نارتھ امریکا میں مقیم پاکستانی نژاد نارتھ امریکن محمد علی جو سینئر صحافی اور کراچی پریس کلب کے 40 سال پرانے ممبر ہیں۔وہ سندھ حکومت میں بھی اعلی عہدوں پر مقیم رہے ہیں۔
انہوں نے حال ہی میں ایک کالم لکھا ہے جس میں انہوں نے کراچی چھوڑنے کی اپنی دکھ بھری وجوہات لکھی ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ جب ہمارے بچوں کو تعلیمی اداروں میں نہ داخلے ملیں گے اور نہ ہی نوکریاں ملیں گی تو پھر وہ یہاں کیوں رہیں۔وہ سوال کرتے ہیں کہ آج امریکا اور کینیڈا میں تمام اہم پوسٹوں پر صرف کراچی اور پنجاب کے لوگ کام کرتے ہیں کیوں سندھ، پختونخوا اور بلوچستان کے لوگ نہیں ہیں؟۔
اپنے وقت میں این ای ڈی یونیورسٹی سے ٹاپ کرنے والے مظاہر اکبر کراچی کے حالات سے مایوس ہو کر پاکستان کو خیر باد کہہ گئے اور اب نارتھ امریکا میں مقیم ہیں۔ انہیں کینیڈا میں دنیا کے سب سے بڑے پاور انرجی پلانٹ(بجلی پیدا کرنے والا پلانٹ) میں چیف انجینئر رہنے کا اعزاز حاصل ہے۔پاکستان جو آج بجلی کے بحران کا شکار ہے کیا مظاہر اکبر اور ان جیسے دیگر کراچی کے باشندوں سے مستفید نہیں ہو سکتے؟۔
وہ لکھتے ہیں کہ کراچی کی سڑکوں سمیت جتنی بھی تباہی یہاں نظر آرہی ہے اس تمام تر صورتحال کی مکمل طور پر ذمہ دار صرف اور صرف متعصب سندھ حکومت ہے۔
وہ لکھتے ہیں کہ کراچی کبھی بھی سندھ کا حصہ نہیں تھا۔۔۔۔۔۔
قائد اعظم نے فروری 1947 میں کراچی کو کیپٹل بنانے کا اعلان کیا تھا۔۔۔۔۔ہندوستان سے بیوروکریٹ پاکستان کا انتظام سنبھالنے اسی وقت سے آنا شروع ہو گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔اس وقت پورے پاکستان سندھی، پنجابی، پٹھان اور بلوچوں میں کوئی ایک بھی سوائے پنجاب کے غلام محمد کے کوئی ایک بھی آئی سی ایس(انڈین سول سروس) آفیسر نہیں تھا اور نہ کوئی ہنر مند تھے جو پاکستان کے معاملات کو سنبھالتے۔۔۔۔۔۔۔۔وہ لکھتے ہیں کہ میرے والد بھی فروری 1947 میں پاکستان آگئے تھے۔۔۔۔۔۔۔اس طرح اور بھی بیشمار آئی سی ایس آفیسر اور ہنرمند پاکستان آگئے تھے تاکہ پاکستان کا انتظام سنبھال سکیں۔۔۔۔۔۔۔انہیں رائل انڈین ائیر فورس سے کراچی بھیجا گیا تھا۔۔۔۔۔۔وہ ڈرگ روڈ میں ایربیس کے میس میں ٹہرے۔۔۔۔۔۔بیوی بچے آنے کے بعد وہ ایئرفورس کوارٹر میں شفٹ ہو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس زمانے میں قائد اعظم کے اعلان کے بعد ان کے پاس انگریزوں کے نمائندے آئی اے عثمانی آئے تھے اور انہوں نے قائد اعظم سے کہا تھا کہ آپ لاہور،جھرک یا کہیں بھی کسی بھی شہر کو کیپٹل بنا لیں لیکن کراچی کو چھوڑ دیں اسے برٹش کنٹرول میں رہنے دیں۔۔۔لیکن اس تجویز کو قائد اعظم نے مسترد کر دیا۔
قائد اعظم نے سندھ کی حکومت کو اس زمانے میں 75 لاکھ روپے دیئے کہ سندھ اسمبلی کو یہاں سے فورا” حیدرآباد شفٹ کر لیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔پہلے اسمبلی این جے وی اسکول میں بنائی گئی اور پھر حیدرآباد منتقل کر دی گئی۔۔۔۔۔۔سندھ اسمبلی کی جگہ پاکستان اسمبلی بن گئی۔۔۔۔۔پھر جب 1970 میں کراچی کو یحییٰ خان نے کور کمانڈروں اور جی ایچ کیو کے جنرلوں کے دباؤ میں کراچی کو سندھ میں شامل کیا۔۔۔۔اس وقت کوئی ریفرنڈم نہیں کروایا گیا اور بغیر کسی ریفرنڈم کے جنرلوں کے ڈنڈے کے زور پر سندھیوں اور مہاجروں کی مخالفت کے باوجود کراچی کو سندھ میں شامل کر دیا گیا۔۔۔۔۔۔۔سندھیوں نے جی ایم سید، پیر علی محمد راشدی اور بھٹو کی اپیل پر پورے سندھ میں ہڑتال کی۔ 3 دن تک ہڑتال رہی۔۔۔۔۔اسی طرح کراچی میں مرزا جواد بیگ اور آزاد بن حیدر کی اپیل پر ہڑتال ہوئی۔۔۔۔۔۔۔پھر کوٹہ سسٹم نافذ کرنے کی شرط پر ہڑتال ختم کی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھ سمیت تمام سینئرز نے اپنے ہوش و حواس میں کراچی کو آزاد دیکھا ہے۔۔۔۔کراچی کی آزاد فضاؤں میں سانس لیا ہے۔کراچی جو پورے سندھ کو 95 فیصد ریوینو دیتا جبکہ 50 فیصد کے قریب پورے پاکستان کو ریونیو دیتا ہے پھر اسے یتیم خانہ کیوں بنا دیا گیا؟۔ یہ سوال آج کراچی کا ہر باشندہ کر رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ جب کراچی تباہ ہو رہا ہے تو کیا پاکستان ترقی کر سکتا ہے؟۔ یہ سوال ہم پورے پاکستانیوں پر چھوڑتے ہیں خاص طور پر پاکستان کے اصل حکمرانوں پر چھوڑتے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ شہباز شریف پاکستان کے اصل حکمران نہیں ہیں۔
Karachi was never part of Sindh . Quaid e Azam had announced in February 1947 that Karachi would be the Capital of Pakistan . The beaureucrat from India had started coming to take hold of Pakistan from that day when his father had in February 1947 came to Pakistan when he was sent Royal Indian Air Force was sent to Karachi and he had stayed at Drigh Road Air Base Mess and as after his wife and children came then he shifted to Air Force Quarter ! British Tout came to Quaid e Azam and said to him that You make the Capital either Lahore or Jhirak or anywhere in Pakistan but leave Karachi for the British Control but Quaid e Azam had rejected that proposal and he gave Rs 75,00,000/-that Sindh Assembly be shifted to Hyderabad. Firstly the Sindh Assembly was at NJV High School at Bunder Road then it was shifted to Hyderabad Sind. In place of Sindh Assembly Pakistan Assembly was Built . Then in 1970 Karachi was merged with General Yahya Khan under the pressure of Core Commanders and GHQ Generals,in to Sindh then the Sindhis GM Syed, Pir Ali Muhammad Rashdi and Z A Bhutto Appeal on stick in whole of Sindh there was a 3 days strike which was called off on the condition/assurance of Quota System! We have watched Karachi as a free City in our senses !



