لاہور (نیشنل ٹائمز) کاروباری ہفتے کے آغاز پر اسٹاک مارکیٹ میں بدترین مندی، 100 انڈیکس میں 1 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان اسٹاک مارکیٹ پر چھائے مندی کے بادل چھٹنے کا نام نہیں لے رہے۔ حال ہی میں 81 ہزار پوائنٹس کی بلند ترین سطح کو بھی عبور کر جانے والی پاکستان اسٹاک ایکسچینج چند ہی روز میں 4 ہزار سے زائد پوائنٹس کی مجموعی مندی کا شکار ہو چکی، جس کے باعث اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس 77 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد سے بھی گرنے کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔
پیر کے روز کاروباری ہفتے کا آغاز بھی پاکستان اسٹاک مارکیٹ کیلئے انتہائی بدترین ثابت ہوا۔ پیر کے روز پاکستان سٹاک مارکیٹ میں منفی رجحان رہا جس کے باعث سرمایہ کاروں کو اربوں کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔
آج کاروبار کے اختتام پر پاکستان سٹاک ایکسچینج میں 100 انڈیکس 1141 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 77ہزار 84 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا ۔ پیر کے روز اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز 66 پوائنٹس کی تیزی کے ساتھ ہوا اور 100 انڈیکس بڑھ کر 78292 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔
بعد ازاں مارکیٹ اس قدر مندی کا شکار ہوئی کہ 100 انڈیکس 78 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح کھو بیٹھا۔ مارکیٹ میں مجموعی طورپر440کمپنیوں کے حصص کالین دین ہوا، 129کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 259 کی قیمتوں میں کمی اور52 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کوئی ردوبدل نہیں ہوا۔مجموعی طورپر501.19 ملین حصص کالین دین ہوا جن کی مالیت 21.057 ارب روپے تھی۔
کے ایس ای 30انڈیکس 279.01 پوائنٹس کی کمی کے بعد24851.91 پوائنٹس اوراسلامی مالیات کاحامل کے ایم آء 30 انڈیکس 1812 پوائنٹس کی کمی کے بعد121946.79 پوائنٹس پربندہوا۔ فیوچرٹریڈنگ کے تحت 6.618 ارب روپے کالین دین ہوا۔ مارکیٹ کیپٹلائزیشن کاحجم 36.9 ارب ڈالرریکارڈکیاگیا۔



