نیویارک (نیشنل ٹائمز )اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (یو این ایچ آر سی)نے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغان لڑکیوں میں خودکشی کی شرح میں اضافہ ہوگیا۔غیرملکی خبررساںادارے کے مطابق یواین ایچ سی آر کی جانب سے افغانستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر رپورٹ جاری کی گئی ہے ۔رپورٹ کے مطابق طالبان کی جانب سے افغان عوام کوشدید جسمانی، ذہنی اور جنسی استحصال کا سامنا ہے، طالبان کے قبضے کے بعد انسانی قوانین کی خلاف ورزیوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان نیشنل سکیورٹی فورسز کے 800 سابق اہلکاروں کو قتل کیا جاچکا ہے جبکہ طالبان رجیم میں ہزارہ کمیونٹی کے 334 افراد ہلاک اور 631 زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق جنوری 2022 سے جولائی 2023 کے دوران افغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے 1600 سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نومبر 2022 اور اپریل 2023 کے درمیان افغانستان میں اقوام متحدہ نے جسمانی سزائوں کے 43 سے زائد واقعات رپورٹ کیے، طالبان رجیم میں 58 خواتین اور 274 مردوں و بچوں کو مختلف جرائم میں کوڑے مارے گئے۔اگست 2021 سے اب تک میڈیا کی آزادی کی خلاف ورزیوں کے 245 مقدمات درج کیے گئے جن میں حراست اور جسمانی تشدد کے 130 مقدمات اور 61 صحافیوں کی گرفتاریاں شامل ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ طالبان کی کابینہ فرقہ واریت کو فروغ دیتے ہوئے محض مرد ارکان پر مشتمل ہے، طالبان نے الیکشن کمیشن، پارلیمانی امور اور امن کی وزارت کو تحلیل کردیا۔رپورٹ کے مطابق طالبان کی جانب سے نابالغ اور کمسن بچیوں کو جبری شادی کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے اور طالبان کے اقتدار کے بعد سے صحت کا نظام بھی تباہ ہو گیا ہے جبکہ افغان لڑکیوں میں خودکشی کی شرح میں سنگین حد تک اضافہ ہوا ہے۔ یواین ایچ سی آر کی رپورٹ کے مطابق 2021 سے 2022 کے درمیان چائلڈ لیبر کے 4 ہزار 519 واقعات رپورٹ ہوئے۔
طالبان کے اقتدار کے بعد افغان لڑکیوں میں خودکشی کی شرح میں اضافہ ہوگیا، اقوام متحدہ رپورٹ



