اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی ریس مزید دلچسپ ہو گئی۔
2023 سے 2025 تک کے دو سالہ سائیکل میں ابھی مزید 16 ٹیسٹ میچز باقی ہیں اور 5 ٹیمیں لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی دوڑ میں شامل ہیں۔بھارت سے ٹیسٹ چیمپئن شپ کے پہلے دو فائنلز میں شکست کھانے والی آسٹریلین ٹیم بھی مشکلات کا شکار ہے جبکہ بھارت کے علاوہ نیوزی لینڈ، جنوبی افریقا اور سری لنکا بھی اس ریس میں شامل ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق 26 نومبر تک بھارت 110 پوائنٹس کے ساتھ پہلے جبکہ آسٹریلیا 90 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔
اس فہرست میں سری لنکا 60 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے، نیوزی لینڈ 72 پوائنٹس کے ساتھ چوتھے اور جنوبی افریقا 52 پوائنٹس کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔
ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے پوائنٹس کس طرح ملتے ہیں؟
ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں ہر ٹیم دو سال کے سائیکل میں میچز کھیلتی ہے، رواں سائیکل جون 2023 میں شروع ہوا تھا جو جون 2025 میں ختم ہوگا۔سائیکل کے دوران ہر ٹیم 6 ٹیسٹ سیریز کھیلتی ہے جس میں سے 3 ہوم گراؤنڈ پر اور 3 اوے ہوتی ہیں، ہر جتینے والی ٹیم کو 6 پوائنٹس ملتے ہیں، میچ برابر ہونے پر دونوں ٹیموں کو 6، 6 اور میچ ڈرا ہونے پر دونوں ٹیموں کو 4، 4 پوائنٹس ملتے ہیں۔
تاہم اگر کوئی ٹیم اپنی 6 ٹیسٹ سیریز کے دوران نمبر کے اعتبار سے کم یا زیادہ ٹیسٹ میچز کھیلتی ہے تو پھر اس کا حساب میچ جیت کر حاصل ہونے والے پوائنٹس کو دیکھ کر فیصد کے اعتبار سے کیا جائے گا یعنی جیت پر ملنے والے 12 پوائنٹس کے 100 فیصد، میچ برابر ہونے پر 6 پوائنٹس یعنی 50 فیصد اور میچ ڈرا ہونے پر 4 پوائنٹس یعنی 33 اعشاریہ 3 فیصد ملیں گے۔ سلو اوور ریٹ پر ٹیموں کے پوائنٹس کم بھی ہو سکتے ہیں۔



