اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) پندرہ دنوں کے دوران بین الاقوامی مارکیٹ میں پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 5 ڈالر فی بیرل کی کمی آگئی ہے جبکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مستحکم ہونے سے پیٹرولیم مصنوعات کے ساتھ ساتھ بجلی کی قیمتوں میں کمی ممکن ہے اور موجودہ ٹیکس کی شرح کے مطابق پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں 10 سے 11 روپے فی لیٹر کمی ہو سکتی ہے.
ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں پیٹرول کی اوسط قیمت 81 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر 76 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے آ گئی جبکہ گزشتہ پندرہ دنوں کے دوران ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 88اعشاریہ5 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر تقریباً 83 ڈالر فی بیرل ہو گئی، موجودہ پندرہ دن کے دوران پیٹرول اور ایچ ایس ڈی پر درآمدی پریمیم عام طور پر 8.5 اور 5 ڈالر فی بیرل پر مستحکم رہا، دوسری جانب کرنسی ایکسچینج ریٹ بھی مستحکم ہے.
حالیہ ایکس ڈیپوٹ پیٹرول کی قیمت 259 روپے 91 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 262 روپے 75 پیسے روپے فی لیٹر ہے جب کہ یکم ستمبر سے سامنے آنے والی قیمتوں کے جائزے میں حکومت نے پیٹرول اور ایچ ایس ڈی کی قیمتوں میں بالترتیب ایک روپے 86 پیسے اور تین روپے 32 پیسے فی لیٹر کی کمی کی تھی، اس طرح گزشتہ پندرہ دنوں میں پیٹرول اور ایچ ایس ڈی کی کل کمی بالترتیب سولہ روپے 50 پیسے اور 19 روپے 88 پیسے فی لیٹر رہی ہے.
جولائی کے پہلے پندرہ دنوں میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں سترہ روپے 44 پیسے اور پندرہ روپے 74 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا تھا جبکہ یکم مئی سے 15 جولائی تک کے درمیان پیٹرول اور ایچ ایس ڈی کی قیمتوں میں بالترتیب تقریبا پینتیس روپے اور بائیس روپے فی لیٹر کی کمی کی گئی تھی. ماہرین کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کے ٹیکس اہداف کو پورا کرنے کے لیے حکومت پیٹرولیم لیوی کی شرح کو 5 روپے فی لیٹر بڑھا سکتی ہے تاکہ کم قیمتوں کا سے فائدہ اٹھا کر موجودہ مالی سال کے ابتدائی دو ماہ کے دوران ایف بی آر کے 100 ارب روپے کے محصولات کے خسارے کا کچھ حصہ پورا کیا جا سکے اس صورت میں قیمت میں کمی تقریباً 5 سے 6 روپے فی لیٹر ہوگی.
حکومت نے مالیاتی بل میں پیٹرولیم لیوی کی زیادہ سے زیادہ حد 70 روپے فی لیٹر تک بڑھا دی ہے جبکہ ہائی اسپیڈڈیزل پر لیوی کی شرح78روپے فی لیٹرہے اسی طرح 18روپے فی لیٹرکسٹم ڈیوٹی وصول کی جاتی ہے وفاقی حکومت اس مدمیں اگلے مالی سال میں 12 کھرب 8 ارب روپے جمع کرنا چاہتی ہے لیوی اور کسٹم ڈیوٹی کے علاوہ پیٹرولیم مصنوعات پر17 روپے فی لیٹر تقسیم اور تیل کمپنیوں اور ڈیلرزکے مارجن کی مد میں وصول کیئے جاتے ہیں اس طرح شہریوں کو پیٹرولیم مصنوعات پر فی لیٹر 105روپے ٹیکس کی مد میں اداکرنا پڑتے ہیں جو کہ دنیا میں بلند ترین شرح ہے .
پچھلے مالی سال میں حکومت نے پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسوں کی مد میں10 کھرب 19 ارب روپے کی وصولی کی جبکہ رواں مالی سال کے دوران یہ ہدف جون میں ختم ہونے والے مالی سال کے مقابلے میں 150 ارب روپے زیادہ ہے بجٹ یہ ہدف 869 ارب روپے رکھا گیا تھا. پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) حکومت کے بڑے آمدنی کے ذرائع ہیں، جن کی ماہانہ فروخت تقریباً 7 لاکھ سے 8 لاکھ ٹن کے درمیان ہے، جبکہ کیروسین کی طلب صرف 10 ہزار ٹن ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت اگر پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا فیصلہ نہ کرے تو مسلسل چوتھی مرتبہ پیٹرولیم مصنوعات، پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں 15 ستمبر سے تقریبا 10 روپے فی لیٹر کمی متوقع ہے.
پیٹرول بنیادی طور پر نجی ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں، اور دو پہیے والی گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے اور یہ براہ راست درمیانے اور کم درمیانے طبقوں کے بجٹ پر اثر انداز ہوتا ہے دوسری جانب زیادہ تر ٹرانسپورٹ سیکٹراور زرعی مشنری ہائی اسپیڈ ڈیزل پر چلتی ہے، ایچ ایس ڈی کی قیمت کو مہنگائی کا سبب سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ بنیادی طور پر بھاری ٹرانسپورٹ گاڑیوں، ٹرینوں اور زرعی انجنوں جیسے ٹرکوں، بسوں، ٹریکٹروں، ٹیوب ویلز اور تھریشرز میں استعمال ہوتا ہے اور خاص طور پر سبزیوں اور دیگر خوراک کی قیمتوں پر اثر ڈالتا ہے پیٹرولیم کی قیمتوں میں کمی شاذ و نادر ہی کرایوں اور ضروری اشیا کی قیمتوں کی کمی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے.
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایف بی آر ٹیکس اہداف بجلی‘گیس کے بلو ں ‘پیٹرولیم مصنوعات اور خوراک واشیاءضروریہ پر ٹیکسوں سے پورا کرتا ہے جو حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے کیونکہ دنیا میں بڑی صنعتیں‘کاروبار‘سرمایہ کار اور کارپویٹ سیکٹرٹیکسوں کا بڑا ذریعہ ہیں جبکہ یوٹیلٹی بلوں‘ اشیاءضروریہ اور پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کی شرح کم رکھی جاتی ہے تاکہ عام شہریوں کو مہنگائی سے بچایا جاسکے .
انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں سے دعوؤں کے باوجود ایف بی آر بڑی صنعتوں‘کاروبار‘سرمایہ کاروں اور کارپوریٹ سیکٹر سے ٹیکس وصول کرنے میں ناکام رہا ہے یہ حکومتوں کی ناکامی ہے کہ وہ ٹیکس اہداف کو پورا کرنے کے لیے ایف بی آر کو ایسے اقدامات کی اجازت دیتی آرہی ہیں. انہوں نے کہا کہ حکومتوں کو ٹھوس پالیسی بنانے کی ضرورت ہے صنعت کار‘سرمایہ دار اور کارپوریٹ سیکٹرہڑتال پر جانے کی دھمکی دے کر حکومتوں کو جھکا لیتا ہے جبکہ عوام ہڑتال پر نہیں جاسکتے مسابقتی کمشین‘محتسب کے ادارے ہونے کے باوجود صارفین کے تحفظ کے قوانین صرف کتابو ں تک محدودہیں اور صارفین کے حقوق کے بارے میں عام شہریوں میں آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے ایف بی آر کے ذریعے حکومتیں عوام کا معاشی استحصال کرتی چلی آرہی ہیں.
ماہرین کا کہنا ہے کہ اعلی عدالتوں کے پاس اختیارات ہیں اور آئین انہیں پابند بناتا ہے کہ وہ جہاں بھی ناانصافی اور استحصال ہوتا دیکھیں وہ ازخودنوٹس لے کراس پر حکم جاری کرسکتی ہیں لہذا اعلی عدلیہ کو چاہیے کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے عوام کے معاشی استحصال کو روکے۔



