صوبائی حکومتیں سیکیورٹی کی ذمہ داری فوج پر ڈال کر بری الذمہ نہیں ہوسکتیں، وزیراعظم

اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صوبائی حکومتیں سیکیورٹی کی ذمہ داری فوج پر ڈال کر بری الذمہ نہیں ہو سکتیں، اس طرح سے دہشتگردی کا خاتمہ نہیں ہوسکتا، دہشتگردی کیخلاف فوج کی ضروریات پوری کرنے میں کوئی کثر نہیں اٹھا رکھیں گے، یقینی بنائیں گے کہ غلط معلومات اور جھوٹ سچائی کو نہ چھپا سکے، پاکستان کے دشمنوں نے سوشل اسپیس کو زہر آلود کر رکھا ہے، اظہاررائے کا غلط استعمال اور آئین کی دھجیاں اڑانے سے بڑا کوئی جرم نہیں ہوسکتا۔ نیشنل ایکشن پلان کی اپیکس کمیٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہم سب کو مل کر دہشت گردی کو کچلنا ہے۔اپنی زیر صدارت ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کا مسئلہ کافی عرصے سے نظرانداز ہوتا رہا ہے، پاکستان کو مختلف حوالوں سے دہشت گردی کاسامنارہا، پائیدار ترقی کے لیے ملک میں آئین و قانون پر عملداری ضروری ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ جرائم، منشیات اور اسمگلنگ کا دہشت گردی سے جان لیوا تعلق ہے، انتہاپسندی اور مذہبی منافرت کا بھی دہشت گردی سے جان لیوا تعلق ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ تمام ریاستی اداروں کامشترکہ فرض ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں حکومتیں دہشت گردی کے حوالے سے بری الذمہ رہیں، گزشتہ ڈھائی دہائیوں سے دہشت گردی کے مسئلے نے سر اٹھایا، انسداد دہشت گردی کے لیے اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا پڑیگا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلح افواج کی قربانیاں بے مثال ہیں، سیکیورٹی کو ریاست کے صرف ایک ادارے پر چھوڑنا خطرناک روش ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ دہشتگردی کیخلاف کامیابی کیلئے سیاسی اور مذہبی طبقے کو کردار ادا کرنا ہوگا، ہم سب نے ملکر دہشت گردی کو کچلنا ہے، گزشتہ برسوں میں حکومتیں دہشت گردی کے حوالے سے بری الذمہ رہیں، ہم نے ہر معاملہ مسلح افواج پر چھوڑ دیا جو خطرناک روش ہے، افواج پاکستان نے ملکی حفاظت کے لیے ہمیشہ قربانیاں دیں، انسداد دہشت گردی کے لیے اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا پڑیگا۔انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ صوبے دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے اپنا حصہ ڈالیں گے، نرم ریاست سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل نہیں کرسکتی۔ انھوں نے کہاکہ افواج دہشتگردی کیخلاف جو جنگ کر رہی ہے اس کے اخراجات وفاق اٹھاتا ہے، دہشتگردی کیخلاف فوج کی ضروریات پوری کرنے میں کوئی کثر نہیں اٹھا رکھیں گے۔شہباز شریف نے کہا کہ یقینی بنائیں گے کہ غلط معلومات اور جھوٹ سچائی کو نہ چھپا سکے، پاکستان کے دشمنوں نے سوشل اسپیس کو زہر آلود کر رکھا ہے، اظہاررائے کا غلط استعمال اور آئین کی دھجیاں اڑانے سے بڑا کوئی جرم نہیں ہوسکتا، ایسے قوانین بنانے ہوں گے جو نفرت اور تقسیم کے بیانیے ختم کرسکیں۔وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کا مسئلہ پیچیدہ ہے، ملک کی پائیدار ترقی کیلئے استحکام اور قانون کی حکمرانی ضروری ہے، ریاست کی عمل داری کو نافذ کرنا میری اور ہم سب کی ذمے داری ہے۔انہوں نے کہا کہ غریب آدمی کو اپنی روزی روٹی کی فکر ہے، روزگار کی فکر ہے، مکمل نظام کے بغیر پائیدار ترقی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔



  تازہ ترین   
وزیراعظم اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ سہ روزہ دورہ پر سعودی عرب روانہ
بھارت کشمیر میں غلط معلومات پھیلا کر اپنے مظالم سے توجہ نہیں ہٹا سکتا: دفتر خارجہ
ایران میں ایک حلقہ مذاکرات، دوسرا جنگ جاری رکھنے کا حامی ہے: جے ڈی وینس
اسحاق ڈار کی مسجد نبوی ﷺ میں حاضری، پاکستان کی ترقی کیلئے دعا
وزیراعظم اپنی مدت پوری کرینگے، تمام وزارتوں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے: محسن نقوی
امریکا دوبارہ اپنے وعدوں پر عملدرآمد کیلئے تیار ہو گیا: ایرانی وزارت خارجہ
عالمی منڈیوں میں پٹرول کی قیمتوں میں کمی، پاکستان میں پھر مہنگا
عمان سے ممکنہ بحری معاہدہ آبنائے ہرمز کی فوری بحالی کی ضمانت نہیں: ایران





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر