لاہور (نیشنل ٹائمز) کچے کے ڈاکو شاہد لوند نے اپنا نام ڈاکوؤں کے سر کی قیمت والی فہرست میں شامل کرنے پر محکمہ داخلہ پنجاب کے نمبر پر کال ملا کر شکوہ شروع کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس پر حملے کے بعد حکومت پنجاب اور وزارت داخلہ نے بیس ڈاکوؤں کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر کی تھی، لسٹ میں پہلے نمبر پر موجود ڈاکو نے محکمہ داخلہ کے نمبر پر کال کرکے کہا کہ پولیس اہلکاروں کی گاڑی پھنسی تو کسی نے مدد نہیں کی، افسران کے خلاف کارروائی کی جائے، جنہوں نے پولیس اہلکاروں کو شہید کیا ان میں سے کسی کا نام اشتہار میں نہیں دیا گیا، ڈاکوؤں کے سر کی قیمت والی لسٹ فوری ختم کرکے نئی تیار کی جائیں۔
بتایا جارہا ہے کہ پنجاب حکومت نے کچے کے خطرناک ڈاکوؤں کے سر کی قیمت 10 لاکھ سے بڑھا کر 1 کروڑ روپے مقرر کر دی، محکمہ داخلہ پنجاب نے کچے کے 20 خطرناک ڈاکوؤں کے نام، تصاویر اور سر کی قیمت جاری کر دی، مطلوب ڈاکوؤں میں شاہد ولد کمال، مجیب ولد امان اللہ، وہاب ولد امان اللہ، غنی ولد علی بخش، احمر عرف شوبی ولد رسول، احمد ولد رسول، عطا اللہ ولد اللہ دتہ، سبز علی ولد اللہ دتہ، قبول ولد میوہ، میرا ولد حضوری، دریجن عرف دادو شامل ہیں۔
ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ گورا ولد حسین، ثنا اللہ ولد جھانگل، تنویر عرف دودھر، راہب شر، عمر شر ولد ساون، ظہور ولد اکبر، مورزادہ ولد عبداللہ، گل حسن ولد عالم اور صداری ولد مراد بھی اس فہرست شامل ہیں، ان ڈاکوؤں کے بارے میں خفیہ اطلاع دینے کے لیے محکمہ داخلہ کے واٹس ایپ نمبر 03334002653 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے، اطلاع دہندہ کا نام ہر صورت صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔



