گردوں میں پتھری کا خطرہ کیسے کم کریں؟

اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)عام طور پر گردوں میں پتھری کا سامنا 40 سے 60 سال کی عمر کے درمیان افراد کو ہوتا ہے۔مگر ہر عمر کے افراد اس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔زیادہ تر جن افراد کو ایک بار گردوں میں پتھری کا سامنا ہوتا ہے، انہیں مستقبل میں بھی کم از کم ایک بار ضرور اس عارضے کا علاج کرانا پڑتا ہے۔
گردوں میں پتھری سے کیا مراد ہے؟
بنیادی طور پر یہ پتھر نہیں بلکہ منرلز اور دیگر نامیاتی مرکبات کے جمع ہونے سے بننے والے بڑے ٹکڑے ہوتے ہیں۔کیلشیئم آکسلیٹ کی پتھری سب سے عام ہوتی ہے جس کے بعد کیلشیئم فاسفیٹ اور یورک ایسڈ کا نمبر آتا ہے۔جب پیشاب میں یہ منرلز کافی زیادہ تعداد میں ہو جاتے ہیں اور مناسب سیال موجود نہیں ہوتا تو وہ سخت پتھر جیسی شکل اختیار کرلیتے ہیں جن کا حجم ریت کے ایک دانے سے لے کر ایک گولف بال جتنا ہوسکتا ہے۔یہ سخت ٹکڑے پیشاب کی نالی میں سفر کرتے ہوئے پیشاب کے بہاؤ کو بلاک کر سکتے ہیں جس سے گردوں کی سوجن کا خطرہ بڑھتا ہے۔
گردوں میں پتھری کا خطرہ کیسے کم کریں؟
گردوں میں پتھری سے بچنے کا سب سے مؤثر اور آسان ترین طریقہ بہت آسان ہے۔روزانہ زیادہ مقدار میں پانی پینا عادت بنائیں، اس مقصد کے لیے کم از کم ڈھائی لیٹر پانی پینا ضروری ہے۔سال بھر پانی کی مناسب مقدار کے استعمال سے اس تکلیف دہ عارضے سے متاثر ہونے کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔لیموں ملا پانی بھی اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ اس میں موجود citric acid منرلز کے اجتماع کی روک تھام کرتا ہے۔البتہ میٹھے مشروبات جیسے سوڈا کے استعمال سے گردوں میں پتھری کا خطرہ بڑھتا ہے تو ان کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔اگرچہ گردوں میں پتھری زیادہ تر کیلشیئم پر مبنی ہوتی ہے مگر کیلشیئم سے بھرپور غذاؤں جیسے سبز پتوں والی سبزیوں اور دودھ یا اس سے بنی مصنوعات کا استعمال اس کے خطرے میں کمی لاتا ہے۔
روزانہ کچھ مقدار میں مونگ پھلی کھانے سے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟
اسی طرح نمک کا استعمال بھی کم کرنا چاہیے جبکہ وٹامن سی سے بھرپور غذاؤں کے استعمال سے بھی گردوں میں پتھری سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔
گردوں میں پتھری کی علامات
اکثر اس عارضے کی علامات اس وقت تک نمایاں نہیں ہوتیں جب تک پتھری گردوں کے اندر حرکت نہیں کرنے لگتی یا پیشاب کی نالی تک نہیں پہنچ جاتی۔
اس کی عام علامات درج ذیل ہیں۔
آدھے سر کے درد کو آپ سے دور رکھنے میں مددگار آسان ٹپس
پسلی کے پیچھے، سائیڈ اور پشت میں شدید تکلیف ہونا۔
معدے کے نچلے حصے سے درد کی لہریں اٹھنا۔
لہروں کی شکل میں تکلیف کا سامنا ہونا جس کی شدت مسلسل بدل رہی ہو۔
پیشاب کرتے ہوئے تکلیف ہونا۔
پیشاب کی رنگت گلابی، سرخ یا بھوری ہو جانا۔
ذیابیطس کا شکار ہونے کا عندیہ دینے والی عام علامات
پیشاب بہت زیادہ بدبو دار ہونا یا اس میں جھاگ نظر آنا۔
قے اور متلی۔
بار بار پیشاب آنا۔
بخار اور کپکپی طاری ہونا، ایسا اس وقت ہوتا ہے جب انفیکشن برقرار رہے۔



  تازہ ترین   
سلمان صفدر کی عمران خان سے طویل ملاقات، رپورٹ کل سپریم کورٹ میں پیش کرینگے
پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان اقتصادی و سرمایہ کاری تعاون کے فروغ پر اتفاق
پاک فضائیہ کی سعودی عرب میں ورلڈ ڈیفنس شو 2026 میں شاندار شرکت
پشاور میں رواں سال پی ایس ایل میچز کے انعقاد کا فیصلہ
بلوچستان کو درپیش چیلنجز میں حکومت پنجاب ہر ممکن تعاون کرے گی: مریم نواز
سپریم کورٹ نے بیرسٹر سلمان صفدر کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دے دی
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کرپشن پر سیپشن انڈیکس 2025ء جاری کردیا
صدر مملکت نے ازبک ہم منصب کی دورہ ازبکستان کی دعوت قبول کر لی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر