اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) مرکزی رہنماء ن لیگ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ عمران خان کا مجھے کوئی سیاسی مستقبل نظر نہیں آرہا، آئینی قانونی مشکلات میں بھی اضافہ ہوگا، جنرل باجوہ اور نظام کو خراب کرنے والوں کا احتساب بہت ضروری ہے ، نوازشریف پر کئی کیسز بنائے گئے لیکن ایک کیس بھی کرپشن کا نہیں تھا، ملکی معیشت ، امن کیلئے اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کا یک جان اور دوقالب ہونا کوئی حرج نہیں۔
عمران خان کا مجھے سیاسی مستقبل نظر نہیں آرہا، آئینی قانون مشکلات ہوں گی تو ہر کوئی کہے گا بالکل مشکلات ہیں۔ انہوں نے سماء نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی بڑا لیڈر ہو تو پھر اس کی پسند ، دلچسپی اگر دائرے کے اندر ہے، معیوب نہیں ہے تو برداشت کرلینی چاہئے۔
کوئی ایسی سیاست نہیں ہے جو رائے ونڈ ہو سکتی ہے لیکن مری میں ہوسکتی ، ہم لوگ زمانہ مقام سے نکل چکے ہیں۔
تفریح کرنا بھی لیڈر کا حق ہے، یہ حق سلب نہیں کرسکتے کہ وہ بڑا لیڈر ہوگیا ہے۔ فیض حمید سے متعلق پارٹی کا جہاں تک تعلق ہے ، مسلم لیگ ن کو باہر کرنا ، عمران خان کو حکومت میں لانا، ججز کو مینیج کرنا، پارٹی کا جو بیانیہ رہا ہے کہ جیسے میاں نوازشریف خود بھی کہتے رہے کہ مجھے کیوں نکالا، یہ چیپٹر تو بند ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل باجوہ نے درخت پر آخری ضرب لگانے والا آخری کردار تھا،ورنہ آپ لوگوں کو پتا ہے کہ کہانی لندن سے چلتی ، طاہر القادری آتے ہیں، پاشا ، ظہیر السلام ، جنرل باجوہ اور آصف غفور کیا کرتے ہیں؟یہ ایک لمبی داستان ہے۔
جنرل باجوہ آخری کردار تھا جس کے ماتھے پر لکھا گیا۔ معاملا ت کو اس قدر نہیں پھیلانا چاہتے کہ جو شخص کٹہرے میں کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ اور حکومت میں گہری دوستی ہے اور معیشت، سرمایہ کاری، امن وامان سے متعلق معاملات ٹھیک چل رہے ہیں اور اگر ہم اسٹیبلشمنٹ کو کسی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے تو وہ بھی ٹھیک ہے۔ موجودہ جو فصل ہے یہ پچھلے لوگوں نے بوئی تھی اور آج ہم کاٹ رہے ہیں ۔
عرفان صدیقی نے کہا کہ جنرل باجوہ اور نظام کو خراب کرنے والوں کا احتساب بہت ضروری ہے ، نوازشریف پر کئی کیسز بنائے گئے لیکن ایک کیس بھی کرپشن کا نہیں تھا، ملکی معیشت ، امن کیلئے اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کا یک جان اور دوقالب ہونا کوئی حرج نہیں۔ عمران خان کا مجھے سیاسی مستقبل نظر نہیں آرہا، آئینی قانون مشکلات ہوں گی تو ہر کوئی کہے گا بالکل مشکلات ہیں۔



