اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)یہ انکشاف امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔مشی گن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ نیند کا یہ عام عارضہ بالغ افراد میں دماغی تنزلی کا باعث بننے والے مرض ڈیمینشیا کا خطرہ بڑھاتا ہے، خاص طورپر خواتین میں یہ خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔اس تحقیق میں 18 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی اور یہ دیکھا گیا تھا کہ اوبیسٹریکٹیو سلیپ اپنیا (او ایس اے) سے دماغی صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔کیا ہفتے میں ایک بار ورزش کرنے سے صحت کو فائدہ ہوتا ہے یا نہیں؟اوبیسٹریکٹیو سلیپ اپنیا کے شکار افراد کی سانس نیند کے دوران بار بار رکتی ہے جس سے خراٹوں کے ساتھ ساتھ متعدد طبی پیچیدگیوں کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔۵۰سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں اس عارضے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے جس سے آنے والے برسوں میں ڈیمینشیا کی تشخیص کا امکان بڑھ جاتا ہے۔تحقیق میں دیگر عناصر کو مدنظر رکھ کر بتایا گیا کہ او ایس اے کے شکار افراد میں ڈیمینشیا سے متاثر ہونے کا خطرہ دیگر مقابلے میں 5 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔تحقیق کے مطابق ہر عمر کی خواتین میں یہ خطرہ مردوں کے مقابلے میں اس وقت بڑھ جاتا ہے جب وہ او ایس اے کی شکار ہوتی ہیں۔وہ ایک عام نشانی جو 139 امراض کا اشارہ ثابت ہوسکتی ہ۔محققین نے بتایا کہ نتائج سے نیند کے اس عام عارضے اور دماغی تنزلی کے درمیان تعلق معلوم ہوتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ او ایس اے سے خواتین میں ڈیمینشیا کا خطرہ کیوں بڑھتا ہے مگر اس کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ او ایس اے کی شکار خواتین میں دل کی شریانوں کے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جس سے دماغی افعال بھی متاثر ہوتے ہیں۔کینسر جیسے جان لیوا مرض سے تحفظ فراہم کرنے والی بہترین غذا۔ محققین کے مطابق درمیانی عمر میں خواتین میں ایسٹروجن نامی ہارمون کی سطح گھٹنے لگتی ہے جس سے یادداشت، نیند اور مزاج پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور یہ سب عناصر دماغی تنزلی کا باعث بن سکتے ہیں۔اس تحقیق کے نتائج جرنل سلیپ ایڈوانسز میں شائع ہوئے۔
خراٹوں سے دماغی تنزلی کا خطرہ بڑھتا ہے، تحقیق



