تحریر: عابد حسین قریشی
چودہ اگست، محض ایک یوم آزادی نہیں ہے۔ یہ مسلمانان بر صغیر کے انتھک عزم و حوصلہ، جہد مسلسل اور بے مثل قربانیوں کی ایک عظیم داستان ہے۔ یہ اللہ تعالٰی کا اپنے حبیب مکرم نبی آخری الزماں صل للہ علیہ وآلہ وسلم کے وسیلہ جلیلہ کی وہ نشانی ہے کہ جسکی بدولت بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح لندن میں اپنی آرام و آسائش والی زندگی چھوڑ کر اپنی خرابی صحت کے باوجود قافلہ حریت کی قیادت و سیادت کے لیے واپس ہندوستان تشریف لائے۔اور پھر تن تنہا انگریز اور ہندو کی مکارانہ چالوں کا مقابلہ بڑے وقار، بردباری، متانت، حوصلہ اور بصیرت و دانش مندی سے کیا اور چند ہی سالوں میں ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ پاکستان کا قیام اس دو قومی نظریہ کی فتح و کامرانی تھی، جسکا خواب علامہ اقبال نے دیکھا اور اسے عملی جامہ قائداعظم کی انتھک اور بے لوث جدوجہد نے پہنچایا۔ قائد کی جلد رحلت اور بعد کے حکمرانوں نے قوم کو یقیناً مایوس بھی کیا۔آج کا دن ہمارے 77 سالوں کی کامیابیوں اور ناکامیوں کی ایک داستان بھی ہے۔ یہ ہمارے ادھورے خوابوں کی ، ہماری بکھری ہوئی اور ان کہی اور ان سنی خواہشات کی، ہماری ہوس ، حرص، خود غرضی، اور انا پرستی کی ہوشربا کہانی بھی تو ہے۔
مگر یہ دن ہماری تمام انفرادی اور اجتماعی کوتاہیوں کے باوجود ایک قابل فخر دن ہے۔ خوشی و انبساط کا دن ہے۔فتح و کامرانی کا دن ہے، مسرت و شادمانی کا دن ہے، کہ اللہ تعالٰی نے ہمیں ایک ایسا خطہ زمین عطا کیا، کہ جہاں ہم اپنی مرضی کی زندگی گزار سکیں۔ آزادی کے بعد ہماری اٹھان کمال کی تھی۔ ہماری ترقی پر ہمسایہ ممالک رشک کرتے تھے۔ پھر ہمیں شاید نظر لگ گئی۔ ہمارا سیاسی نظام تو خراب ہوا ہی، مگر یہ ہماری پھلتی پھولتی معشیت کو بھی کھا گیا۔ ہماری زراعت، صنعت، ایئر لائن، ڈیم، ریلوے، نہری نظام سب کچھ ہی تو قابل رشک تھا۔ مگر ہمارے سیاسی عدم استحکام نے,شخصیت پرستی کے سحر نے ہمارے اداروں کو رو بہ زوال رکھا۔ ہماری سیاسی , معاشی اور انتظامی بےاعتدالیوں اور لغزشوں نے ہمیں بھیک مانگنے پر مجبور کر دیا۔ ہماری کمزور و نحیف جمہوریت رک رک کر چلتی رہی اور چل چل کر رکتی رہی۔ چلیں اگر اب بھی سنبھل جائیں تو بہت کچھ بچایا جاسکتا ہے، بہت کچھ سمیٹا جا سکتا ہے۔ یہ ملک ہے تو ہم ہیں، اسی کی آن، بان اور شان ہمیں جینے کی امنگ اور ترنگ دیتی ہے۔ آزادی وہ نعمت ہے کہ جس کا اظہار شاید الفاظ میں ممکن نہیں۔ اگر ہم یہ آزاد ملک نہ حاصل کر پاتے تو ہمارا بھی وہی حشر ہوتا جو آج بھارت میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں سے ہو رہا ہے۔ ہم لوگ جو اس آزادی کے طفیل بڑے بڑے عہدوں تک پہنچے شاید متحدہ ہندوستان میں کلرکی بھی حاصل نہ کر پاتے۔ اس پاکستان نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے، شاید ہم اسے وہ کچھ لوٹا نہیں سکے۔جو اسکا ہم پر حق بنتا تھا۔ یوم آزادی پر اس ملک سے شکوے شکایت کرنے کی بجائے تمام تر سیاسی وابستگیوں اور اختلافات سے بالاتر ہو کر اس کی ترقی و استحکام، اسکی عظمت و شان، اور اسکے اعتماد اور مان کو بڑھائیں کہ یہ ملک اپنی مشکلات سے نکلنے میں سرخرو ہو اور اپنی کھوئی ہوئی عزت و وقار اور خوشحالی کو دوبارہ حاصل کر سکے۔



