ڈھاکہ (نیشنل ٹائمز) بنگلہ دیش کے چیف جسٹس عبید الحسن نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا،چیف جسٹس شام تک اپنا استعفیٰ صدر شہاب الدین کو بھجوادیں،غیر ملکی میڈیا کے مطابق طلباء،وکلاءاور سینکڑوں مظاہرین سپریم کورٹ کے احاطے میں جمع ہوگئے اور انہوں نے بنگلہ دیش کے چیف جسٹس کو مستعفی ہونے کیلئے ایک بجے تک الٹی میٹم دیاگیاتھا،تفصیلات کے مطابق طلبہ مظاہرین ججز کے احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیںاور انہوں نے سپریم کورٹ کی عمارت کو گھیرے میں لے لیاتھا۔
مظاہرین نے چیف جسٹس کو ایک گھنٹے کا الٹی میٹم دیا کہ وہ مستعفی ہو جائیں۔ طلبہ سمیت سیکڑوں مظاہرین نے بنگلادیش کی سپریم کورٹ کا گھیراو کرلیاتھاجس کے بعد یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں تھیں کہ صورتحال تیزی سے خراب ہونے پر چیف جسٹس سپریم کورٹ کی عمارت سے بھاگ گئے تھے۔
میڈیا رپورٹس مطابق ڈھاکا میں سینکڑوں مظاہرین نے سپریم کورٹ کا گھیراو کر لیا تھا انہوں نے استعفیٰ نہ دینے کی صورت میں ججوں کی رہائش گاہوں پر دھاوا بولنے کا اعلان کیا تھا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق چیف جسٹس نے نئی بننے والی عبوری حکومت سے مشاورت کے بغیر فل کورٹ اجلاس بلایا تھا جس کے بعد مظاہرہ شروع ہوا تاہم کشیدگی بڑھنے پر فل کورٹ میٹنگ کو اچانک ملتوی کردیا گیا۔طلبہ مظاہرین نے الزام لگایا ہے کہ عدالت کے ججز ایک سازش کا حصہ ہیں جو غم و غصے کو ہوا دے رہے ہیں۔غیرملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ طلبا تحریک کے مظاہرین فل کورٹ میٹنگ کو عدلیہ کی جانب سے بغاوت قرار دے رہے ہیں۔
طلبہ مظاہرین ججز کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے اور چیف جسٹس کو ایک گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے کہ وہ مستعفی ہو جائیں۔ طلبہ مظاہرین ججز کے احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں اور سپریم کورٹ کو گھیرے میں لئے مظاہرین نے چیف جسٹس کو ایک گھنٹے کا الٹی میٹم دے دیا ہے کہ وہ مستعفی ہو جائیں۔بنگلادیشی طلبا کے احتجاج کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبید الحسن نے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
بنگلا دیشی میڈیا کے مطابق چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ وہ صدر شہاب الدین سے مشاورت کے بعد باضابطہ قدم اٹھایں گے۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس اور تمام ججوں کے استعفے تک سڑکوں پر رہیں گے، جبکہ عبوری حکومت کا طلبا تحریک کو دبانے کیلئے دائر فوجداری مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔مشیروزارت قانون، انصاف اور پارلیمانی امور ڈاکٹر آصف نذر کا اجلاس کے بعد اعلان کیا گیا کہ اس کے علاوہ یکم جولائی سے 5 اگست کے درمیان دائر مقدمات 3 دن میں واپس لئے جائیں گے۔



