ایمل ولی پر تنقید کا جواب

موروثی سیاست کو لیکر ایمل ولی خان پر تنقید کرنے والے شاید پوری دنیا اور خصوصاً جنوبی ایشیا اور مشرقی بعید کے بیشتر ممالک کی سیاسی تاریخ سے نابلد ہیں جہاں بہت سارے سیاسی خاندان نہ صرف سیاست میں بڑھ چھڑ کر حصہ لیتے آرہے ہیں بلکہ ملک کے حکمران بھی چلے آرہے ہیں ابھی کل ہی یعنی ۱۸ اکست ۲۰۲۴ کو تھائی لینڈ کے شیناوترا خاندان سے تعلق رکھنے والی جواں سالہ خاتون 37 سالہ پیٹونگترن شیناوترا تھائی لینڈ کی وزیراعظم بن گئی جو ۲۰۰۱ سے ۲۰۰۶ تک وزیراعظم رہنے والے ٹکسن شیناوترا کی بیٹی اور ۲۰۱۱ سے ۲۰۱۴ تک وزیرعظم رہنے والے ینگ لک شیناوترا کی بھتجی ہے
۰پاکستان میں پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ن، جے یو آئی اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کی مثالیں بھی ھمارے سامنے ہیں ۰
اس طرح انڈیا میں نہرو خاندان سے تین وزراءعظم جواہر لال نہرو، اندرا گاندھی، راجیوگاندھی منتخب ہوئے اور اب اسی کانگرس پارٹی کی صدارت نہرو خاندان ہی کے سپوت راھول گاندھی کے سپرد ہے۰
کشمیر میں شیخ فیملی کے شیخ عبداللّہ، فاروق عبداللّہ اور بیٹا عمر عبداللِہ جموں و کشمیر کے وزارت اعلی کے منصب پر فائز رہے ہیں۰
بنگلہ دیش میں جنرل ارشاد کے مختصر دور کو چھوڑ کر باقی دو ہی خاندان شیخ مجیب الرحمان اور اسکی بیٹی حسینہ واجد، جنرل ضیاءالرحمان اور اور اسکی بیوی خالدہ ضیاء حکمران چلے آرہے ہیں
سری لنکا میں راجہ پکسا کے خاندان میں دو صدور اور ایک وزیر اعظم رہا ہے ۰ اس کے علاوہ بندرانائیکے خاندان میں وزیراعظم مسٹر بندرانائیکے کے قتل کے بعد اسکی بیوی مسز بندرانائیکے وزیراعظم بنی اور پھر انکی بیٹی چوندریکا کمارا ٹنگا اور سری ماؤ بندرانائیکے وزراءاعظم منتخب ہوئیں۰
انڈونیشیا میں سوئیکارنو اور ان کی بیٹی میگاوتی سوئیکارنو پوتری دونوں نے بطور صدر خدمات انجام دیں۔ میگاوتی کی بیٹی پوان مہارانی اس وقت عوامی نمائندہ کونسل کی اسپیکر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔
فلپائن میں، Aquino خاندان کے دو افراد (Tarlac سے تعلق رکھنے والے) صدر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، Corazon Aquino (جنہوں نے 1986 – 1992 تک خدمات انجام دیں) اور اس کے بیٹے Benigno Aquino III (جنہوں نے 2010 – 2016 تک خدمات انجام دیں)۔

اسطرح میکاپیگل خاندان کے دو ارکان بھی تھے جنہوں نے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں، ڈیوسڈاڈو میکاپگل (جنہوں نے 1961 – 1965 تک خدمات انجام دیں) اور ان کی بیٹی گلوریا میکاپگل اررویو (جنہوں نے 2001 – 2010 تک خدمات انجام دیں)۔ بعد ازاں مارکوس خاندان، جو اپنی کلیپٹوکریٹک حکمرانی کے لیے جانا جاتا ہے، کے دو صدر ہوں گے: فرڈینینڈ سینئر (جو 1965 سے لے کر 1986 میں ان کی برطرفی تک خدمات انجام دیتے رہے) اور اس کا ہم نام بیٹا، فرڈینینڈ جونیئر، جسے بڑے پیمانے پر “بونگ بونگ” کے نام سے جانا جاتا ہے، جو اس وقت صدر ہیں۔ 2022 سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ خاندان نے ایک سینیٹر بھی تیار کیا، فرڈینینڈ سینئر کی بیٹی آئیمی جو 2019 سے خدمات انجام دے رہی ہے
ملائیشیا میں، عبدالرزاق حسین 1970 سے 1976 تک وزیر اعظم رہے، اور ان کے بیٹے نجیب رزاق، جنہیں بعد میں بدعنوانی کے الزام میں سزا سنائی گئی اور جیل کی سزا سنائی گئی، 2009 سے 2018 تک وزیر اعظم رہے
سنگاپور میں وزیر اعظم لی ہیسین لونگ سنگاپور کے پہلے وزیر اعظم لیکوان یو کے بیٹے ہیں

شمالی کوریا کی کِم فیملی : شمالی کوریا کے بانی صدر کم اِل سونگ کی وفات کے بعد انکے بیٹے کم جونگ وون صدر بنے۰
جنوبی کوریا میں، Park Geun-hye اور اس کےوالد Park Chung Hee دونوں، جنوبی کوریا کے صدر تھے
امریکہ : جان ایڈم خاندان : امریکہ میں دوسرے امریکی صدر جان ایڈم کا بیٹا جان کوئنسی ایڈم چھٹے امریکی صدر منتخب ہوئے اور پھر ایڈم خاندان 1797 سے لیکر 1933 تک مختلف ادوار میں امریکی سیاست میں کلیدی عہدوں پر فائز چلے آرہے ہیں ۰
امریکہ کی ہیریسن فیملی ،لنکن فیملی ،الفانسو ٹافٹ فیملی،روزویلٹ فیملی، کینیڈی فیملی ، بش فیملی، کلنٹن فیملی ، بائیڈن اور ٹرمپ فیملیز ۰ یہ اور انکے علاوہ وہ خاندان جن کے افراد یعنی بیٹے یا کزنز ملکی صدارت سے لیکر مختلف ریاستوں کے
گورنرز اور ھاؤس آف ریپریزنٹیٹیو تک کے ارکان منتخب ہوتے چلے آرہے ہیں

اسی طرح برطانیہ جسے پارلیمانی جمہوریت کی ماں کا درجہ حاصل ہے اس میں برطانوی شاہی خاندان کو چھوڑ کر بھی بیشمار ایسے خاندان موجود ہیں جن کے افراد مختلف ادوار میں پارٹی اور حکومتی عہدوں پر براجماں رہے ہیں جن میں مشہور
pitt family, Cavendish family,Chamberlain Family, Churchil family, Foot family, kinnock family,Hogg, family , Pasley family holy family اور Jihnson family شامل ہیں
انکے علاوہ لاطینی امریکہ کے ممالک برازیل,چلی،جمیئکا،میکسیکو سمیت جاپان,یونان,کینڈا, قازقستان ، آزربائیجان،لاؤس، لبنان، لتھوینیا، لٹویا استونیا اور ماؤریشیئس جیسے دیگر ممالک میں بھی خاندانی سیاست اور حکمرانی کی واضح مثالیں موجود ہیں
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر سیاسی طور پر کسی میں اہلیت اور صلاحیت ہے اور اس نے سیاسی جدوجہد کے بل بوتے اپنی جگہ بنا لی ہے تو اسکا کسی کا باپ بیٹا،بھائی یا رشتہ دار ہونا کوئی منفی پوائنٹ نہیں ہونا چاہیئے
۰ جہاں تک ایمل ولی خان کے خاندان کا تعق ہے تو مندرجہ بالا تمام خاندانوں نے کرسی اور اقتدار کے حصول کی سیاست کی ہے کبھی کامیاب بھی ہوئے تو کبھی ناکام بھی رہے۰ جبکہ ایمل ولی خان کے باپ اسفندیار ولی خان ، دادا عبدالولی خان اور پڑ دادا عبدالغفار خان باچاخان نے ھمیشہ خدمت کی سیاست کی ہے۰فیرنگی کی غلامی سے آزادی کی جدوجہد میں قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم کرنے کے بعد مملکت خداداد پاکستان میں بھی آج تک جمہوریت،آئین وقانون کی بالادستی،مظلوم اور پسے ہوئے طبقات کے حقوق کی جنگ لڑتے چلے آرہے ہیں جس کی پاداش میں ان پر ظلم و تشدد کے پہاڑ تھوڑے گئے انکو جیلوں میں ڈالا گیا، گھر مسمار کروائے گئے،جائیدادیں ضبظ کروائی گئی اور بے پناہ ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑا۰باچاخان کے خاندان کی سیاست پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں بھرا راستہ ہے جس پر چلنے والوں کے مقدر میں جیلیں، کوڑے اور غداری کے خطابات ہوتے ہیں نہ کہ تخت و تاج۔ لہذا اس راستے پر اپنے اکلوتے بیٹے کو ڈالنا بڑے دل گردے کا کام ہے جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔
محفوظ جان
صدر عوامی نیشنل پارٹی برطانیہ



  تازہ ترین   
مشرق وسطیٰ تنازع پر ثالثی کیلئے آج اسلام آباد میں بڑی بیٹھک ہوگی
ایران نے آبنائے ہرمز سے 20 پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو گزرنے کی اجازت دیدی: اسحاق ڈار
30 واں روز: ایران کا 500 امریکی فوجی ہلاک و زخمی، ایف 16 طیارہ گرانے کا دعویٰ
3500 اضافی امریکی میرین مشرق وسطیٰ پہنچ گئے: سینیٹ کام کی تصدیق
امریکہ سمیت مختلف ممالک میں ٹرمپ کے خلاف ’نو کنگز‘ تحریک کا آغاز، لاکھوں افراد سڑکوں پر
پاکستان سے تمام مسائل افہام وتفہیم کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں: افغان وزیر خارجہ
ایران کے راستے برآمدات: بینک گارنٹی اور کریڈٹ لیٹر کی شرط عارضی معطل
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سٹاف لیول معاہدہ طے





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر