اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)ہمارے پھیپھڑے ہمیشہ اپنا کام جاری رکھتے ہیں اور روزانہ ہم اوسطاً 23 ہزار بار سانس لیتے اور خارج کرتے ہیں۔سانس لینے کے عمل کے دوران ہمارے پھیپھڑے کچرے کو خارج کرتے ہیں اور آکسیجن کو خون کے ذریعے خلیات تک منتقل کرتے ہیں۔مگر موجودہ عہد میں فضائی آلودگی اور اسموگ وغیرہ سے بھی پھیپھڑوں کی صحت متاثر ہوتی ہے۔کچھ افراد کو سفر کے دوران سر چکرانے کا سامنا کیوں ہوتا ہے؟ اس سے نجات دلانے والے آسان طریقے بھی جانیںاچھی خبر یہ ہے کہ ہماری غذا اس حوالے سے اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔چند غذاؤں کے زیادہ استعمال سے زہریلی فضا سے پھیپھڑوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔
فائبر سے بھرپور غذائیں
سالم اناج، چنے، پھلوں، سبزیوں، دالوں اور گریوں میں فائبر کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے اور یہ غذائی جز ہمارے پھیپھڑوں کے لیے بہترین ہوتا ہے۔گریپ فروٹ صحت کے لیے مفید ہوتا ہے یا نہیں؟
تحقیقی رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ فائبر کے زیادہ استعمال سے پھیپھڑوں کے افعال بہتر ہوتے ہیں۔
کافی
کافی پینے کی عادت پھیپھڑوں کی صحت کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے۔تحقیقی رپورٹس کے مطابق کافی پینے کی عادت اور صحت مند پھیپھڑوں کے درمیان تعلق موجود ہے۔ذیابیطس جیسے مرض سے بچنے کیلئے ہر ہفتے کتنی مقدار میں دہی کھانی چاہیے؟اس کی وجہ کافی میں موجود کیفین ہے جو ورم کش جز ہے جبکہ اس گرم مشروب میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس بھی ورم کی روک تھام کرتے ہیں۔
سالم اناج
سالم اناج (Whole Grain) پھیپھڑوں کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے۔بھورے چاول، سالم گندم کی روٹی، پاستا اور جو وغیرہ میں فائبر کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جبکہ اناج کی یہ اقسام اینٹی آکسائیڈنٹس اور ورم کش بھی ہوتی ہیں۔معدے کے ورم سے تحفظ فراہم کرنے والی 5 آسان عادات۔اسی طرح ان میں موجود وٹامن ای اور فیٹی ایسڈز بھی پھیپھڑوں کی صحت کو بہتر بناتے ہیں۔
بیریز
اسٹرا بیری اور بلیو بیری میں ایسے نباتاتی مرکبات موجود ہوتے ہیں جو پھیپھڑوں کی صحت کے لیے مفید ہوتے ہیں۔تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ ان بیریز میں موجود anthocyanin نامی مرکب عمر بڑھنے کے ساتھ پھیپھڑوں میں آنے والی تنزلی کی رفتار سست کرتا ہے۔نزلہ زکام سے بچنے کا آسان ترین طریقہ جسے کوئی بھی اپنا سکتا ہے
سبز پتوں والی سبزیاں
پالک، ساگ اور دیگر سبز پتوں والی سبزیوں کا استعمال پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ کم کرتا ہے۔
دودھ یا اسے بنی مصنوعات
تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ دودھ، پنیر، دہی اور دودھ سے بنی دیگر مصنوعات کے استعمال سے پھیپھڑوں کے کینسر سے موت کا خطرہ کم ہوتا ہے۔دودھ یا اس سے بنی مصنوعات ورم کش ہوتی ہیں جس سے پھیپھڑوں کے مختلف امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔وہ نشانیاں جو دماغی تھکاوٹ کا اشارہ دیتی ہیںالبتہ دمہ یا پھیپھڑوں کے دیگر مسائل کے شکار افراد کو دودھ یا اس سے بنی مصنوعات کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے سے کرنا چاہیے۔
ٹماٹر
ٹماٹر میں لائیکو پین نامی اینٹی آکسائیڈنٹ موجود ہوتا ہے جو پھیپھڑوں کے لیے مفید ہوتا ہے۔اگر آپ دمہ کے مریض ہیں تو ٹماٹر کھانے یا اس سے بنی مصنوعات کے استعمال سے سانس کی نالی کا ورم کم ہوتا ہے۔لائیکوپین کے استعمال سے پھیپھڑوں کے افعال میں تنزلی کی رفتار بھی گھٹ جاتی ہے، درحقیقت یہ فائدہ ان افراد کو بھی ہوتا ہے جو تمباکو نوشی کے عادی ہوتے ہیں۔
فضائی آلودگی کے اثرات سے پھیپھڑوں کو لڑنے میں مدد فراہم کرنیوالی بہترین غذائیں



