میں گذشتہ ایک سال میں جو شدت آئی اس کے بعد نئی صف آرائی کی ضرورت تھی اور اس لڑائی کے لیے اپنے لائنز ری ڈرا کرتے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ آپریشن سے کوئی نقل مکانی نہیں ہوگی، بلکہ آپریشن انٹیلیجنس کی بنیادوں پر کیا جائے گا۔ جبکہ قبائلی علاقوں کے علاوہ خیبر پختونخوا کے کچھ بندوبستی علاقوں میں پہلے سے ہی انٹیلیجنس کی بنیاد پر کارروائیوں کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ وزیر دفاع کہتے ہیں کہ انھیں (فوج اور حکومتوں کو) توقع تھی کہ دہشت گردی دوبارہ نہیں پھیلے گی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ گذشتہ ایک دہائی میں کئی ایسے واقعات ہوئے ہیں جو بڑھتی دہشتگردی کا باعث بنے۔ ان کے مطابق اس میں افغانستان سے نیٹو اور امریکی افواج کا انخلا اور پاکستان میں عمران خان کی حکومت کے دوران ٹی ٹی پی کے جنگجوں کو ملک واپس لانا شامل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں امید تھی کہ افغان حکومت ہم سے تعاون کرے گی مگر وہ ان (طالبان عسکریت پسندوں) کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آئے کیونکہ وہ ان کے اتحادی تھے۔ ہم نے کہا کہ کوئی تو حل نکالیں۔ ان کی مغربی سرحد کی طرف نقل مکانی کرانے پر بھی بات ہوئی اور تقریبا دس ارب روپے دینے کو تیار تھے۔ مگر خدشہ تھا کہ یہ وہاں سے بھی واپس آ سکتے ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ طالبان سے بات چیت کے بعد ان کے چار سے پانچ ہزار لوگوں کو واپس لانے کا تجربہ ناکام ہوا اور طالبان کے وہ ساتھی جو افغانستان سے کاروائیاں کر رہے تھے انھیں پاکستان میں پناہ گاہیں مل گئیں۔ اب وہ آتے ہیں، ان کے گھروں میں رہتے ہیں اور پھر کارروائیاں کرتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ جن کے خلاف کاروائیاں کی جا رہی ہیں، ان میں واپس آنے والے طالبان جنگجو بھی شامل ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ چین کی طرف پاکستان پر یہ آپریشن شروع کرنے کے لیے کسی قسم کا کوئی دبا ونہیں۔ ان کا یہ دبا ضرور ہے کہ وہ یہاں اپنی سرمایہ کاری دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہیں، سی پیک ٹو کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے ان کے سکیورٹی سے متعلق خدشات ہیں۔ انھیں اچھا لگے گا کہ پورا پاکستان محفوظ ہو، مگر فی الحال وہ چاہتے ہیں کہ جہاں جہاں ان کے لوگ ہیں، اور ان کا کام ہے، وہ محفوظ ہوں۔ اس سوال پر کہ کیا اس آپریشن کے ذریعے چینی منصوبوں کو سکیورٹی تھریٹ پر بھی قابو پایا جائے گا، خواجہ آصف نے کہا کہ ان کے خلاف تھریٹ پر بھی کام ہوگا مگر اس فوجی آپریشن کا مقصد عام پاکستانی شہریوں کو تحفظ دینا ہے۔ چین کے پاکستان میں سی پیک منصوبے سے جڑے حملوں میں بلوچستان سے علیحدگی پسند تحریکوں اور عسکریت پسند تنظیموں کا ہاتھ رہا ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ اگر وہ پاکستان کے فولڈ میں آنا چاہتے ہیں، اور بین الاقوامی کوہیژن کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو کیوں نہیں۔ ہم بالکل ان سے بات کرنے کو تیار ہیں۔ وزیر دفاع نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان افغانستان میں طالبان کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا۔ انھوں نے افغانستان کی سرحدی حدود کے اندر پاکستان کی جانب سے کی گئی فوجی کارروائیوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ بالکل ہم نے ان کی سرحد کے اندر کارروائیاں کی ہیں کیونکہ ان کی سرزمین سے لوگ آ کر یہاں پاکستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں، تو ہم نے انہیں کیک، پیسٹری تو نہیں کھلانی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایسی کارروائیوں میں حملہ آوروں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور یہ کہ پاکستان مستقبل میں بھی یہ عمل جاری رکھے گا۔
پاکستان افغانستان میں طالبان کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا، خواجہ آصف



