واشنگٹن (نیشنل ٹائمز) امریکہ نے کہا ہے کہ چابہار بندرگاہ کے حوالے سے بھارت کی جانب سے ایران کے ساتھ کیے جانے والا معاہدہ ایران پر عائد پابندیوں سے مستثنی نہیں ہے۔یہ بات امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بھارت اور ایران کے درمیان چابہار بندرگاہ پر ہونے والے معاہدے پر ردعمل دیتے ہوئے کہی ۔ پریس بریفنگ کے دوران امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان سے جب پوچھا گیا کیا اس معاہدے کی وجہ سے بھارت پر بھی پابندیاں عائد کی جائیں گے تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وہ اس معاہدے کے بعد نئی دہلی پر کسی قسم کی پابندی عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ خیال رہے کہ ایرانی شہر چابہار کی شہید بہشتی بندرگاہ کا نظم و نسق سنبھالنے سے متعلق نئی دہلی اور تہران کے درمیان ہونے والے معاہدے پر دستخط کرنے کے محض چند گھنٹوں بعد ہی امریکہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے والوں کو واشنگٹن کی جانب سے پابندیوں کے ممکنہ خطرے سے آگاہ ہونا چاہیے۔امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان ویدانٹ پٹیل سے پریس بریفنگ کے دوران سوال پوچھا گیا کیا وہ ایران اور بھارت کے درمیان ہونے والے معاہدے سے آگاہ ہیں؟ امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل نے کہا کہ ہم ان رپورٹس سے آگاہ ہیں کہ ایران اور بھارت نے چابہار بندرگاہ سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ویدانٹ پٹیل نے اس معاہدے پر امریکا کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میں بھارتی حکومت کو ایران کے ساتھ چابہار بندرگاہ کے ساتھ ہی اپنے دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے خارجہ پالیسی کے اہداف پر بات کرنے دوں گا تاہم ایران پر عائد امریکی پابندیاں اپنی جگہ برقرار رہیں گی اور ہم ان پر پوری طریقے سے عملدرآمد جاری رکھیں گے۔
بھارت اور ایران کا چابہار بندرگاہ معاہد ہ ایران پر عائد پابندیوں سے مستثنی نہیں، امریکہ



