برسلز(نیشنل ٹائمز)یورپی یونین نے اسرائیل سے رفح پر اپنے زمینی حملے فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے برعکس صورت حال یورپی یونین اسرائیل تعلقات پر “سخت دبائو” ڈالے گی۔یورپی یونین خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین اسرائیل سے رفح میں اپنی فوجی کارروائی کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس کارروائی سے غزہ میں انسانی امداد کی تقسیم میں مزید خلل پڑتا ہے اور مزید بے گھر ہونے کا خدشہ ہے۔ جو قحط اور انسانی مصائب کا باعث بنتا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ رفح میں جن مقامات پر 10لاکھ سے زائد شہریوں کو جانے کا مشورہ دیا گیا ہے وہ محفوظ نہیں سمجھی جا سکتی ہیںجبکہ یورپی یونین اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کو تسلیم کرتی ہے، اسے یہ کام بین الاقوامی قوانین کے مطابق کرنا چاہیے اور انسانی حقوق کے مطابق شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا چاہیے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین اسرائیل سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ غزہ میں پہلے سے سنگین انسانی صورتحال کو مزید خراب کرنے سے باز رہے اور رفح سرحدی چوکی کو دوبارہ کھولے۔ اسرائیل کی جانب سے رفح میں اپنی فوجی کارروائی جاری رکھنے سے لامحالہ اسرائیل کے ساتھ یورپی یونین کے تعلقات پر شدید دبائو پڑے گا۔بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے 26جنوری اور 28مارچ کے فیصلوں میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو شہریوں کو انسانی امداد کی اجازت اور سہولت فراہم کرنی چاہیے۔اس تناظر میں، یورپی یونین کریم ابو سلیم چوکی پر حماس کے حملے جس نے انسانی امداد کی ترسیل میں مزید رکاوٹ ڈال دی ہے۔ کی بھی مذمت کرتی ہے۔
اسرائیل رفح پر اپنے زمینی حملے فوری طور پر بند کردے، یورپی یونین



