اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)آئی ایم ایف نے سٹیشنری پر ٹیکس چھوٹ دینے سے انکار کر دیا،پاکستان او ر عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کے درمیان سٹیشنری کے ٹیکس پر ورچوئل مذاکرات ناکام ہو گئے،آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پین، سٹیپلر، مارکر، کیلکو لیٹرز، شارپنرز پر ٹیکس برقرار رہے گا، بچوں کے آرٹ سپلائز اور سٹکی نوٹس پر بھی ٹیکس کا اطلاق ہو گا۔
ہائی لائٹرز، پنچنگ مشینز، پنسل باکس پر جی ایس ٹی ٹیکس برقرار رہے گا۔حکومت کی جانب سے بجٹ میں سٹیشنری آئٹمز پر 10 فیصد سیلز ٹیکس لگا گیا تھا۔ ٹیکس بڑھنے سے جولائی میں سٹیشنری آئٹمز کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ 10 فیصد سیلز ٹیکس کے باعث سٹیشنری آئٹمز 15 فیصد مہنگی ہو چکی ہیں۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے آئی ایم ایف سے سٹیشنری پر طویل مزاکرات کئے گئے۔
آئی ایم ایف نے سیلز ٹیکس کی شرط بڑے پیمانے پر سٹیشنری درآمد ہونے پر عائد کی ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل بھی آئی ایم ایف نے مجوزہ فنانس بل 2024-25 کے بیشتر آئٹمز پر رعایت دینے سے انکارکیا تھا اور صرف ٹیکسٹ بکس پر جی ایس ٹی کے خاتمے اور پروفیسرز و ریسرچرز کے ریبیٹ کی بحالی اور سیمنٹ پر وفاقی ایکسائز ڈیوٹی کی واپسی اور دیگر تکنیکی تبدیلیوں پر اتفاق کیا گیا تھا تاہم آئی ایم ایف کی جانب سے اسٹیشنری کے دیگر آئٹمز پنسلوں، شاپنرز اور دیگر اسٹیشنری پر 18 فیصد ٹیکس ہر صورت لگانے کا کہاگیاتھا۔
پاکستان اور آئی ایم ایف نے ورچوئل مذاکرات گزشتہ کئی دن سے جاری رہے تھے۔ حکومت نے آئی ایم ایف سے سٹیشنری آئٹمز پر جی ایس ٹی ہٹانے کی اجازت طلب کی تھی لیکن آئی ایم ایف نے اس کی اجازت نہیں دی تھی۔یہ بھی بتایاگیا تھا کہ سیمنٹ پر وفاقی ایکسائز ڈیوٹی میں تخفیف کے متبادل آپشنز کے طور پر حکومت نے بیرون ملک جانے کےلئے ہوائی جہازوں کے ٹکٹس پر ایف ای ڈی بڑھانے حتیٰ کہ اس کی شرح دگنا کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔حکومت نے برآمد کنندگان پر متعین ٹیکس نظام کی بحالی تجویز کوآگے بڑھاتے ہوئے اسے ایک سے دو یا تین فیصد تک بڑھانے کا کہا تھا اورآئی ایم ایف سے آمادگی حاصل کرنے کی کوشش کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اس کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔



