ستمبر اور اکتوبر میں مہنگائی کی شرح 8 سے 9 فیصد تک رہنے کا امکان ہے

اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) وفاقی وزارت خزانہ کی ماہانہ اقتصادی اپڈیٹ میں کہا گیا ہےکہ ستمبر اور اکتوبر میں مہنگائی کی شرح 8 سے 9 فیصد تک رہنے کا امکان ہے، مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں آچکی ہے، صنعتی پیداوار بھی بڑھ رہی ہے، ستمبر میں برآمدات3 ارب ڈالرز تک رہنے کی توقع ہے۔ میڈیا کے مطابق وزارت خزانہ کی ماہانہ اقتصادی اپڈیٹ میں کہا گیا کہ بڑی صنعتوں کی پیداوار میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے، اہم برآمدی شعبے پیداوار میں اضافہ کیلئے تیار ہیں جس کی بنیادی وجہ مستحکم ایکسچینج ریٹ، افراط زر کے دبائو میں کمی اور کاروبار دوست ماحول کی فراہمی ہے، زری پالیسی میں نرمی کی وجہ سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے، عالمی معیشت کے استحکام سے پائیدار صنعتی ترقی کا عمل مزید بہتر ہو گا۔

وزارت خزانہ نے کہا کہ خریف 2024ء کی فصلوں کا انحصار موسمیاتی عوامل پر ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق ستمبر اور اکتوبر میں مہنگائی کی شرح 8 سے 9 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے، ستمبر میں ملکی برآمدات 2.5 ارب ڈالر سے لے کر 3 ارب ڈالر اور درآمدات 4.5 ارب ڈالر سے لے کر 5 ارب ڈالر تک رہنے کا امکان ہے، اسی طرح ترسیلات زر کا حجم 2.7 ارب ڈالر سے لے کر 3.2 ارب ڈالر کے درمیان رہے گا۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اقتصادی اپ ڈیٹ کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے دو ماہ میں ترسیلات زر میں 44 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا، مالی سال کے پہلے دو ماہ میں ترسیلات زر کا حجم 5.93 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 4.124 ارب ڈالر تھا۔ مالی سال کے پہلے دو ماہ میں ملکی برآمدات کا حجم 4.862 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 4.536 ارب ڈالر کے مقابلہ میں 7.2 فیصد زیادہ ہے۔
مالی سال کے پہلے دو ماہ میں درآمدات کا حجم 9.53 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 8.37 ارب ڈالر تھا۔ مالی سال کے پہلے دو ماہ میں حسابات جاریہ کے کھاتوں کا خسارہ 171 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 893 ملین ڈالر کے مقابلہ میں 80.9 فیصد کم ہے۔ مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم 350.3 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 225.2 ملین ڈالر کے مقابلہ میں 55.5 فیصد زیادہ ہے۔
اگست میں حسابات جاریہ کے کھاتوں کا توازن 75 ملین ڈالر فاضل ریکارڈ کیا گیا۔ مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم 453.2 ملین ڈالر رہا جو گذشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 252 ملین ڈالر کے مقابلہ میں 79.9 فیصد زیادہ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 20 ستمبر 2023ء کو زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم 13.079 ریکارڈ کیا گیا تھا جو 20 ستمبر 2024ء کو 14.873 ارب ڈالر ہو گیا۔ گذشتہ سال 20 ستمبر کو ایکسچینج ریٹ 293.89 روپے تھا جو رواں سال 20 ستمبر کو 277.84 روپے رہا۔
جولائی میں ایف بی آر کے محاصل کا حجم 1.456 ٹریلین روپے ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 1.207 ٹریلین روپے کے مقابلہ میں 20.6 فیصد زیادہ ہے۔ مالی خسارے کا حجم جولائی میں 387.8 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ سال جولائی میں 225.3 ارب روپے تھا۔ پرائمری بیلنس کا حجم 107.1 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ سال جولائی میں 311.2 ارب روپے تھا۔
پرائمری خسارہ میں 65.6 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ نیوزایجنسی کے مطابق وزارت خزانہ کے مطابق 12 ستمبر کو پالیسی ریٹ 17.5 فیصد کی سطح پر ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ سال 14 ستمبر کو 22 فیصد کی سطح پر تھا۔ اگست میں صارفین کیلئے قیمتوں کا اشاریہ 9.6 فیصد کی سطح پر ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ سال اگست میں 27.4 فیصد تھا۔ مالی سال کے پہلے دو ماہ میں صارفین کیلئے قیمتوں کا اشاریہ 10.4 فیصد کی سطح پر ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 27.8 فیصد کی سطح پر تھا۔
جولائی کے دوران بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 2.4 فیصد کی شرح سے نمو ہوئی۔ گذشتہ سال جولائی میں یہ شرح منفی 5.4 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ وزارت خزانہ کے مطابق 26 ستمبر کو پاکستان سٹاک ایکسچینج کا انڈیکس 81 ہزار 658 پوائنٹس کی بلند سطح پر ریکارڈ کیا گیا۔ گذشتہ سال 24 ستمبر کو انڈیکس 45 ہزار 889 پوائنٹس ریکارڈ کیا گیا تھا۔ 26 ستمبر کو مارکیٹ کیپٹلائزیشن کا حجم 38.56 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ سال 24 ستمبر کو 23.23 ارب ڈالر تھا۔



  تازہ ترین   
ٹرمپ آبنائے ہرمز کے بغیر بھی جنگ ختم کرنے پر آمادہ: امریکی اخبار، عرب ممالک اخراجات دیں: وائٹ ہاؤس
ثالثی پیشکش نیک نیتی پر مبنی، فیصلے فریقین نے خود کرنے ہیں: سفیر پاکستان
اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کا متنازعہ قانون منظور
ایران کے اسرائیل اور امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ویپن سپورٹ تنصیبات پر حملے
مشاورتی اجلاس: صوبوں کی سمارٹ لاک ڈاؤن کی مخالفت، کفایت شعاری اقدامات کا عزم
بھارت کی ایک اور فالس فلیگ کی سازش بے نقاب ہوگئی:ذرائع
جنگ کے خاتمے کا کوئی بھی فیصلہ ہماری شرائط پر ہوگا: ایرانی صدر کا واضح پیغام
مشکل کی اس گھڑی میں معاشی طور پر کمزور عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے: وزیراعظم





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر