کراچی (نیشنل ٹائمز) گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ مہنگائی میں کمی کے اثرات مانیٹری پالیسی ریٹ پرمرتب ہوتے ہیں،آئی ایم کی قسط آنے کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر 10 ارب ڈالرز تک آگئے،ایس ایم ای فنانسنگ کا حجم 550 ارب روپے اگلے پانچ سالوں میں 1.1 ٹریلین تک پہنچانے کا ہدف ہے،ڈالرز کی سپلائی اس وقت بہتر ہے، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سٹیٹ بینک کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کے پاس رقم کی کمی نہیں ہے جس کے باعث بینکوں کے قرض کی ادائیگی وقت سے پہلے کررہے ہیں۔
آئی ایم کی قسط آنے کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر 10 ارب ڈالرز تک آگئے جو اب دو ماہ امپورٹ کے برابر ہے۔حکومت کے مالی معاملات میں بہتری آئی ہے جس کے باعث بینکوں سے قرض کی شرح میں کمی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بینکس کے اندر جب انٹرنیٹ کا استعمال ہوتا ہے تو آن۔لائن فراڈ بڑھتے ہیں۔فاریکس مارکیٹ میں اس وقت روپے پر کوئی دباو¿ نہیںہم نے بینکوں کو تنبیہ کردی ہے اپنی سائبر سیکیورٹی کو بہتر بنائیں۔
پانچ ڈیجیٹل بینکوں کولائسنس دیاتھا،مکمل ڈیجیٹل بینکنگ 2025 میں شروع کرینگے۔ایک بینک ڈیجیٹل بینکنگ میں تین ماہ میں بینکنگ کا آغاز کرینگے جبکہ باقی 2025 میں مکمل آپریشنز کے ساتھ کام کرینگے ۔دوسری جانب مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران پاکستان کی برآمدات میں 97 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوگیا۔ مجموعی برآمدات 7 ارب 87 کروڑ 50 ڈالر سے زائد ہوگئیں۔
مالی سال کی پہلی سہ ماہی یعنی جولائی تا ستمبر میں برآمدات میں چودہ اعشاریہ ایک ایک فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی برآمدات 7 ارب 87 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں۔ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ برآمدات 6 ارب 90 کروڑ ڈالر تھیں۔ درآمدات میں بھی نو اعشاریہ آٹھ چھ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ان کا مجموعی حجم 13 ارب 31کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔ تجارتی خسارے میں چار اعشاریہ دو چار فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد جولائی تا ستمبر کے دوران تجارتی خسارہ پانچ ارب تینتالیس کروڑ ڈالر سے زائد رہا۔
اگست کے مقابلے میں ستمبر 2024 میں بھی برآمدات میں ایک اعشاریہ پانچ چھ فیصد اضافہ ہوا اور برآمدات کا حجم دو ارب 76 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھا، جبکہ تجارتی خسارے میں بھی ایک اعشاریہ آٹھ نو فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔



