اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) انٹرنیٹ سروسز کے تعطل کی وجہ سے ای کامرس کمپنیاں پاکستان چھوڑ کر جانے لگیں، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا ایپس سست ہونے سے بزنس متاثر ہونے لگا، آئی ٹی سیکٹر کی ایکسپورٹ میں 3 ارب ڈالرز نقصان کا خدشہ پیدا ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ سروسز کی سست رفتاری اور تعطل کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال تشویش ناک شکل اختیار کر گئی ہے۔
اس حوالے سے جمعرات کے روز ہونے والے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کے اجلاس کے دوران اہم انکشافات ہوئے۔ سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں سینیٹ کمیٹی نے ملک بھر میں انٹرنیٹ کی حالیہ رکاوٹوں کے مسئلہ پر غور کیا جو ای کامرس کاروبار چلانے والے افراد کے لیے حقیقی وقت میں رکاوٹوں کا باعث بن رہے ہیں۔
اجلاس کے دوران سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ ملک کو پہلے ہی معاشی بحران کا سامنا ہے اور اگر انٹرنیٹ کا مسئلہ حل نہ ہوا تو ملک کو آئی ٹی سیکٹر کی برآمدات میں 3 ارب ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔ انٹرنیٹ سست ہونے سے کم از کم 500 ملین کا نقصان ہوا ہے، بہت سے ای کامرس کمپنیاں چھوڑ کر جا رہی ہیں۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کی سیکرٹری عائشہ حمیرا چوہدری نے وضاحت کی کہ براڈ بینڈ کنکشن کا کوئی مسئلہ نہیں ہے تاہم موبائل ڈیٹا استعمال کرنے والے موبائل آپریٹرز کو رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
پی ٹی اے اس مسئلہ کا جائزہ لے رہا ہے، اور دو ہفتوں میں وزارت ایک جائزہ فراہم کرنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہوگی۔ دوسری جانب پاکستان میں انٹرنیٹ سروسز کے تعطل پر پاکستان سافٹ ویئر ہائوسز ایسوسی ایشن نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ٹی کمپنیوں کا بڑے پیمانے پر ملک سے اخراج کا خدشہ ظاہر کر دیا گیا، فائر وال کے عجلت میں نفاذ سے سنگین نتائج برآمد ہوئے، ترقی کرتی آئی ٹی انڈسٹری کو بد ترین تباہی کا سامنا ہے، انٹرنیٹ منقطع ہونے سے ابتدائی طور پر 300 ملین ڈالرز کا نقصان ہوا، یہ سلسلہ بر قرار رہنے کی وجہ سے نقصان میں مزید تیزی سے اضافہ ہوگا۔



